پاکستان میں انتہا پسندوں اور کالعدم تنظیموں کا جشن کیوں جاری ہے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ ہم تیس سال پُرانے سیاسی دور میں لوٹ رہے ہیں جہاں نہ نیا پاکستان ہے نہ ہی پُرانا . فرقہ واریت، انتہا پسندی اور تشدد سے مسلح یہ معاشرہ وہاں آ کھڑا ہوا ہے جہاں تین دہائیاں پہلے تھا۔ چپکے چپکے چوری چوری انتہاپسندی سے روکنے والا قانون ایک بار پھر مملکت کو وہیں دھکیل رہا ہے جہاں سے آگ کا کھیل شروع ہوا تھا۔ اس ہڑبونگ اور بھیڑ چال میں وہ متنازعہ قانون سازی ہوئی جس پر کالعدم تنظیمیں بھنگڑے ڈال رہی ہیں اور انتہاپسند جشن منا رہے ہیں. اپنی ایک تحریر میں عاصمہ شیرازی لکھتی ہیں کہ تشدد کو روکنے کے لیے مزید تشدد، انتہا پسندی کو روکنے کے لیے مزید انتہا پسندی، غداری سے روکنے کے لیے مزید غدار بنانے کے قوانین تو حال ہی میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے جمہوری جماعتوں کے جلو میں منظور کیے ہیں جبکہ ریاست خاموش تماشائی بنی رہی۔ تشدد اور انتہا پسندی کا حالیہ قانون کمزور اور پسے ہوئے طبقات کے لیے ایک اور خوف بن گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے وزیر مملکت برائے قانون کے ہاتھوں پیش کردہ قانون سے خود وزیر مملکت انکاری تھے تو ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے ن لیگ کے وزیر قانون اور وزیر داخلہ۔۔۔ پارلیمنٹ کی راہداریوں میں اس قدر قانون سازی کی بے حرمتی نہ دیکھی جو اتحادی حکومت کے آخری دنوں میں ملاحظہ کی۔ البتہ شیری رحمن کے اعتراضات ریکارڈ پر رہے کہ انتہا پسندی سے متعلقہ قانون سازی میں جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ یہ بل نہ صرف متنازعہ ہے بلکہ اس پر اتفاق موجود نہیں۔ شیری رحمٰن کی آواز نقار خانے میں طوطی سے بھی کم ثابت ہوئی اور تمام جماعتوں بشمول تحریک انصاف، ن لیگ اور یہاں تک کہ پیپلز پارٹی کے چند سینٹرز کی خاموشی رضامندی بن گئی۔ ایک اور متنازعہ بل ایوان سے منظور ہوا۔اکا دُکا کے علاوہ سب نے ہاں میں ہاں ملائی اور پھر صدا آئی کہ وہ ایک صفحہ پھر میسر ہوا جس کے لیے اپوزیشن میں سیاسی جماعتیں انقلاب اور حکومت میں اتفاق جبکہ حزب اختلاف میں مخالفت اور اقتدار میں مصالحت سے تشبیہ دیتی ہیں۔ عاصمہ شیرازی لکھتی ہیں کہ آوازیں، شور، افراتفری۔۔۔ ایک ہنگامہ برپا ہے۔ کانوں پر ہاتھ ہیں اور آنکھوں پر پٹیاں، ہونٹ مضطرب، ہلتے ہیں مگر بغیر آواز کے، زندگی ایک مشق سی ہو گئی۔ ہم بے حس ہو گئے یا احساس کے لیے وقت ہی نہیں بچا۔ سانحے پہ سانحہ، حادثے پہ حادثہ، ایک کے بعد ایک خبر، دو پل سوچنے کا وقت اور پھر رواں دواں، یہ زندگی ہے یا مصلحت۔ فصلوں کی رکھوالی کے لیے تخلیق کردہ بجوکے موسموں کی شدت میں بے رنگ اور بے جسم ہو چکے ہیں۔ بجوکے گھاس پھونس سے بنے وہ انسان نُما ہیں جو فصلوں کو نوچنے والے پرندوں سے بچاتے ہیں مگر جب بجوکے ہی مرداروں کے پروں کے نیچے بنائے جائیں، جب بجوکے نامکمل اور بے ترتیب ہوں، جب ادھورے ہاتھ، پاؤں اور آنکھیں، اُدھڑا ہوا جسم، سہاروں سے لٹکتا ہوا ڈھانچہ کھیت کے عین وسط میں بے چارگی کی تصویر ہو تو گدھ، کوّے، چیلیں کب کچھ چھوڑتے ہیں۔ یہی ہماری ریاست کے ساتھ ہوا ہے۔ دو رُخی اور مفادات میں لپٹی پالیسیوں نے ریاست کو وہ بجوکا بنا دیا ہے جس کے اُدھڑے جسم سے لٹکتے چیتھڑے ہماری بے بسی کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ عیسیٰ نگری کے باسی پرچم کے سفید رنگ کو جسم سے لپیٹے حق مانگ رہے ہیں، قبروں سے اکھاڑے جانے والے احمدی اب منوں مٹی تلے بھی امان مانگتے ہیں تو کبھی کافر کافر کے فتووں میں اسلام بچاتے مسلمان بھی آپس میں دست و گریبان ہیں۔. فرقہ واریت، انتہا پسندی اور تشدد سے مسلح یہ معاشرہ وہاں آ کھڑا ہوا ہے جہاں تین دہائیاں پہلے تھا۔
