تحریکِ لبیک کا لانگ مارچ: رینجرز طلب، مذاکرات جاری


پنجاب حکومت نے کالعدم مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کو اسلام آباد کی جانب مارچ سے روکنے کے لیے رینجرز کے دستوں کو طلب کرلیا ہے جبکہ ٹی ایل پی کے رہنماؤں سے مذاکرت کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ تاہم ابھی تک نہ تو مذاکرات کامیاب ہوپائے ہیں اور نہ ہی ہی ٹی ایل پی نے اپنے موقف میں کوئی نرمی دکھائی ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے تصدیق کی ہے کہ تحریک لبیک کی ریلی سے نمٹنے کے لیے رینجرز کو شہر میں طلب کر لیا گیا ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق مظاہرین کو اسلام آباد جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس وقت پولیس کی نفری ملتان روڈ پر واقع تحریکِ لبیک کے صدر دفتر مسجد رحمت العالمین کے باہر تعینات ہے جبکہ علاقے میں کنٹینرز بھی پہنچا دئیے گئے ہیں۔ تحریک لبیک کی قیادت حکومتی مذاکراتی ٹیم سے فرانسیسی سفیر کے معاملے پر معاہدے پر عمل کرنے پر اصرار کر رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق حکومت کی ہدایات کا انتظار کیا جا رہا ہے اور احکامات کی صورت میں ریلی کے نکلنے کے راستے پر کنٹینر لگا کر اسے روکا جائے گا۔ پولیس حکام کے مطابق پنجاب حکومت اور ٹی ایل پی رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں فی الحال کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ مذاکرات میں تحریکِ لبیک کی قیادت کا اصرار ہے کہ حکومت اپنے ماضی کے دعوؤں کا پاس رکھے۔
یاد رہے کہ لاہور اور اسلام آباد میں پولیس اور انتظامیہ نے متعدد اہم شاہراہیں بند کر رکھی ہیں تاکہ تحریک لبیک کے قافلوں کو لاہور سے اسلام آباد کی جانب جانے سے روکا جا سکے۔ اس دوران تحریک لبیک کے درجنوں کارکنان کو بھی لاہور سے حراست میں لیا گیا ہے۔ جمعہ کے روز صبح سے ہی اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقعہ فیض آباد چوک اور راولپنڈی سٹیڈیم روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ راولپنڈی کی مرکزی شاہراہ مری روڈ کو بھی متعدد جگہوں سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جس سے دونوں شہریوں کو آمد و رفت میں کافی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
اس سے پہلے ترجمان تحریک لبیک نے اعلان کی اس تھا کہ جماعت کے کارکن بعد از نماز جمعہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کریں گے۔ تنظیم کی مرکزی شوریٰ کہہ چکی ہے کہ اگر مارچ روکنے کی کوشش کی گئی تو ‘ہمارے پاس پلان بی بھی موجود ہے۔‘ واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی آج ایک روزہ دورے پر لاہور پہنچے ہیں۔ ٹی ایل پی کی لانگ مارچ سے قبل حکام کی جانب سے موٹروے ایم ٹو پر لاہور کے قریب بابو صابو انٹرچینج کو بند رکھا گیا ہے، جبکہ اسلام آباد کے داخلی راستوں اور مرکزی شاہراہوں کو جزوی یا مکمل طور پر بند کرنے کے لیے کنٹینرز لگائے گئے ہیں۔
اس وقت مری روڈ اور فیض آباد ٹریفک کے لیے بند ہیں جبکہ اسلام آباد ایکسپریس وے پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ ان کے مطابق سٹیڈیم روڈ کو بھی دونوں جانب ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ لاہور میں کالعدم تحریک لبیک کے کارکن دھرنے پر بیٹھے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت ان کی جماعت کے ساتھ چند ماہ پہلے کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد کرے۔ اس کے علاوہ وہ سعد رضوی کی رہائی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں جو پچھلے چھ ماہ سے قید میں ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور امن و امان کی صورتحال خراب نہیں ہونے دی جائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ اگر کالعدم تحریک لبیک کے مطالبے پر پاکستان سے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا گیا تو پاکستان کے یورپی ممالک سے تعلقات کشیدہ ہو جائیں گے لہذا اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک کا اپریل میں ہونے والے دھرنا فرانس کے سفیر کی ملک بدری پر بحث کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کے بعد ختم کیا گیا تھا۔ تاہم اب اچانک تحریک لبیک نے دوبارہ سے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کردیا ہے جس کی بنیادی وجہ علامہ سعد رضوی کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے جو پچھلے چھ ماہ سے قید میں ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ دو مختلف مواقع پر علامہ سعد رضوی کی رہائی کے احکامات جاری کر چکی ہے لیکن پنجاب حکومت ان احکامات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور اس کا موقف ہے کہ علامہ سعد رضوی کی رہائی کی صورت میں تحریک لبیک دوبارہ سے پرتشدد مظاہروں پر اتر آئے گی اس لیے ابھی انہیں رہا نہیں کیا جا سکتا۔

Back to top button