تحریک انصاف کا قومی اسمبلی کی فوری تحلیل کا مطالبہ مسترد

ملک بھر میں ایک ہی روز انتخابات کرانے کے حوالے سے جہاں حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں وہیں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کے گھر چھاپے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں لانگ مارچ کی حکمت عملی بنا لی ہے جس سے الیکشن کے معاملے پر بات چیت کے ذریعے حل نکلنے میں مزید مشکلات حائل ہو گئی ہیں۔

ادھر بعض حکومتی وزرا، جو مذاکراتی کمیٹی کا حصہ نہیں، نے پہلے سے ہی بات چیت ناکام ہونے کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔ جیسے وزیر دفاع خواجہ آصف نے گذشتہ روز کہا کہ بہتر ہوگا اگر تحریکِ انصاف احتجاج کرے تاکہ یہ مذاکرات تو ختم ہوں۔

خیال رہے کہ حکومتی اتحاد اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور منگل کو ہو گا۔ دونوں طرف سے یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ منگل کو انتخابات کے معاملے پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔بات چیت کے آغاز سے ہی دونوں جانب ’اعتماد کی کمی‘ واضح ہے اور دونوں طرف شکایت ہے کہ فریقین بات چیت کے لیے ’سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔‘

تاہم حالات اس وقت کشیدہ ہوئے جب لاہور میں پولیس اور اینٹی کرپشن کی ٹیم نے سابق وزیر اعلی پنجاب اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما چوہدری پرویز الہی کو گرفتار کرنے کے لیے ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری نے پرویز الہی کے گھر پر پولیس چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومت مذاکرات کر رہی ہے تو دوسری طرف گرفتاریاں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم وفاقی حکومت نے اس معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

شاہ محمود قریشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پی ٹی آئی کے کارکنان کی گرفتاریوں اور انھیں ہراساں کرنے کا معاملہ مذاکراتی کمیٹی کے سامنے بھی اٹھایا ہے جبکہ پرویز الہی کے گھر چھاپے سے متعلق ان کا ’اسحاق ڈار سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔‘شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’اسحاق ڈار نے کہا کہ اس معاملے سے وفاق کا تعلق نہیں، یہ پنجاب حکومت نے کیا ہے جبکہ پنجاب حکومت انکاری ہے۔‘تحریک انصاف کی قیادت نے دعویٰ کیا ہے کہ بات چیت کے دوران پرویز الہی کے گھر چھاپے سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے افراد کی بظاہر اپنی حکومت میں کوئی حیثیت نہیں۔

شاہ محمود قریشی یہ مانتے ہیں کہ فریقین کے درمیان ’عدم اعتماد شدت کے ساتھ موجود ہے اور اس کی وجہ خود پی ڈی ایم اتحاد میں شامل دراڑیں ہیں۔ حکومتی اتحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ مولانا فضل الرحمان جو اس اتحاد کے صدر ہیں وہ مذاکرات کے حق میں نہیں۔ ’ملک کے وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رکن خواجہ آصف آج بھی مذاکرات اور اس ٹیم کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریکِ انصاف بالکل احتجاج کرے تاکہ یہ مذاکرات تو ختم ہوں۔ خواجہ آصف کا مذاکرات سے متعلق مزید کہنا تھا کہ ’پتا نہیں جائز طریقے سے بٹھایا گیا ہے یا ناجائز طریقے سے۔ یہ تو ہم اتمامِ حجت کر رہے ہیں۔‘

ایسے میں مذاکرات کیا رخ اختیار کریں گے، کیا ان سے کسی ٹھوس نتیجے کی امید رکھی جا سکتی ہے؟ اس بارے میں  تجزیہ کار اس صورتحال سے زیادہ پُرامید نظر نہیں آتے۔

سینیئر صحافی عاصمہ شیرازی حکومتی پریشانی کو آئی ایم ایف کے ساتھ اب تک معاہدہ حتمی نہ ہونے سے جوڑتی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ حکومتی اتحاد کو امید تھی کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ طے ہوجائے گا اور حکومت عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب ہو جائے گی جو انتخابات میں جانے سے پہلے ضروری اقدام ہے مگر ایسا نہیں ہوا۔وہ کہتی ہیں کہ ’یہ صورتحال سمجھ سے بالاتر ہے۔ حکومت اور تحریک انصاف دونوں ہی چاہتے ہیں کہ الیکشن ایک دن ہوں۔ عمران خان دو صوبائی اسمبلیوں میں کسی کو وزیراعلیٰ بنانے پر تو کام نہیں کر رہے تھے، وہ بھی یہی چاہتے تھے کہ نیشنل ایکشن ہو۔‘

عاصمہ کی رائے ہے کہ ’اختلاف انتخابات کی تاریخ پر تھا۔ اس دوران حکومت کے لیے معاشی تنزلی بڑا مسئلہ بن گیا۔ حکومت کا خیال تھا کہ آئی ایم ایف ڈیل فائنل ہو جائے گی تو وہ ایک اچھا بجٹ پیش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور عوام کو ریلیف دیں گے مگر فی الحال ایسا ہونا مشکل ہے۔‘

’آئی ایم ایف کی جانب سے شرائط پوری ہونے کے باوجود کیوں تاخیر ہے؟ اگر تو یہ تمام معاملہ انتخابات کے ساتھ مشروط ہو گیا تو یہ یقیناً موجودہ حکومت کے لیے ایک مشکل صورتحال ہے اور اگر یہ معاملہ مقامی سطح سے اٹھ رہا ہے جیسا کہ مذاکرات کے عمل کے دوران پرویز الہی کے گھر چھاپے پر وفاقی اور پنجاب حکومت دونوں ہی لاتعلق نظر آتے ہیں تو پھر یہ کون ہے جو یہ سب کر رہا ہے؟‘تاہم انھوں نے اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کے کسی بھی کردار کو رد کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ستمبر میں بھی انتخابات پر اتفاق ہوتا ہے تو اس سے پہلے حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنا ہوں گی جو بجٹ سے پہلے ممکن نہیں اور بجٹ میں ریلیف دینا بھی حکومت کے لیے ممکن نظر نہیں آ رہا۔

خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے بجٹ کے بعد اسمبلی کی تحلیل کی تجویز کو بدنیتی قرار دے کر مسترد کیا ہے۔اس معاملے پر یہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ پی ٹی آئی یہ بھی بات کرنے کو تیار ہے کہ اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد نوے دن کی مدت سے متعلق نئی قانون سازی کی جائے تاہم پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی گئی۔

دوسری جانب چین کے ساتھ حالیہ معاہدوں اور خاص طور پر آرمی چیف کے دورہ چین کو بھی ایک اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور سیاسی معاملات پر نظر رکھنے والے صحافی سمجھتے ہیں کہ مذاکراتی عمل کے ساتھ ساتھ حکومتی اتحاد کی کوشش ہے کہ بجٹ سے پہلے ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ وہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے بعد ایک مضبوط اتحاد کے طور پر انتخابات میں جا سکیں۔تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اگر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کریں تو اس مسئلے کا سیاسی حل نکالا جا سکتا ہے۔

عاصمہ شیرازی کے مطابق حکومتی اتحاد اور تحریک انصاف دونوں کو ہی لچک دکھانا ہو گی۔ ’عمران خان کا اسی بات میں فائدہ ہے کہ الیکشن جلد ہو جائیں جبکہ حکومت کے لیے اس بات میں فائدہ ہے کہ انھیں دو تین مہینے مل جائیں تاکہ وہ اس دوران عوام کو کچھ ریلیف دے کر انتخابات میں جائیں۔ سو حکومت کو بھی لچک دکھانی چاہیے اور عمران خان بھی عدالت میں جانے کی بجائے سیاسی قوتوں کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں۔‘۔

Back to top button