ترین گروپ کے باغیوں کے خلاف کیا قانونی ایکشن ہو سکتا ہے

جہانگیر خان ترین کی زیر قیادت ہم خیال گروپ کی جانب سے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں اپنے پارلیمانی لیڈرز مقرر کرنے اور اگلے سالانہ بجٹ کی منظوری میں رکاوٹ ڈالنے کے اشاروں کے بعد کپتان کے قریبی ساتھیوں نے منحرف اراکین کو نااہل کروانے کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں، لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترین گروپ کے اراکین اسمبلی اپنی جماعت کے کل اراکین کا ایک تہائی ہو گئے تو آئینی اور قانونی طور پر انہیں نااہل قرار دینا ممکن نہ ہوگا۔ ایسا ہو گیا تو انہیں قانونی طور پر باقاعدہ ایک الگ دھڑا بھی تسلیم کر لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ حکمران جماعت تحریک انصاف میں پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کے نام سے باقاعدہ طور پر فارورڈ بلاک بن گیا ہے جس نے قومی اور صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی رہنماوں کا اعلان بھی کر دیا ہے۔سیاسی مبصرین گروپ کے قیام کو حکمران جماعت کے لیے ایک بڑا سیاسی خطرہ قرار دے رہے ہیں خاص طور پر ایسے وقت میں جب وفاقی بجٹ پیش کرنے کا وقت قریب آ رہا ہے اور حکومت کو قومی اسمبلی میں پہلے ہی اپوزیشن پر بہت معمولی عددی برتری حاصل ہے۔ دوسری جانب معاملات سلجھانے کی بجائے پارٹی کے وائس چیئرمین اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے باغی اراکین اسمبلی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ کہا کہ بجٹ آنے والا ہے، فنانس بل پر مخالفت کرنے والوں کی پارٹی رکنیت ختم ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم خیال گروپ ایسی بیوقوفی نہیں کرے گا۔ انکا کہنا تھا کہ ویسے بھی اعتماد کے ووٹ اور فنانس بل پر قانونی طور پر بھی کوئی رکن اسمبلی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا ہو گیا تو حکمراں جماعت باغی ارکان کے خلاف کیا قانونی کارروائی کر سکتی ہے تاکہ انہیں مستقبل میں پارٹی کو نقصان پہنچانے سے باز رکھ سکے؟ قانونی ماہرین کے مطابق ابھی تک پی ٹی آئی کے پاس ترین گروپ کے خلاف ایکشن لینے کے لیے قانونی آپشنز محدود ہیں۔ تاہم اگر یہ گروپ بجٹ اور دیگر اہم امور پر پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دے تو آئین کے آرٹیکل 63 اے تحت ان کی اسمبلی کی رکنیت ختم کی جا سکتی ہے۔
پارلیمانی امور کے ماہر اور قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں سابق ایڈیشنل سیکرٹری طاہر حنفی کہتے ہیں کہ ابھی تک ترین گروپ کے نام سے ہم خیال افراد نے ایک پارلیمانی گروپ کا اعلان کیا ہے جس کی قانونی طور پر کوئی حثییت نہیں ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے قومی اسمبلی میں ایک جماعت کے ارکان لسانی یا علاقائی بنیاد پر ایک گروپ بنا لیں مگر پارٹی نہ چھوڑیں اور نہ ہی اہم قانون سازی میں پارٹی کے خلاف ووٹ دیں، لہازا ایسا کرنے سے قانونی طور پر انہیں روکا نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ کیا گروپ کے نامزد پارلیمانی لیڈر سپیکر کے پاس علیحدہ شناخت یا نشتسوں کے لیے کوئی درخواست جمع کرواتے ہیں۔ ایسا کرنے پر درخواست کے متن اور سپیکر قومی یا صوبائی اسمبلی کی رولنگ سے طے ہو گا کہ ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اراکین اپنی پارٹی قیادت کے خلاف انفرادی یا گروہ کی شکل میں اختلاف رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ تاہم ان کے خلاف کارروائی تب تک نہیں ہو سکتی جب تک وہ قانون نہ توڑیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چند دن قبل اسی گروپ کے ارکان وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملے تھے، گویا پارٹی میں ان کی سیاسی حثییت کو تسلیم کیا گیا ہے۔طاہر حنفی کے مطابق اگر ایسا فارورڈ بلاک چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون توڑنے کی حد تک نہ جائے مگر پھر بھی پارٹی قیادت کے مفاد کو نقصان پہنچاتا رہے تو سیاسی طور پر پارٹی قیادت کو ایسے باغی اراکین کو سبق سکھانے کے لیے کئی اختیارات حاصل ہوتے ہیں جیسا کہ انہیں وزارتوں سے ہٹانا، ان سے پارلیمانی کمیٹی کی چئیرمین شپ یا پارلیمانی سیکرٹری کا عہدہ واپس لینا وغیرہ شامل ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد منحرف ہونے والے اور پارٹی کے خلاف جانے والے ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کا آپشن موجود ہے۔ اس حوالے سے آئین کا آرٹیکل 63 اے واضح ہے کہ اگر ایوان میں کسی سیاسی جماعت کا رکن اسمبلی اپنی پارٹی چھوڑتا ہے یا پھر اپنی جماعت تبدیل کرتا ہے تو پارٹی کا سربراہ انکی رکنیت ختم کرنے کی کارروائی کا آغاز کر سکتا ہے۔ اس آرٹیکل کا اطلاق ان ارکان پر بھی ہوگا جو وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے انتخابات، تحریک عدم اعتماد یا اعتماد کے ووٹ کے وقت یا بجٹ کی منظوری اور آئینی ترمیم کے وقت پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیں۔ ایسی صورت میں پارٹی سربراہ تحریری طور پر اعلان کر سکتا ہے کہ ایسا رکن اپنی جماعت سے منحرف ہو گیا ہے۔ اس اعلان کی نقل متعلقہ رکن کے علاوہ سپیکر اور چیف الیکشن کمیشن کو بھیجی جائے گی۔ پارٹی سربراہ پر لازم ہے کہ اس اعلان سے قبل رکن کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرے۔ سپیکر اس اعلان کو دو دن کے اندر چیف الیکشن کمشنر کو بھیجے گا جو تیس دن کے اندر اس پر فیصلہ کرکے رکن کو نااہل قرار دے گا یا اس کے برعکس اپنا فیصلہ جاری کرے گا۔ تاہم نااہل رکن 30 دن کے اندر سپریم کورٹ میں اپیل کر سکے گا۔
دوسری جانب بعض قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے ارکان کی تعداد جماعت کے پارلیمانی اراکین کے ایک تہائی سے زیادہ ہو تو پھر کوئی کارروائی شروع ہی نہیں ہو سکتی۔ لیکن پارٹی سے بغاوت ثابت کرنے کے مختلف مراحل کی تکمیل کے لئے کم و بیش دو سے تین ماہ کا عرصہ باآسانی لگ سکتا ہے۔ ایسے ارکان کو پہلے قدم کے طور پر شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے، جب پارٹی قیادت کو یقین ہو جائے کہ منحرف رکن نے اپنی پارٹی وفاداری تبدیل کرلی ہے تو وہ اسپیکر کو انکے خلاف ریفرنس ارسال کرتی ہے جو ایک ماہ کے اندر اسے الیکشن کمیشن کو ارسال کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق کسی کو اسمبلی رکنیت سے محروم کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کو حاصل ہے، وہ یقیناً فریقین کو طلب کر کے ان کا موقف سن کر ہی فیصلہ دے گا جس کچھ عرصہ لگ جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ترین اینڈ کمپنی کی بغاوت کو کچلنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ جہانگیر ترین کی شکایات کا ازالہ کیا جائے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترین کو جن طاقتور عناصر نے پارٹی سے نکلوایا ہے وہ اب بھی مضبوط پوزیشن میں ہیں اور ان کا یہ دعویٰ ہے کہ انھیں اقتدار کے بڑے مراکز کی بھی تائید حاصل ہے یا کم از کم یہ عناصر پارٹی قیادت کو کامیابی سے یہی تاثر دے رہے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ اگر ترین گروپ حکومت کے خاتمے کا باعث بن گیا تو کپتان سیاسی شہید بن سکتا ہے اور یوں اسکی تین سال کی بدترین کارکردگی کا ازالہ بھی ہو جائے گا۔ لہذا ترین گروپ کے باغی اراکین کو سزا دینے کے عمل میں اگر تحریک انصاف کی حکومت چلی بھی جاتی ہے تو یہ اپنی ناکامیوں کے ازالہ کی خاطر مہنگا سودا نہیں ہوگا۔ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ترین گروپ نہ صرف حکومت کو ٹھکانے لگا سکتا ہے بلکہ مستقبل کے سیاسی منظر نامے میں بھی اپنا اہم کردار ادا کرے گا۔ ممکنہ طور پر مسلم لیگ نون یا پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کر کے ترین کا دھڑا جنوبی پنجاب سے نون لیگ پیپلز پارٹی کی حکومت بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے، یعنی ترین گروپ نہ صرف اپوزیشن الائنس کو تحریک انصاف حکومت سے نجات دلوانے میں اپنا کردار کرے گا بلکہ مستقبل کی حکومت کی تشکیل میں بھی اپنا اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
