عمران خان بتائیں! آپ کو کون کہتا ہےکہ ہمیں این آراو دے دو

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے کہا ہے کہ عمران خان! آپ کو کون کہتا ہےکہ ہمیں این آراو دے دو، ہم جیلیں کاٹ رہے ہیں کیا یہ ڈیل ہے؟ راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل کے تمام کردار سامنے آچکے ہیں، وزیراعظم نے خود رنگ روڈ توسیع کی منظوری دے کر بعد میں شور مچا دیا، جہانگیر ترین گروپ پی ٹی آئی کا اندرونی معاملہ ہے، ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف آج ولی باغ چارسدہ گئے۔ جہاں شہبازشریف نے بیگم نسیم ولی کی وفات پر فاتحہ خوانی کی۔ شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، مریم اورنگزیب اور امیر مقام بھی ہمراہ تھے۔ مسلم لیگ ن کے وفد نے امیر حیدر خان ہوتی اور ایمل ولی سے تعزیت کی۔ شہبازشریف نے کہا کہ بیگم نسیم ولی خان کی وفات پرتعزیت کرنے آئے ہیں۔ 1977 میں وہ جنرل سیٹ پرپہلی بار ڈائریکٹ ووٹ سے منتخب ہوئیں۔ جب ولی خان کو حراست میں لیا گیا تو بیگم نسیم ولی خان سیاسی میدان میں نکلیں۔ بیگم نسیم ولی خان بہادر خاتون تھیں۔ خان عبدالولی خان بااصول اور مدبرسیاست دان تھے۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اےاین پی کی قربانیاں لازوال ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بشیر بلور اوران کے بیٹے ہارون بلورشہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے لوگوں نے فرنٹ لائن پردہشتگردی کا مقابلہ کیا۔ اسرائیل فلسطین میں معصوم بچوں کو شہید کررہا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کیا میں پہلی بار گرفتار ہوا ہوں؟ سب سے پہلے مجھے1996 میں گرفتار کیا گیا۔ ماضی میں مجھے اور نوازشریف کو اٹک اور پھر مجھے لانڈھی جیل میں مجھے رکھا گیا۔ مجھے دوران جیل زمینوں پرسلایا جاتا تاکہ مجھے مزید تکلیف پہنچے۔ جیلیں کاٹ رہے ہیں کیا یہ ڈیل ہے؟ آپ کو کون کہتا ہےکہ ہمیں این آراو دے دو۔ ترین گروپ پی ٹی آئی کا اندرونی معاملہ ہے۔ چوراور ڈاکو کرتے کرتے ملک کا کیاحال کردیا ہے؟ مہنگائی سے آج ہر طبقہ پریشان ہے۔ رنگ روڈ اسکینڈل کے کردار سامنے آچکے ہیں،شہبازشریف وزیراعظم عمران خان نے خود رنگ روڈ توسیع کی منظوری دی، پہلے توسیع کی منظوری دی اور بعد میں شور مچایا۔ 2017 میں رنگ روڈ منصوبے کے کاغذات تیار ہوچکے تھے۔ ڈاکٹر توقیر میرے سیکریٹری رہ چکے ہیں میں نے انہیں بہت ایماندار پایا۔ اسی طرح پہلے چینی ایکسپورٹ کی منظوری دی اور بعد میں امپورٹ کا حکم دیا۔ دوائی اور دیگراسکینڈل بھی سب کے سامنے ہیں۔ نوازشریف دور میں 4 میٹرو بنائی گئیں، ایک دھیلے کا بھی کرپشن ثابت نہیں کرسکے۔ بی آر ٹی پشاور میں 126 ارب کی کرپشن ہوئی، بسیں چلیں نہیں بلکہ جل گئیں۔
