جام کمال کے خلاف بغاوت، فارورڈ بلاک بننے کا امکان

مرکز اور پنجاب کے بعد اب بلوچستان کی حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی میں بھی ناراض اراکین پر مبنی ایک فاروڈ بلاک بننے کی افواہ اب حقیقت کا روپ دھارتی نظر آرہی ہے۔ اس سلسلے میں سابق وزیر بلدیات سردار صالح بھوتانی نے باپ پارٹی کے وزرا کی جانب سے مستعفی ہونے کے ارادے کی تصدیق کردی ہے۔ سردار صالح بھوتانی کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے رویے سے ناراض اتحادی جماعتوں اور بلوچستان عوامی پارٹی کے وزرا صوبائی اسمبلی کے سپیکر سمیت جلد ہی مستعفیٰ ہوجائیں گے۔
سیاسی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ناراض اراکین کا بنیادی مقصد وزیر اعلیٰ جام کمال پر دباؤ بڑھانا اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی قریب میں وزیر اعلی جام کمال اختلافات پیدا ہونے کے بعد اپنی کابینہ کے کئی وزراء کو فارغ کر چکے ہیں جو اب ردعمل کے طور پر ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ سابق وزیر بلدیات سردار صالح بھوتانی نے، جنہیں وجہ بتائے بغیر کابینہ سے نکال دیا گیا تھا، تصدیق کی ہے کہ وزیر اعلیٰ جام کمال کے رویے سے اکثریتی وزرا ناراض ہیں، اور جلد استعفیٰ دے کر فارورڈ بلاک بنا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں اتحادی جماعتوں اور بلوچستان عوامی پارٹی کے وزرا سپیکر عبدالقدوس بزنجو سمیت جلد مستعفیٰ ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ نمبرز گیم بہتر کرنے کے لیے اپوزیشن کو بھی ساتھ ملا لیا جائے تا کہ جام کمال کو فارغ کیا جا سکے۔ سردار صالح بھوتانی نے کہا کہ وزرا کے استعفے سامنے آنے کے بعد نئی حکومت کی قیام کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے الیکشن میں حصہ لینا ہر ایک کا حق ہے اور امید ہے کہ اس بار نئے عہدیدار سامنے آئیں گے اور پرانے فارغ ہو جایئں گے۔ یاد رہے کہ جام کمال بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر بھی ہیں اور اب نئے عہدیداروں کا انتخاب ہونے جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں مخلوط حکومت قائم ہے، جس میں اکثریتی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے ارکان کی ہے۔ تحریک انصاف کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند بھی وزیر اعلیٰ جام کمال سے اختیارات کے حوالے سے ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے عمران خان سے ایک حالیہ ملاقات میں بھی اپنی ناراضی کا اظہار کیا تھا لیکن انکے تحفظات ابھی رک دور نہیں ہو پائے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ جام کمال اپنے رویے میں لچک لانے کے لئے تیار نہیں ہیں اور انہوں نے نہ صرف رند کو ناراض کر رکھا ہے بلکہ اپنی ہی جماعت کے ناراض رکن اسمبلی سردار صالح بھوتانی کو بھی منانے کی بجائے کابینہ سے نکال دیا تھا۔ تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے صالح بھوتانی سے قلمدان واپس لینے کے بعد صوبائی کابینہ میں مزید تبدیلیوں کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کابینہ بہت بہتر انداز میں حکومتی امور انجام دے رہی ہے، اور وزیر بلدیات کو ہٹانےکا مطلب مزید تبدیلیاں لانا نہیں ہے۔
اس وقت بلوچستان اسمبلی کے 65 اراکین میں سے بلوچستان عوامی پارٹی کے 24، تحریک انصاف کے سات، عوامی نیشنل پارٹی کے چار، بی این پی عوامی کے دو، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے دو، جے ڈبلیو پی کے ایک، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 11، بی این پی مینگل کے 11، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ایک، مسلم لیگ ن کے ایک اور ایک آزاد رکن شامل ہیں۔ یعنی اگر اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہو جائیں تو جام کمال کی چھٹی کروانا مشکل نہیں ہے۔
لیکن لیاقت شاہوانی کہتے ہیں کہ صالح بھوتانی کی جام کمال کے خلاف حالیہ پریس کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ سپیکر اسمبلی قدوس بزنجو کے دعوؤں کے باوجود وزیر اعلیٰ جام کمال کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دوسری جانب سپیکر عبدالقدوس بزنجو کا دعویٰ ہے کہ ان کے ساتھ چار وزیر ہیں، جو بہت جلد استعفیٰ دے دیں گے۔ اور حکومت ہل جائے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صوبے میں جلد ویسے ہی حالات پیدا ہو جایئں گے جن کے نتیجے میں سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری کو ہٹایا گیا تھا۔ خیال رہے کہ 2017 میں بلوچستان میں نواب ثنااللہ زہری کی حکومت تھی۔ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد 14 اراکین کے دستخطوں کے ساتھ جنوری 2018 میں اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی تھی۔ اس تحریک عدم اعتماد میں ایک آزاد رکن اسمبلی کے علاوہ مسلم لیگ ق، جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، مجلس وحدت مسلمین اور نیشنل پارٹی کے ارکان شامل تھے۔ تب ثنااللہ کے ساتھیوں کو ایک ایک کر کے انکی حمایت چھوڑنے کا کہا گیا اور یوں انکی چھٹی ہو گئی۔
لیکن جام کمال کے قریبی ذرائع کا دعوی ہے کہ جام کمال سردار زہری نہیں ہیں، انہیں وزیراعظم کے علاوہ فوجی حلقوں کی حمایت بھی حاصل ہے، کچھ وزرا کے استعفیٰ دینے سے انہیں فرق نہیں پڑے گا۔ جبکہ اس وقت مرکز میں پی ٹی آئی حکومت کو بھی بلوچستان عوامی پارٹی کی ضرورت ہے۔
