تین بڑی غلطیاں جو عمران کی حکومت ڈبونے والی ہیں

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی تمام سیاسی حماقتیں ایک طرف لیکن انکی تین بڑی غلطیوں نے حکومت کے ساتھ ساتھ ملک کا بھی کچومر نکال دیا۔ پہلی غلطی یہ کہ انہوں نے عالمی برادری کو اپنا دشمن بنا لیا ہے، آج امریکا بھی ہم سے ناراض ہے اور چین بھی اور یہ دونوں عمران کے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پھر کپتان ی حکومت نے ملکی معیشت کا جنازہ بھی نکال دیا، آج حالت یہ ہے کہ آپ نے تعمیرات کی صنعت کو کھربوں روپے کی ایمنسٹی دی لیکن کل اب یہ انڈسٹری بھی اخبارات میں حکومت کے خلاف اشتہار شائع کروا رہی یے کیونکہ اسکی معاشی حماقتوں کی وجہ سے کنسٹرشن انڈسٹری بھی مکمل طور پر بیٹھ گئی ہے۔
یہ اب صرف کاغذوں میں دکھائی دیتی ہے۔ حکومت کی تیسری حماقت مہنگائی ہے، حکومت سرپلس چینی کے باوجود اس کے ریٹس تک کنٹرول نہیں کر پا رہی، ڈالر منٹوں کے حساب سے اوپر نیچے آ جا رہا ہے لیکن جب حکومت سے اس بارے پوچھا جاتا ہے تو اسے عالمی مسئلہ قرار دے دیا جاتا ہے یا پھر اسکا مدعا پچھلی حکومت پر ڈال دیا جاتا ہے، چنانچہ اگر آج حکومت بچ بھی گئی تو بھی جلد اپنے ہی ہاتھوں سے کھودے گے انہی گڑھوں میں سے کسی ایک میں جا گرے گی۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہر گزرنے والا دن حکومتی اقتدار کار کے خاتمے کی طرف گامزن ہے۔ جاوید چودھری نے اپنی تحریر میں ایک اہم حکومتی شخصیت کے ساتھ تازہ گفتگو کا احوال بیان کیا ہے لیکن اسکا نام خفیہ رکھا یے۔ حکومتی شخصیت کا کہنا تھا کہ ’ہم پہلے بھی بچتے رہے ہیں اور ہمیں آگے بھی کوئی خطرہ نہیں ہوگا‘‘۔ بقول جاود، ان کے لہجے میں یقین تھا لہٰذا میں نے ہنس کر جواب دیا کہ ’’اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن میری معلومات کہتی ہیں آپ اگر اقتدار میں زیادہ دن نہیں نکال سکیں گے۔ آپ کا ہرآنے والا دن نئی مشکلات لے کر طلوع ہو گا‘‘۔
جاوید چودھری کا موقف تھا کہ حکومت کی سب سے بڑی سپورٹ پیپلز پارٹی تھی جو کہ سندھ حکومت بچانے کے لئے کھل کر نہیں کھیل رہی تھی۔ پی ڈی ایم مارچ میں استعفے دے رہی تھی لیکن آصف علی زرداری نے دس منٹ تقریر کی اعر پی ڈی ایم ٹوٹ گئی۔ یوں حکومت بچ گئی۔ اس کے بعد بھی جب حکومت پریشر میں آئی، پیپلزپارٹی کی مدد سے بچ گئی لیکن اب حکومت اور پیپلز پارٹی دونوں کو باندھ کر رکھنے والا ربن تبدیل ہو چکا ہے۔ ہواؤں کے اس بدلتے ہوئے رخ کو پیپلز پارٹی نے پہلے ہی بھانپ لیا تھا لہٰذا بلاول بھٹو نے ایک ماہ قبل انس نورانی کے ذریعے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا اور ساتھ چلنے کا اشارہ دے دیا۔ یہ اشارہ بڑھتے بڑھتے 8 نومبر تک پہنچ گیا جب پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس تھا۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ اس اجلاس میں عسکری قیادت نے پارلیمنٹیرینز کو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں بریفنگ دینی تھی۔ وزیراعظم حسب معمول میٹنگ میں شامل نہ ہوئے۔ شہباز شریف سب سے پہلے بولے اور سب کو حیران کر دیا۔ وہ تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات اور معاہدے کے خلاف تھے۔ ان کا کہنا تھا’ کہ ہم نے ٹی ٹی پی کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھایا ہے۔ اے پی ایس میں 150 لوگ شہید ہو گئے۔ پریڈ لین مسجد پر حملہ ہوا اور میجر جنرل‘ چھ آفیسرز اور آرمی آفیسرز کے17 بچے شہیدہو گئے۔ جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی کے دفتروں پر بھی حملے ہوئے اور اس ایوان میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے پیارے ٹی ٹی پی نے چھین لیے تھے۔ شہباز نے اس کے بعد بلاول بھٹو کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ’’بلاول بھٹو نے اپنی والدہ کھو دی‘‘۔ انہوں امیر حیدر خان ہوتی کی طرف اشارہ کر کے کہا ’’اے این پی کے قائد اسفند یار ولی پر بھی حملہ ہوا اور بشیر بلور اور ہارون بلور بھی شہید ہوئے۔ لہٰذا میں کسی صورت طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حق میں نہیں ہوں۔ بقول جاوید، اس گفتگو نے شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے درمیان دوری ختم کر دی۔ بلاول بھٹو نے بھی شہباز شریف کی تائید کر دی جس کے بعد اپوزیشن کی تمام پارٹیوں نے معاہدے کی مخالفت کر دی لہٰذا فیصلہ ہوا کہ مذاکرات کے بارے میں فارمولا پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جائے گا اور فیصلہ وہاں ہو گا لیکن میٹنگ کے بعد فواد چوہدری نے ٹویٹ کر دی کہ تحریک طالبان سے مذاکرات جاری ہیں اور ہم طویل جنگ کے بعد امن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس دوران مغربی میڈیا نے یہ خبر بھی دے دی ہے کہ پاکستان اور ٹی ٹی پی میں معاملات طے پا چکے ہیں بس اعلان باقی ہے۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ یہ معلومات جب اپوزیشن کے نوٹس میں آئیں تو بلاول بھٹو نے شہباز شریف سے ملاقات کی اور دونوں نے مل کر چلنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ فیصلہ بھی ہوا کہ یوسف رضا گیلانی شہباز شریف کے چیمبر میں اپوزیشن سے میٹنگ کریں گے اور ن لیگ اور جے یو آئی کے سینئر لوگ اس میٹنگ میں شریک ہوں گے۔ یہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کی پی ڈی ایم میں سافٹ واپسی سمجھی جائے گی اور ن لیگ اور جے یو آئی یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بھی مان لے گی۔ 9 نومبر کو یہ اجلاس بھی ہو گیا اور یہ فیصلہ بھی ہو گیا کہ پیپلز پارٹی 11 نومبر کے مشترکہ اجلاس میں تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے دس ارکان کو اپوزیشن بینچوں پر لے آئے گی یا پھر یہ لوگ اس دن ایوان سے غائب ہو جائیں گے۔ یوں حکومت اپنے متنازعہ بلز پاس نہیں کرا سکے گی اور اپنا اخلاقی وجود کھو بیٹھے گی۔ اسکے بعد نومبر کی شام شہباز شریف نے عشائیہ دیا جس میں اپوزیشن لیڈر سمیت قومی اسمبلی کے 180 ارکان شامل تھے لہٰذا یہ سب اب حکومت کے خلاف اکٹھے ہو چکے ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت کو 11 نومبر کے روز بلوں کی منظوری کے لیے بلایا گیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منسوخ کرنا پڑا ورنہ اس کا رہا سہا بھرم بھی کھل جاتا۔
