طالبان اور حکومتی مذاکرات کا مستقبل تاریک ہو گیا

سپریم کورٹ کی جانب سے سانحہ اے پی ایس کی ذمہ دار تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر وزیر اعظم عمران خان کی سخت سرزنش، شہید بچوں کے والدین کے پرزور احتجاج اور اپوزیشن کی شدید مخالفت کے بعد مذاکراتی عمل کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے ہی متنازع ہوگیا ہے اور اب اسکا مستقبل تاریک لگتا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے اے پی ایس کیس میں وزیراعظم کی سرزنش کا واقعہ حکومت اور تحریک طالبان کے مابین عارضی فائر بندی کا اعلان ہونے کے دو روز بعد پیش آیا۔ لیکن اب پی ٹی ائی حکومت کے لیے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ یہ بھی عدالتی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا کہ ایک وزیر اعظم کے خلاف سپریم کورٹ میں نعرہ بازی کی گئی ہو لہذا انہیں عدالت لاتے اور واپس لیجاتے وقت سخت سکیورٹی حصار میں رکھا گیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں وزیراعظم کے لئے دوسری بڑی مشکل یہ پیدا ہو گئی ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کی جانب سے سانحہ اے پی ایس میں غفلت برتنے کے ذمہ دار سینئر فوجی افسران کے خلاف سخت ایکشن لینے اور چار ہفتوں میں عدالت میں رپورٹ جمع کروانے کے لیے کہا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین نے 2014 میں تب کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کے علاوہ تب کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، کور کمانڈر پشاور ہدایت الرحمان اور وزیر اعلی پرویز خٹک کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کر رکھی ہے۔
10 نومبر کے روز کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سانحہ پشاور کہ بعد نچلے لیول کے چوکیداروں اور گارڈز کے خلاف کارروائی کی گئی حالانکہ اس واقعے کے اصل ذمہ دار سینئر انٹیلی جنس اور فوجی افسران تھے۔ اس موقع پر جسٹس قاضی امین نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جن ظالموں نے ہمارے بچوں کو شہید کیا تھا کیا ان لوگوں سے معاہدہ کر کے شکست کی ایک اور دستاویز پر دستخط تو نہیں ہونے جا رہے؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہماتی فوج دوبارہ دہشت گردوں کے سامنے سرنڈر کرنے جا رہی ہے؟ انھوں نے وزیراعظم سے پوچھا کہ آپ نے ٹی ایل پی کے ساتھ بھی معاہدہ کیا ہے جس نے احتجاج کے دوران نو پولیس والوں کو ‘شہید’ کیا، تو کیا ان پولیس اہلکاروں کی جانیں ہم سے کم قیمتی ہیں؟ تاہم وزیراعظم ان سوالوں پر خاموش رہے اور خفت سے ادھر ادھر دیکھتے رہے کیونکہ انکے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
سپریم کورٹ نے سانحہ اے پی ایس پر عمران خان کی کلاس ایک ایسے وقت میں لی ہے جب انکی جانب سے پارلیمنٹ اور سانحہ اے پی ایس کے متاثرین کو اعتماد میں لیے بغیر تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع ہیں اور طالبان کو عام معافی دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ 16 دسمبر 2014 کو ہونے والے اے پی ایس حملے میں 144 بچوں سمیت 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی جس کے ساتھ اب کپتان حکومت نے 9 نومبر سے 9 دسمبر تک کا ایک عارضی فائر بندی معاہدہ کیا ہے۔ تاہم خونی طالبان سے مزاکرات پر تنقید کے جواب میں عمران خان یہ دلیل دے رہے ہیں کی ان کا مقصد ملک میں پائیدار امن لانا اور وہ پرتشدد تنازع ختم کرنا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں شہریوں بشمول سیکورٹی اہلکاروں کی جانیں گئیں۔ تاہم مذاکرات کا عمل اب سپریم کورٹ کی سرزنش کی وجہ سے اور بھی متنازعہ ہو گیا اور اسکی کامیابی کا امکان معدوم ہو گیا ہے۔ لہخن یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ریاست پاکستان کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ ماضی میں بھی کئی مرتبہ یہ عمل ہو چکا ہے اور معاہدے بھی طے پائی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔
تاہم یہ بات طے ہے کہ کسی بھی حکومت کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد تحریک طالبان نے ہمیشہ خود کو مضبوط کرنے پر فوکس کیا ہے، بعد ازاں یہ اپنے دہشت گردی کے ایجنڈے پر واپس آجاتی ہے اور یوں معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اپنے عروج کے دنوں میں بھی ٹی ٹی پی ایسے علاقوں میں ریاست کی عملداری ختم کرنے میں ناکام رہی جہاں یہ تنظیم مضبوط سمجھی جاتی تھی۔ تاہم ایک وقت ایسا آیا جب اس نے ملک بھر میں خودکش حملوں کے ذریعے دہشت مچا دی۔ لیکن اے پی ایس پشاور پر خونی حملے اور 100 سے زائد معصوم بچوں کی شہادت کے بعد سیاسی و فوجی قیادت نے مل کر ٹی ٹی پی کو کچلنے کا فیصلہ کیا اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت وزیرستان میں بھرپور فوجی کارروائی کی گئی۔
اس فوجی آپریشن کے بعد میڈیا میں ایک مہم شروع کی گئی اور بتایا گیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ جیت لی ہے۔ تاہم اب اسی فوجی قیادت کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے اور عام معافی دینے کی تجویز کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف جنگ جیت چکی تھی تو پھر ان سے امن مذاکرات کی کیا ضرورت پیش آگئی جس نے ریاست پاکستان کی رٹ کا تیاپانچہ کر کے رکھ دیا ہے۔
