نیب نے وصولیوں کی تفصیلات جاری کردیں
وفاقی حکومت کے متعلقہ محکموں سے وصول ہونے والی821 ارب روپے کی رقم وزارت خزانہ کے پاس جمع کرائی گئی جبکہ بالواسطہ وصول ہونے والی رقم متعلقہ کوارٹرز کے حوالے کردی گئی ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے 1999 میں بیورو کے قیام کے بعد بنائے جانے والے وائٹ کالر مقدمات کی مد میں وصول ہونے والے 8 کھرب 21 روپے کی تفصیلات جاری کیں۔
4 نومبر وزارت خزانہ کے اعلان کے بعد تنازعات کے پیش نظر تمام تر تفصیلات میڈیا کے ذریعے شیئر کی گئیں، وزارت خزانہ نے بیان میں کہا تھا کہ انہیں 821 ارب میں سے 6 ارب 45 کروڑ 80 روپے موصول ہوچکے ہیں۔
نیب کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں 8 کھرب21 روپے کی ریکوری کی ہے جس میں صرف 6 ارب 45 کروڑ 80 لاکھ وفاقی حکومت کے متعلقہ محکموں کے ہیں جو وزارت خزانہ کے پاس جمع کرائے گئے ہیں جبکہ دیگر متعلقہ صوبوں، بینکوں اور افراد کو دیے گئے ہیں۔
نیب ہیڈ کوارٹر کے مطابق اپنے قیام سے ستمبر 2021 انسداد کرپشن کے نگراں محکمے نے 8 کھرب21 ارب57 کروڑ 30 روپے کی براہِ راست اور بالواسطہ وصولیاں کی۔
بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ 5کھرب 65 کروڑ روپے براہِ راست متعلقہ کوارٹرز کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں مالکان، دعویدار اور دیگر ادارے شامل ہیں۔
کچھ ریکوریز میں طے شدہ قرضے، پنجاب کوآپریٹیو بورڈ فار لیکویڈیٹی( پنجاب کو آپریٹیو بورڈ لمیٹڈ) سمیت دیگر اداروں کے فنڈ شامل ہیں، جس کی رقم ایک کھرب 98 ارب 57 کروڑ روپے ہے، یہ رقم بھی متعلقہ اداروں کو ادا کردی گئی ہے۔
اس ہی طرح جرمانے کی مد 45 ارب 91 کروڑ 50 لاکھ روپے وصول کے گئے ہیں، مذکورہ جرمانے مختلف احتساب عدالتوں کی جانب سے عائد کیے گئے تھے جو متعلقہ قانونی دفعات کےتحت وصول کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ ملزمان تفتیش کے دوران پلی بارگین اور رضاکارانہ رقم واپس کرنے کے اختیار کا فائدہ بھی اٹھاتے ہیں اس طرح نقد کی صورت میں رقم وصول ہوا کرتی تھی، تاہم پیٹیشن نمبر 2016/17 کے تحت سپریم کورٹ نے رضاکارانہ اختیارات استعمال نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
اس سےقبل پلے بارگین اور رضاکارانہ طور پر رقم کی ادائیگی سے 54 ارب 90 کروڑ 20 لاکھ روپے وصول کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر ریکوریز کی نوعیت مختلف ہے۔
حال ہی میں ہونے والے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائےخزانہ کے اجلاس اور بعد ازاں پبلک اکاؤنٹ کمیٹی (پی اےسی) کے اجلاس میں وزارت خزانہ نے دعویداروں اور حقیقی فنڈ کے درمیان بڑے خلا پر حیرت کا اظہار کیا۔
جس کے بعد سینیٹ کے اراکین نے خصوصی آڈٹ کے لیے پاکستان کے آڈیٹر جنرل سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
سینیٹ کمیٹی کو بھیجی گئیں دستاویزات میں نیب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 76 ارب پلے بارگین یارضاکارانہ ادائیگیوں میں حاصل کیے، 122 ارب طے شدہ بینک کےقرضوں، 60 ارب روپے قرضوں کی تنظیم نو جبکہ 46 ارب روپے مختلف جرمانوں کی مد میں وصول کیے گئے اور مختلف وصولوں تحت حاصل ہونے والی ’بالواسطہ ‘رقم 5 کھرب سے زائد ہے۔
اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں ایڈیشنل فنانس سیکریٹری تنویربٹ نے پینل کو آگاہ کیا کہ 16 سال میں نیب کے ذریعے کی جانے والی وصولیوں میں غیر ٹیکس آمدنی کی مد میں صرف 6 ارب45 کروڑ 80 روپے وصول کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ رقم حکومتی کھاتوں میں جمع نہیں کرائی گئی ہے، یہ معلوم نہیں کہ نیب نے821 ارب روپے کس اکاؤنٹ میں جمع کرائے ہیں‘۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ قومی ادارہ برائے انسداد جرائم سےوصول کیے گئے فنڈز بھی یو کے نیشنل کٹی میں جمع نہیں کرائے گیے تھے اور شاید انہیں اب بھی روکا جارہا ہے۔
