ثمینہ احمد ’’بے بی باجی‘‘ کے سکرپٹ سے کیسے متاثر ہوئیں؟

ٹی وی سکرین پر دھوم مچانے والے ڈرامے ’’بے بی باجی‘‘ کے اہم کردار اداکارہ ثمینہ احمد نے انکشاف کیا ہے کہ لوگوں نے جویریہ اور سعود کی نوک جھوک کو زیادہ پسند کیا، بے بی باجی کا کردار سینئر اداکارہ ثمینہ احمد نے ادا کیا۔اردو نیوز نے ثمینہ احمد سے خصوصی انٹرویو کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ انہیں اس پراجیکٹ میں کون سی بات پسند آئی جو انہوں نے یہ کردار ادا کرنے کے لیے ہامی بھری؟ثمینہ احمد نے بتایا کہ جب مجھے ڈرامہ سیریل ’بے بی باجی‘ میں کام کرنے کی آفر ہوئی تو مجھے یہ کہانی بہت روایتی لگی، لیکن میرے پرڈیوسر نے کہا کہ آپ نے یہ ڈرامہ ہر حال میں کرنا ہے، تو میں نے ان سے کہا کہ ٹھیک ہے مجھے ذرا سکرپٹ بھیجیں۔ میں نے سات آٹھ قسطیں پڑھیں تو مجھے اس میں دو چیزیں اچھی لگیں ایک یہ کہ اس کی زبان میں بناوٹی رنگ نہیں تھا۔ دوسرا یہ کہ اس میں جو مردوں کے کردار ہیں وہ گھر کے کام بھی کرتے ہیں، صرف یہ نہیں کہ دفتر گئے اور گھروں میں ان کے کردار ہی نہیں ہیں اور ساس بہوئیں آپس میں لڑ رہی ہیں۔کیا ماﺅں کو اپنے بیٹوں کی شادی اپنی مرضی سے اور ان کی خواہش پوچھے بغیر کرنی چاہیے؟ کیا ایسا لڑکا کل کو اپنی بیوی اور بچے کو تنگ نہیں کرے گا؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’بے بی باجی‘ میں، میَں نے اپنے بیٹے نصیر کی شادی اس کی مرضی سے اس لیے نہیں کی کہ لڑکی اس کے لیے مناسب نہیں تھی۔بے بی باجی کی کہانی حقیقت پر مبنی تھی، اس میں تمام کردار حقیقی دنیا سے مستعار لیے گئے تھے۔ثمینہ احمد مزید کہتی ہیں کہ میں ذاتی طور پر بچوں کی مرضی کے مطابق ان کی شادی کرنے کے حق میں ہوں۔والدین کو دیکھنا چاہئے کہ ان کے بچے کیا چاہتے ہیں، ان کی خوشی کس بات میں ہے، زندگی تو بچوں نے گزارنی ہوتی ہے تو انہی کی خواہش پوری کی جانی چاہئے کیونکہ ہم نے اپنی زندگی جی لی، اب ان کی باری ہے، ہاں اگر بچے غلط طرف جا رہے ہوں تو ان کو سمجھانا چاہئے، اب آپ کی تربیت پر ہے کہ آپ نے کیسی تربیت کی ہے اور بچے آپ کی بات کتنی مانتے ہیں۔ثمینہ احمد نے کہا کہ عذرا جیسے کردار رشتوں کی تباہی کا باعث بنتے ہیں، ظاہر ہے باقی لوگ اگر اس کے رویے کو برداشت نہیں کریں گے تو رشتے تو خراب ہوں گے ہی، اب جیسے بے بی باجی نہیں چاہتی کہ اس کے بچے الگ ہوں، کیونکہ اگر بڑا بیٹا جس کی بیوی عذرا چاہتی ہے کہ وہ الگ ہوجائیں۔ وہ اگر الگ ہو گیا تو صدیقی صاحب جو کہ میرے شوہر بنے ہوئے ہیں، ان کی سپورٹ بھی کم ہو جائے گی، اس لیے بے بی باجی سب کو جوڑ کر رکھنے کی قائل ہیں۔اداکارہ نے اعتراف کیا، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ ڈرامہ سپرہٹ ہوگا بلکہ میں تو یہ کہوں گی کہ کسی بھی ڈرامے کو ہٹ کروانے کا کوئی فارمولا نہیں اگر ایسا ہی ہوتا تو ہر ڈرامہ اسی فارمولے پر بنتا اور ہٹ ہو جاتا ، آڈینس کا مزاج کسی بھی ڈرامے کو ہٹ بناتا ہے۔
