جسٹس عائشہ کی مخالفت صنفی بنیاد پر ہوئی یا میرٹ پر؟

سپریم کورٹ میں خاتون جج کی ترقی کے لیے بلائے گے جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے دوران جونئیر جج کی پروموشن کی مخالفت کرنے والوں کو پیچھے ہٹانے کی خاطر جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ تجویز دی تھی کہ ایسا کرنے والے لوگوں کے نام ریکارڈ پر لائے جائیں تاکہ تاریخ میں واضح رہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے کھڑا ہونے سے کس نے انکار کیا تھا؟ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسا کرتے ہوئے بظاہر ایک اصولی موقف کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی کیونکہ جسٹس عائشہ کی تقرری کی مخالفت صنفی بنیاد پر نہیں بلکہ اصولوں کی بنیاد پر کی گئی تھی۔
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے 4 گھنٹے طویل اجلاس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے کی، اس دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے سیشن کو ایک تاریخی دن قرار دیا جہاں ایک خاتون جج کو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔
ڈان اخبار کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک سینئر جج کا حق مار کر ایک جونئیر جج کی ترقی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ہم اس تاریخی موقع سے محروم ہونا چاہتے ہیں تو یہ افسوس کا مقام ہوگا چونکہ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 25 (3) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں کسی بھی ملک کی اعلیٰ ترین عدالتیں خواتین ججوں پر مشتمل ہوتی ہیں، سپریم کورٹ آف انڈیا میں حال ہی میں تین خواتین ججوں کو مقرر کیا گیا تھا، اور بھارت ایک ایسا ملک بنے گا جہاں 2007 میں پہلی خاتون چیف جسٹس تعینات ہو جائے گی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ عجیب منطق بھی دی کہ سہریم کورٹ میں ججوں کی تقرری میں سنیارٹی کو بنیادی اہمیت نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ پروموشن نہیں ہوتی بلکہ فیصلہ ہوتا ہے۔ انہوں نے 50 ہزار سے زائد زیر التوا کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات کو حل کرنے کے لیے قابل ججوں کی ضرورت ہے اور سپریم کورٹ کے ججوں کے لیے آئینی قوانین پر مہارت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ججوں کی تعیناتی میں سنیارٹی ہی معیار تھی تو پھر جے سی پی کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ عمر عطا بندیال نے کہا کہ سینئر ججز کو نظرانداز کرکے 41 ججز کو سپریم کورٹ میں جج مقرر کیا گیا اور ان میں سے چند شاندار جج ہیں اور میرے ہیرو بھی رہے ہیں۔
تاہم جسٹس عمر عطا بندیال کے اس لیکچر کے باوجود جوڈیشل کونسل کے چار ممبران نے جسٹس عائشہ ملک کی تقرری کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کے مطابق کسی جونئیر جج کو سپریم کورٹ میں تعینات نہیں کیا جاسکتا۔ بعد ازاں ان چار حضرات کے نام بھی ختم کردیئے گئے۔ تاہم دوسری جانب جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایسا ان کے خاتون ہونے کی وجہ سے نہیں کی بلکہ اصولوں کی بنیاد پر کیا گیا۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ اور پنجاب سے جونیئرز ججز کو سپریم کورٹ میں لایا جارہا ہے اور سینیارٹی کے اصول کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ بار نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن یا کسی اور بار ایسوسی ایشن نے جج عائشہ ملک کی مخالفت صنفی بنیادوں پر کی گئی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سربراہ لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وکلاء برادری کسی بھی جج کی تقرری کی مخالفت صنفی بنیادوں پر نہیں کرتی بلکہ اس کا مطالبہ میرٹ کا اور سینیارٹی کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شعبہ وکالت میں خواتین کو بہت سارے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کو ہراساں بھی کیا جاتا ہے اور ان کو اور بھی دوسرے مسائل کا سامنا ہے لیکن جج عائشہ ملک کی تقرری کی مخالفت صنفی بنیاد پر نہیں کی گئی ہے بلکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں تقرریاں کرتے وقت سینیارٹی کے اصول کو مدنظر نہیں رکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے وکلاء برادری ان چیزوں کی مخالفت کر رہی ہے اور اس میں صرف کسی خاتون جج کی مخالفت نہیں کی گئی بلکہ ایسے مردوں کی بھی مخالفت کی گئی ہے جو سنیارٹی نہیں رکھتے لیکن وہ اعلیٰ عدالتوں تک پہنچ رہے ہیں۔
