حسان نیازی کے بعد مراد سعید اور شیدے ٹلی کی جلد گرفتاری متوقع

حسان نیازی کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے روپوش مفرور رہنماؤں کی گرفتاری کے عمل میں تیزی آ گئی ہے۔ اس حوالے سے نام نہاد انقلابی لیڈر شیخ رشید کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جا چکا ہے۔ واضح رہے کہ شیخ رشید نے اپنی عادت کے مطابق بڑھک ماری تھی کہ وہ یوم آزادی پر لال حویلی پہنچ کر قوم سے خطاب کریں گے لیکن جیسے ہی ان کے کارندوں نے انھیں اطلاع دی کہ لال حویلی کے گرد پولیس کا گشت شروع ہو چکا ہے۔ شیخ رشید نے آدھے راستے ہی سے یوٹرن لینا مناسب سمجھا۔ بعد ازاں خفت مٹانے کے لیے سوشل میڈ یا پر ایک لولی لنگڑی وضاحت بھی پیش کی۔ تاہم پولیس ذرائع کے مطابق ان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور جلد ہی انہیں بل سے نکال کر دبوچ لیا جائے گا۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق مراد سعید کے بارے بھی یہ اطلاعات ہیں کہ وہ بھی جلد گرفتار کر لیےجائیں گے۔ ذرائع کے مطابق سزا یافتہ عمران خان کے بھانجے حساننیازی کا نام اے پلس کیٹگری کے ملزمان میں شامل کر دیا گیا ہے۔ انہیںچند روز قبیل ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کو کوئٹہ پولیسکے حوالے کر دیا گیا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حسان نیازی کولاہور منتقل کرنے کیلئے محکمہ داخلہ پنجاب نے ایک لیٹر بلوچستان حکومتکو روانہ کر دیا ہے۔ تمام تر قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد حسان نیازی کو پولیس کی ایک ٹیم کوئٹہ سےسے لاہور لائے گی۔ لاہور کے تھانہ سرور روڈ سمیت دیگر تھانوں میں بھیحسان نیازی کے خلاف مقدمات درج ہیں۔ حسان نیازی کیخلاف کور کمانڈر لاہور کی وردی کی تذلیل کے ناقابل تردید شواہد بھی موجود ہیں۔ دوسری جانب شیخ رشید احمد جو سوشل میڈیا پر کافی ایکٹیو ہیں۔ ان کی لوکیشن بھی پولیس نے ٹریس کر لی ہے اور ذرائع کہتے ہیں کہ جلد وہ بھی قانون کی گرفت ہو ہونگے۔
تحریک انصاف کی مفرور قیادت کی گرفتاری کی کوششوں کے حوالے سے پنجاب پولیس اور اسلام آباد پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ، نومٹی کے واقعات میں پی ٹی آئی کے نامز دلیڈران سمیت دیگر چار سو سے زائد شر پسندوں کے لیے پولیس نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ حسان نیازی اور مراد سعید کے بارے میں یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ گلگت بلتستان میں موجود ہیں۔ حسان نیازی کے ٹھکانے کے بارے گلگت بلتستان میں پولیس کو علم ہو گیا تھا۔ اور اس سے پہلے کہ اسے وہاں سے گرفتار کیا جاتا، اس نے اپنا ٹھکانہ تبدیل کرلیا تھا اور خیبر پختونخواہ کی جانب روانہ ہو گیا تھا۔ اس کی منزل علاقہ غیر کے علاقے تھے۔ کیونکہ وزیرستان کا پہاڑی سلسلہ کوہ سلیمان میانوالی سے جڑا ہوا ہے۔ اور میانوالی کے اکثر مفرور ملزمان علاقہ غیر میں پناہ لیتے ہیں۔ حسان نیازی میانوالی سے ہی ایک رابطے کی وجہ سے علاقہ غیر کی جانب روانہ ہوا تھا۔ میانوالی اس کا آبائی علاقہ ہے اور وہاں سے اسے کافی سپورٹ حاصل ہے۔ اس نے کوہاٹ ، ہنگو سے ہوتے ہوئےکنڈی مشتی کے علاقے میں پناہ لینی تھی۔ اگرچہ یہ علاقے شدت پسندوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں اور آج کل یہاں کے حالات کچھ اچھے نہیں ہیں، لیکن انہی شدت پسندوں نے ہی حسان نیازی کو اپنے پاس محفوظ پناہ گاہ میں رکھنا تھا۔ تاہم وہ مخبری پر ایبٹ آباد سے ہی گرفتار ہو گیا۔ تاہم اگر وہ علاقہ غیر پہنچ جاتا تو پھر شاید وہ قانون کی گرفت میں نہ آتا۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ مراد سعید اس وقت انتہائی محفوظ مقام پر ہے اور اس تک پولیس کا پہنچنا جلد ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ جس جگہ وہ ہےوہاں پر سیل فون کی سہولت موجود نہیں ہے۔ جب کہ وہ اگر کوئی پیغام سوشل میڈیا پر لکھنا چاہتا ہے تو اے لکھ کر بھجواتا ہے، جو کئی ہاتھوں سے ہوتا ہواسوشل میڈیا پر پوسٹ کیا جاتا ہے۔ مراد سعید نے اپنے قریبی عزیزوں سے رابطے کے لیے بھی غیر معمولی طریقے اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ سیل فونبالکل استعمال نہیں کرتا، نہ ہی باہر نکلتا ہے۔ جہاں پر پناہ گزین ہے وہ جگہ عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہے اور اس نے کافی حد تک اپنا حلیہ بھی تبدیلکر رکھا ہے۔ یہ کہنا کہ وہ گلگت بتستان میں ہے؟ اس بارے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ وہ بھی شمالی علاقہ جات ہی کی جانب روپوش ہے، یہ کہنا کہ وہ افغانستان جا چکا ہے درست نہیں ہے۔
