نواز شریف کو گارنٹی مل گئی، جلد وطن واپسی کا فیصلہ 

مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم کی چار سال بعد وطن واپسی کے حوالے سے معاملات حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ایک طرف شہباز شریف ستمبر میں اپنے بھائی کی واپسی کی تاریخ دے چکے ہیں وہیں دوسری طرف ستمبر کے تیسرے ہفتے میں نواز شریف کی پاکستان واپسی بارے مختلف لیگی رہنماؤں کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں جبکہ سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو وطن واپسی کے معاملے پر گارنٹی مل چکی ہے اور وہ جلد پاکستان میں ہونگے۔

لیگی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے دو شیڈول تیار کرلیے ہیں۔جس کے مطابق نواز شریف کی وطن واپسی سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ضمانت کیلیے درخواست دائر کی جائے گی اور وہ لندن سے اسلام آباد پہنچیں گے۔ اس موقع پر اُن کا بھرپور استقبال کیا جائے گا جبکہ پریڈ گراؤنڈ میں ن لیگ کا جلسہ بھی ہوگا۔بعد ازاں نواز شریف اسلام آباد سے لاہور بذریعہ جی ٹی روڈ ریلی کی صورت میں آئیں گے اور مختلف مقامات پر خطاب بھی کریں گے جبکہ لاہور پہنچ کر بڑا عوامی جلسہ بھی ہوگا، جس کو تاریخی بنانے کے لیے مریم نواز اور حمزہ شہباز کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے دوسرے شیڈول میں نوازشریف کی واپسی لاہور ایئرپورٹ پر ہوگی، جہاں اُن کا تاریخی استقبال کیا جائے گا اور پھر لیگی قائد داتا دربار پر بھی حاضری دیں گے۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کرنے کے حوالے سے مشاورتی عمل جاری ہے، درخواست دائر ہونے کے بعدضمانت ملنے کی صورت میں ہی نواز شریف کی لندن سے واپسی کی راہ ہموار ہوگی۔  ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کے سینیئر رہنما اور قانونی ماہرین گزشتہ چند روز سے نواز شریف کی واپسی کے لیے صحیح وقت اور ان مقدمات پر غور کررہے ہیں جن کا انہیں پاکستان میں سامنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق ’کچھ معاملات‘ طے پا جائیں تو صدر مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے بڑے بھائی سے ملنے لندن روانہ ہوں گے۔ذرائع نے بتایا کہ اگر سب کچھ پارٹی کے منصوبے کے مطابق ہوا، یعنی اگر نواز شریف کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی تو وہ اسلام آباد پہنچ جائیں گے جہاں وہ پریڈ گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کریں گے۔منصوبے کے مطابق وہ جلسے کے بعد جی ٹی روڈ سے لاہور چلے جائیں گے، جہاں مریم نواز اور حمزہ شہباز مل کر پنجاب بھر کے پارٹی کارکنان کو متحرک کرنے کے لیے ایک تاریخی ریلی کا اہتمام کریں گے، جس سے نواز شریف خطاب کریں گے۔تاہم اس پلان میں آخری لمحات میں تبدیلی کا امکان ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ نواز شریف وطن واپسی پر اسلام آباد کے بجائے لاہور ہی پہنچیں اور جلسے سے خطاب کریں۔

دوسری جانب سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف ستمبر میں وطن واپس آئیں گے، تاہم پارٹی کے کچھ سینیئر رہنماؤں کا خیال ہے کہ نواز شریف کو عام انتخابات سے ایک یا 2 ماہ قبل واپس آنا چاہیے، حلقہ بندیوں کے سبب آئندہ برس مارچ تک عام انتخابات مؤخر ہونے کا امکان ہے۔مسلم لیگ (ن) کے حلقوں کا خیال ہے کہ نواز شریف تب ہی وطن واپس آئیں گے جب انہیں پاکستان میں درپیش مقدمات میں ریلیف ملے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی واپسی میں تاخیر یہ ظاہر کرتی ہے کہ واپسی کا ٹکٹ بک کروانے سے پہلے ابھی بھی انہیں کچھ یقین دہانیاں درکار ہیں، فروری یا مارچ تک انتخابات میں ممکنہ تاخیر نواز شریف کو اپنے کیسز نمٹانے کے لیے مزید وقت فراہم کرے گی۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے معاملے پر گارنٹی مل چکی ہے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نوازشریف کی عدالتوں سے بریت طے ہے اور اُن کے لیے زیرو رسک ہوچکا ہے جبکہ اس معاملے پر ہمیں گارنٹی بھی مل چکی ہے۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ نواز شریف ستمبر کے تیسرے ہفتے میں وطن واپس آکر انتخابی مہم چلائیں گے اور پارٹی بیانیہ بھی تشکیل دیں گے۔ سینیٹرعرفان صدیقی کے مطابق نوازشریف الیکشن میں تاخیر کے خواہاں نہیں اور سمجھتے ہیں کہ الیکشن اسی سال ہوجائیں گے۔نواز شریف کی وطن واپسی کی ایک تاریخ دینے سے متعلق سوال پر عرفان صدیقی نے کہا کہ میں تاریخ دینے کا عادی نہیں ہوں، نواز شریف سے روز بات ہوتی ہے تاہم گفتگو محفوظ نہ ہونے کے باعث واپسی کی مخصوص تاریخ پر گفتگو نہیں کرتے۔’۔۔۔ لیکن صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے میں یہ قیاس کر رہا ہوں کہ نواز شریف ستمبر کے تیسرے یا چوتھے ہفتے تک پاکستان آ جائیں گے۔‘

واضح رہے کہ موجودہ چیف جسٹس پاکستان 17 ستمبر کو عہدے سے ریٹائرڈ ہورہے ہیں ، ان کی جگہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ یہ عہدہ سنبھالیں گے۔اس لحاظ سے نواز شریف کی واپسی چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہوگی۔یاد رہے کہ نواز شریف کو 2018 میں العزیزیہ ملز اور ایون فیلڈ کرپشن کیسز میں سزا سنائی گئی تھی، العزیزیہ ملز ریفرنس میں انہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں 7 برس کے لیے قید کردیا گیا تھا تاہم کچھ ہی عرصے بعد انہیں طبی بنیادوں پر لندن جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

Back to top button