حکومتی باغی زیادہ ہیں اور نون لیگ کے پاس سیٹیں کم

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ تحریک انصاف میں عمران خان کے خلاف کھلی بغاوت کے بعد اب نون لیگ کے لیے یہ مشکل پیدا ہوگئی ہے کہ اسکے پارٹی ٹکٹ کے خواہش مند باغی حکومتی اراکین زیادہ ہیں، جبکہ ان کے پاس سیٹوں کی گنجائش کم ہے۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ اگر سپیکر قومی اسمبلی عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے اجلاس بلانے میں اتنی تاخیر نہ کرتے تو شاید حکومتی جماعت کے اندر اتنی بڑی بغاوت بھی نہ ہوتی۔ یاد رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد 8 مارچ کو دائر ہوئی تھی جس پر ووٹنگ 7 سے 14 دن کے اندر کروائی جانا تھی۔ تاہم اپنی شکست یقینی دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے عدم اعتماد پر ووٹنگ کے عمل کو مسلسل لٹکا کر اب 28 مارچ پر لے جایا جا رہا ہے جو کہ واضح طور پر آئین کی خلاف ورزی یے۔ 1973 کے آئین کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کے عمل کو 14 دن کے اندر مکمل ہونا تھا جبکہ عمران خان کے معاملے میں ووٹنگ 20 روز بعد کروائی جائے گی جس سے حکومتی بد نیتی صاف ظاہر ہے۔
حکومتی جماعت تحریک انصاف میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف کھلی بغاوت پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایسے پی ٹی آئی ایم این ایز کے نام بھی سامنے آئیں گے جنہوں نے پرویز الٰہی سے ڈیل کی ہے کہ اگر وہ عمران خان کا ساتھ چھوڑیں گے تو (ق) لیگ اگلے الیکشن کیلئے انہیں ٹکٹ دے گی۔ جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ ’حکومت کو صورت حال کا اندزاہ ہی نہیں، انہیں پتا ہی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے، انکا کون سا ساتھی ان کے ساتھ ہے اور کون سا اپوزیشن کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی وزرا اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں جس کا نتیجہ صفر نکلے گا کیونکہ ناراض اراکین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اب انہیں کنٹرول کرنا ممکن نہیں۔
حامد میر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے بہت سارے باغی ممبران قومی اسمبلی سندھ ہاؤس میں قیام پذیر نہیں بلکہ کسی اور جگہ پر پناہ لیے ہوئے ہیں، وہ عمران خان کے خلاف ہیں، انہوں نے بتایا کہ میں کوشش کررہا تھا کہ ایسے لوگ بھی کیمرے پر آ کر بات کر لیں لیکن وہ تیار نہیں ہو رہے، انکے اپنی سکیورٹی کے حوالے سے تحفظات ہیں جس وجہ سے وہ ابھی سامنے نہیں آنا چاہتے، سندھ ہاوس جا کر پی ٹی آئی کے باغی اراکین قومی اسمبلی کے انٹرویوز کرنے والے حامد میر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کئی دیگر باغی اراکین قومی اسمبلی کو بھی تحفظ دینے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ وہ بھی عمران خان کے خلاف ووٹ کاسٹ کرنا چاہتے ہیں لیکن خطرات کا شکار ہیں۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ لگ رہا ہے کہ اس دفعہ جو لوگ حکومتی جماعت سے منحرف ہو کر سندھ ہاؤس، چک شہزاد اور ٹیکسلا میں چھپے بیٹھے ہیں انہوں نے پیسے لینی کی بجائے یہ سیاسی بارگیننگ کی ہے کہ وہ اگلا الیکشن (ن) لیگ، پی پی پے، (ق) لیگ اور جے یو آئی کے ٹکٹ پر لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ’ آنے والے دنوں میں ایسے پی ٹی آئی ایم این ایز کے نام بھی سامنے لاوں گا جنہوں نے پرویز الٰہی سے ڈیل کی ہے کہ اگر وہ عمران خان کا ساتھ چھوڑیں گے تو (ق) لیگ اگلے الیکشن کیلئے انہیں ٹکٹ دے۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ اگر سپیکر قومی اسمبلی شروع میں ہی اجلاس بلا لیتے تو پی ٹی آئی کے باغی ارکان کی تعداد 16 سے اوپر نہ جاتی، تاہم ووٹنگ کروانے میں تاخیر کی وجہ سے اراکین اسمبلی دوسری جماعتوں کے رابطے میں آگئے اور بغاوت پر آمادہ ہو گئے۔
حامد میر نے کہا کہ ’عمران خان کی جانب سے سیاسی حکمت عملی اپنانے کی بجائے مسلسل بدزبانی کے بعد ان کی جماعت کے کئی اور اراکین اسمبلی بھی پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کپتان کے لیے ابھی اور سرپرائز بھی آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز لیگ والوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے کتنے لوگوں کو اپنی جماعت میں ایڈجسٹ کریں۔ جن لوگوں کو نواز لیگ کا ٹکٹ نہیں مل رہا وہ قاف لیگ کی طرف جا رہے ہیں جبکہ سندھ سے تعلق رکھنے والے حکومتی اراکین قومی اسمبلی پیپلز پارٹی سے رجوع کر رہے ہیں۔ کچھ اراکین اسمبلی ایسے بھی ہیں جن کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے اور وہ جے یوآئی سے رابطے میں ہیں۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے سندھ ہاؤس میں حکومتی جماعت کے اراکین قومی اسمبلی کی موجودگی کے ردعمل میں سندھ میں گورنر راج لگانے کی دھمکی تو دے دی ہے لیکن ایسا کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے بگڑتے ہوئے تیور دیکھ کر وفاقی سیکریٹری داخلہ، اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کے عہدیداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی سیاسی عمل کا حصہ بننے سے گریز کریں کیونکہ اب موجودہ حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔ تین سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضاگیلانی، راجا پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے آئینی عمل میں پولیس اور انتظامیہ فریق بنی تو یہ آئین شکنی ہوگی۔ تینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر سندھ ہاﺅس میں پولیس گردی کی گئی تو نتائج کے ذمہ دار عمران خان اور وزیرداخلہ ہوں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کسی قسم کی آئین شکنی کرنے اور ان کی مدد کرنے والوں کو سخت سزا کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ سابق وزرائے اعظم نے انتباہ دیا کہ ارکان قومی اسمبلی کے خلاف پولیس گردی پارلیمنٹ پر حملہ تصور ہوگا، پارلیمنٹ لاجز والی حرکت سندھ ہاﺅس میں دہرائی گئی تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان 172 اراکین اسمبلی نہیں لا پا رہے، پولیس اور انتظامیہ کے ذریعے ان کے اغوا کی تیاری کی جا رہی ہے، اور حکومت کے اوچھے ہتھکنڈے اس بات کا اعلان ہیں کہ عمران خان اکثریت اور ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں۔
