حکومت کی جانب سے عوام پر پٹرول بم گرانے کا امکان

کپتان حکومت کی جانب سے پٹرولیم کی قیمتوں میں 10 روپے فی لیٹر کا ایک اور ہوشربا اضافہ کرنے کی تجویز نے عوام کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت آج 15 ستمبر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرِ ثانی کرے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا کے حساب کتاب کو قبول کر لیتی ہے تو آئندہ 15 روز کے لیے پٹرولیم پراڈکٹس کی قیمتوں میں 10 روپے 50 پیسے فی لیٹر تک کا اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے ملک بھر میں مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہو جائے گا۔ تاہم ایک حکومتی وزیر نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ وفاقی حکومت مہنگائی کے دباؤ سے بچنے کے لیے درآمدی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کے جزوی اثرات ہی عوام تک منتقل کرے۔
دوسری طرف وفاقی حکومت کی پٹرولیم ڈویژن کو اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بارے میں ورکنگ پیپر موصول ہو گیا ہے جس میں موجودہ پٹرولیم لیوی اور جنرل سیلز ٹیکس کی شرح اور درآمد کی برابری کی قیمت مقرر کرنے کا کہا گیا ہے۔ ورکنگ پیپر کے مطابق ریگولیٹر نے پٹرول کی ایکس ڈپو قیمت میں ایک روپے فی لیٹر اضافے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت میں تقریبا 10 روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافے کا حساب لگایا ہے۔ اسی طرح لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی ایکس ڈپو قیمت میں 5 روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
یہ اضافہ تیل کی بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافے اور بنیادی طور پر گزشتہ 24 روز کے دوران خراب ہوتے ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دو ایسی مصنوعات ہیں جو ملک میں بڑے پیمانے پر اور بڑھتی ہوئی کھپت کی وجہ سے حکومت کے لیے زیادہ تر ریونیو پیدا کرتی ہیں۔ ملک میں پٹرول کی اوسطاً فروخت ساڑھے 7 لاکھ ٹن تک پہنچ چکی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ماہانہ کھپت 8 لاکھ ٹن ہے۔ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی ماہانہ فروخت عمومی طور پر بالترتیب 11 ہزار اور 2 ٹن سے کم ہے۔ ماہانہ حساب کتاب کے سابقہ میکانزم کے بجائے نظر ثانی شدہ میکانزم کے تحت حکومت کی جانب سے ہر 15 روز بعد تیل کی قیمتوں پر نظر ثانی کی جاتی ہے تاکہ پاکستان اسٹیٹ آئل کی درآمدی لاگت کی بنیاد پر پلاٹ آئل گرام میں شائع ہونے والی بین الاقوامی قیمتوں کو منتقل کیا جا سکے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے اضافے کا فیصلہ کر لیا تو ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہو جائے گا جو عوام کی زندگی مزید اجیرن کر دے گا۔
