دماغ کو ہر عمر میں جوان رکھنے میں مدد دینے والی آسان عادات

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جسم چاہے جتنا بھی مضبوط ہو اگر دماغی طور پر کمزور ہو تو دنیا میں آگے بڑھنے یا روشن مستقبل کا تصور تک ممکن نہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ لوگ جسمانی صحت پر تو توجہ دیتے ہیں مگر دماغی نشوونما کو نظرانداز کردیتے ہیں۔
درحقیقت دماغ ہمارے جسم کا ایسا حصہ ہے جس کو عمر بڑھنے سے آنے والی تنزلی سے تحفظ دینے میں کبھی تاخیر نہیں ہوتی بلکہ آپ کسی بھی عمر میں چند عادات یا چیزوں کو اپنا کر ذہنی طور پر جوان رہ سکتے ہیں۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ دماغ اتنا بوڑھا ہوچکا ہے کہ نئی چیزیں نہیں سیکھ سکتا بلکہ دماغٰ تنزلی سے بچنا ممکن نہیں تو جان لیں دماغی عصبی خلیات اس حصے میں مسلسل بنتے رہتے ہیں جو یادوں کے تجزیے کا کام کرتے ہیں اور یہ عمل 90 سال کی عمر کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
کینیڈا کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ دماغ کو مضبوط بنانے والی عادات کو روزمرہ کا معمول بنانا بڑھاپے اور امراض کے خلاف زیادہ مزاحمت میں مدد دیتا ہے۔
ایسی ہی چند آسان سی عادات کے بارے میں جانیں جو دماغ کو جسمانی عمر میں اضافے کے باوجود بوڑھا نہیں ہونے دیتیں۔
متحرک ہونا
شٹر اسٹاک فوٹو
طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ درمیانی عمر میں روزانہ 10 ہزار یا اس سے زائد قدم چلتے ہیں، ان کا دماغ ہم عمر ساتھیوں کے مقابلے میں اوسطاً 2.2 سال زیادہ جوان ہوتا ہے۔ مزید براں 2018 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ عمر کے ساتھ فٹنس برقرار رکھنا درمیانی عمر یا بڑھاپے میں ڈپریشن سے بچانے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسمانی سرگرمیاں ورم کو کم کرکے ایسے کیمیکلز کے اخراج کے عمل کو متحرک کرتی ہیں جو دماغی خلیات اور دماغی شریانوں کی نشوونما کو حرکت مین لاتے ہیں۔ جسمانی سرگرمیاں ذہنی تناﺅ اور نیند کو بھی بہتر کرتی ہیں جس سے بھی دماغ کو صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
سبز سبزیاں
شٹر اسٹاک فوٹو
طبی جریدے نیورولوجی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ کم از کم ایک بار سبز سبزیاں کھاتے ہیں وہ ایسے افراد جو کبھی کبھار ان سبزیوں کو کھاتے ہیں، دماغی طور پر 11 سال زیادہ جوان ہوتے ہیں۔ محققین کا ماننا ہے کہ پالک اور ساگ وغیرہ میں موجود ایک جز لیوٹین اس کی وجہ ہوسکتا ہے۔ اس سے قبل ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ لیوٹین دماغ کے گرے میٹر کی شرح بڑھانے میں مدد دیتا ہے، گرے میٹر کا تعلق یاداشت سے ہوتا ہے، آپ جتنا زیادہ سبز سبزیوں کی شکل میں لیوٹٰن کو جزوبدن بنائیں گے، طویل المعیاد بنیادوں پر دماغ کو اتنا ہی فائدہ حاصل ہوگا۔
دماغی آزمائش کے کھیل
شٹر اسٹاک فوٹو
اخبارات میں آنے والے کراس ورڈ یا معمے، شطرنج یا کسی بھی قسم کا دماغ کو متحرک کرنے والا کھیل لوگوں کی دماغی عمر کو 8 سال تک کم کرسکتی ہے، درحقیقت ایسے افراد کی مسائل حل کرنے کی ذہنی صلاحیت اپنے سے ایک دہائی چھوٹے افراد کے برابر ہوسکتی ہے۔
بلڈ پریشر کو کنٹرول کریں
شٹر اسٹاک فوٹو
ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم ہو کہ بلڈ پریشر بڑھنے کے نتیجے میں امراض قلب اور فالج کا خطرہ بھی بڑھتا ہے، مگر عمر کی چوتھی، 5 ویں یا چھٹی دہائی میں فشار خون کا شکار ہونا بعد کی زندگی میں ذہن کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
نیند کی اہمیت کو سمجھیں
شٹر اسٹاک فوٹو
طبی ماہرین کے مطابق اگر آپ چاہتے ہیں کہ عمر کے ساتھ بھی دماغی کارکردگی برقرار رہے تو اچھی نیند کو ترجیح بنائیں۔ طبی تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا کہ اچھی اور گہری نیند ایسے ہارمونز کی نشوونما کے لیے ضروری ہے جو صحت مند دماغی عمل جیسے یاداشت اور ہوشیاری وغیرہ کو تنزلی سے بچاتے ہیں۔ ہمارا دماغ مختلف نقصان دہ اجزا جیسے امینو ایسڈ، بیٹا ایمیلوئیڈ کی صفائی کا کام نیند کے دوران کرتا ہے، اگر نیند کا معیار ناقص ہو تو اس کچرے کی صفائی نہیں ہوتی اور وہ جمع ہونے لگتا ہے۔ بیٹا ایمیلوئیڈ الزائمر کا باعث بننے والا اہم ترین عنصر ہے۔
جنک فوڈ سے گریز
شٹر اسٹاک فوٹو
اپنے پیٹ کو فاسٹ یا جنک فوڈ سے بھرنا دماغ میں مدافعتی خلیات کو متحرک کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں کم درجے کے ورم کا سامنا ہوسکتا ہے جو الزائمر امراض کا ایک اہم سبب ثابت ہوتا ہے۔ 2015 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جنک یا پراسسیس غذاﺅں کا استعمال دماغی ٹشوز کا حجم گھٹاتا ہے اور ڈیمینشیا یا دماغی تنزلی کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر آپ زندگی بھر فاسٹ فوڈ ہی کھاتے رہے ہیں تو اب بھی صحت بخش غذا کو اپنالینا دماغی تنزلی کا خطرہ کم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔
اچھے دوست بھی دماغ کے لیے فائدہ مند
شٹر اسٹاک فوٹو
ہارورڈ میڈیکل اسکول کے مطابق جذباتی سپورٹ دماغی کے ایسے مخصوص حصوں میں تحرک پیدا کرتی ہے جو ایسے مرکب یا مالیکیول بنانے میں مدد دیتے ہیں جو دماغی خلیات کی مرمت کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے جبکہ وہ نئے کنکشن بھی بناتے ہیں۔ سماجی طور پر الگ تھلگ ہوجانے کے حوالے سے 2017 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس کے نتیجے میں اس مرکب کی سطح میں کمی آتی ہے اور الزائمر امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔ محققین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ سماجی روابط میں کمی آتی ہے تو یہ ضروری ہے کہ جو آپ کے دوست ہیں، ان کے ساتھ تعلق کو زیادہ مضبوط بنائیں۔
بیریز کو کھانا عادت بنائیں
شٹر اسٹاک فوٹو
اسٹرابیری، بلیو بیری، شہتوت یا کسی بھی قسم کی بیری دماغی صحت کے لیے بہترین ثابت ہوتی ہے، اس کی وجہ ان میں ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس کی موجودگی ہے جو تکسیدی تناﺅ کے خلاف لڑتے ہیں۔ تکسیدی تناﺅ دماغ کو تحفظ دینے والے اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی ایک قسم ڈی ایچ اے کی سطح میں کمی لاتا ہے۔ ہفتے میں چند بار کچھ مقدار میں بیریز کو کھانا ڈی ایچ اے کی سطح کو تحفظ فراہم کے دماغی افعال درست رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ آسان الفاظ میں ایک ہفتے میں 3 یا 4 بار اسٹرابیری کھا کر یاداشت کی کمزوری کا خطرہ ڈھائی سال تک کم کیا جاسکتا ہے۔
