زرتاج گل کہتی ہیں سیاست انکا حسن اور جوانی کھا گئی

اپنے دور حکومت میں اکثر بونگیاں مارنے والی سابق وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل نے اب ایک تازہ بونگی مارتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں ان کے شوہر بہت ہینڈسم تھے اور وہ بھی بہت خوبصورت ہوتی تھیں مگر اب وقت نے ان کے شوہر کا اور سیاست نے ان کی جوانی کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ زرتاج گل بطور وفاقی وزیرعمران خان کی ’سمائل‘ کو کلر قرار دے چکی ہیں۔ وہ ان کی اتنی مداح ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی بارشوں کا کریڈٹ بھی خان صاحب کو دے دیا کرتی تھیں چونکہ ان کے پاس موسمیات کی وزارت تھی۔ اپنے ایسے ہی بیانات کے باعث زرتاج گل اکثر خبروں میں رہتی تھیں۔
اب زرتاج گل کے ایک انٹرویو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ ان کا نام خالص پشتون زبان کا نام ہے اور انہیں اچھا لگتا ہے جب کوئی انہیں مکمل نام یعنی زرتاج گل وزیر سے پکارتا اور بلاتا ہے، زرتاج نے بتایا کہ انکے شوہر نے کبھی کھل کر انکے حسن کی تعریف نہیں کی۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی تب انہیں شوہر کی تعریفوں کا انتظار رہتا تھا مگر انہوں نے کبھی ان کی تعریف نہیں کی۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ انہیں بطور ایم این اے اپنی تنخواہ ملتی ہے مگر اس باوجود وہ شوہر سے خرچہ لیتی ہیں، کیوں کہ انہیں خرچہ فراہم کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مذاق مذاق میں یہ بھی شکوہ کیا کہ انہیں شوہر نے کبھی کوئی تحفہ نہیں دیا، اور نہ جانے وہ کس کو تحفے دیتے ہیں، انہوں نے کہا جس طرح ان کے والد ہینڈسم ہیں، اسی طرح ماضی میں ان کے شوہر بھی ہینڈسم ہوا کرتے تھے اور وہ خود بھی کسی زمانے میں خوبصورت ہوتی تھیں مگر سیاست کی تپش نے ان کا بیڑا غرق کردیا۔
زرتاج گل نے بتایا کہ اگرچہ ان کے علاقے ڈیرہ غازی خان سے پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم بھی منتخب ہوئے مگر نہ تو وہاں کوئی ترقی ہو پائی اور نہ ہی غربت کا خاتمہ ہو پایا۔ انکے مطابق بنیادی وجہ یہ ہے کہ اقتدار میں آنے والوں کا بنیادی مقصد صرف اپنی ہی زندگی بہتر بنانا تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ ماضی میں ان کے علاقے سے منتخب ہونے والے سیاستدان اپنے علاقے کے بجائے لاہور اور اسلام آباد میں زیادہ رہتے تھے جب کہ وہ دارالحکومت کے بجائے اپنے علاقے میں زیادہ رہتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ڈیرہ غازی خان کے علاوہ کسی دوسرے شہر میں کوئی گھر نہیں۔
