پنجاب اسمبلی میں افغان قونصل جنرل کیخلاف متفقہ قراردادمنظور

پنجاب اسمبلی میں قومی ترانےکااحترام نہ کرنےوالےافغان قونصل جنرل کےخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظورکرلی گئی۔

تفصیلات کےمطابق پنجاب اسمبلی کےاجلاس میں حکومتی رکن امجد علی جاوید نےقومی ترانے کا احترام نہ کرنےپرافغان قونصل جنرل کےرویے اورہٹ دھرمی کےخلاف قرارداد پیش کی۔

قراردادکے متن میں لکھا گیا کہ اففان قونصل جنرل کی جانب سےپاکستان کے قومی ترانےکااحترام نہ کرنےکی مذمت کرتا ہےاور وفاقی حکومت سےمطالبہ کرتاہے کہ اس معاملے پر افغانستان سے احتجاج کیا جائے۔

قرارداد میں لکھا گیا کہ وفاقی حکومت سےمطالبہ کرتا ہےکہ افغان حکومت کو پاکستانی عوام کےجذبات سےآگاہ کرے۔پنجاب اسمبلی نےقرادداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔

دوسری جانب اسپیکرپنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نےپارلیمانی رولزمیں ترمیم اورعمل درآمد کااعلان کردیا۔

اسپیکر پنجاب نےرولنگ میں کہا کہ پنجاب اسمبلی کےہراجلاس میں قومی ترانہ لازمی قرار دےدیاجائےگااورسپیکرنےرولز میں ترمیم کرکےاختیارات اسٹینڈنگ کمیٹی کو دےدیے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نےکہا کہ پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی ٹولزکوبہتر بنانےکے لیےاقدامات کئےاور ہراجلاس کےآخرمیں اراکین صوبائی اسمبلی مفاد عامہ سے متعلق مسائل سیکرٹریٹ کوبتائےبغیرایوان میں پیش کر سکیں گے۔پنجاب اسمبلی میں ہر تین ماہ بعد بجٹ اخراجات کی تفصیلات اسمبلی میں پیش کی جائیں گی اوراگر کسی ممبر کوپولیس نےگرفتار کرنا ہےتوپہلےاسپیکرسےاجازت لینا ہوگی، تب ہی گرفتاری ممکن ہوسکےگی۔

سوات دھماکے میں کون سے 23 غیر ملکی سفارتکار بال بال بچ گئے؟

ملک احمد خان نےمزید کہا کہ پنجاب اسمبلی میں اب اردو اورانگلش کےعلاوہ کسی علاقائی زبان میں بھی بات کرنےکی اجازت ہو گی جبکہ اسمبلی میں سالانہ بجٹ بحث کی مدت چار ماہ سےبڑھا کرپانچ ماہ تک کی جائےگی۔پنجاب اسمبلی میں18ویں ترمیم کےبعد وہ اختیارات نہیں تھےجو قومی اسمبلی کےپاس تھےلیکن اب اسٹینڈنگ کمیٹیاں سماعت ان کیمرہ کےبجائےاوپن کرسکیں گی لیکن اس سماعت کےلیےآرڈر پاس کرنا ہوگا۔

Back to top button