مخصوص نشستوں کے فیصلے پرالیکشن کمیشن کا سخت ردعمل

مخصوص نشستوں کے عدالتی فیصلے نےناکارہ کردیا ۔تفصیلی فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کا سخت ردعمل سامنے آگیا۔
۔ ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے نے الیکشن ایکٹ کو غیرفعال بنادیا ہے، الیکشن کمیشن اب کس قانون کے تحت کام کرے؟
ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر ناکارہ کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا پانچواں اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیاتھا ۔
ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں الیکشن کمیشن کے ممبران، حکام اور قانونی ٹیم شریک ہوئی۔
الیکشن کمیشن آج بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کا فیصلہ نہ کر سکا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے مشاورتی اجلاس کل دوبارہ طلب کر لیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا بھی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ قانونی ٹیم کو تفصیلی فیصلہ حاصل کر کے تفصیلی بریفنگ کی تیاری کی ہدایت کر دی گئی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کاتفصیلی فیصلہ جاری کردیا جس میں کیاگیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا یکم مارچ فیصلہ آئین سے متصادم ہے۔
مخصوص نشستوں سے متعلق تفصیلی فیصلہ 70 صفحات پر مشتمل ہے، تفصیلی فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نےتحریر کیاہے۔
سپریم کورٹ نےمخصوص نشستوں سے متعلق اکثریتی فیصلہ اردو زبان میں بھی جاری کرنے کا حکم دے دیا، احکامات کےمطابق اردو ترجمے کو کیس ریکارڈ کاحصہ بنایاجائے اور ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کیاجائے۔
تفصیلی فیصلے میں بتایاگیا ہےکہ سپریم کورٹ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قراردیتی ہے، الیکشن میں سب سے بڑا اسٹیک عوام کا ہوتاہے، انتخابی تنازع بنیادی طور پر دیگر سول تنازعات سے مختلف ہوتا ہے، یہ سمجھنے کی بہت کوشش کی کہ سیاسی جماعتوں کےنظام پر مبنی پارلیمانی جمہوریت میں اتنے آزاد امیدوار کیسےکامیاب ہوسکتے ہیں؟
فیصلے کےمطابق اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا، پی ٹی آئی کا یہ دعویٰ تھا کہ آزاد امیدوار بھی پی ٹی آئی کےامیدوار تھے، پی ٹی آئی کےمطابق ووٹرز نے ان کے پی ٹی آئی امیدوار ہونے کی وجہ سے انہیں ووٹ دیا۔
تحریری فیصلے میں بتایا گیاکہ الیکشن کمیشن کےیکم مارچ کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، الیکشن کمیشن کا یکم مارچ کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے۔
فیصلے میں کہاگیا ہے کہ الیکشن کمیشن ملک میں جمہوری عمل کا ضامن اور حکومت کا چوتھا ستون ہے، الیکشن کمیشن فروری 2024 میں اپنا یہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔
تفصیلی فیصلے میں 8 ججز نے 2 ججز کےاختلافی نوٹ پر تحفظات کا اظہار کردیا، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان نے 12 جولائی کے اکثریتی فیصلے کو آئین سےمتصادم قراردیا۔2 ججز کے تحفظات کے حوالے سے فیصلے میں بتایا گیا کہ جس اندازمیں دو ججز نےاکثریتی فیصلےپر اختلاف کا اظہار کیاوہ مناسب نہیں۔
70صفحات کےتفصیلی فیصلے میں8 ججز نے سپریم کورٹ کے دو ججوں کی اپنے 12 جولائی کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دینے کے ریمارکس کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے اور کہا ہے کہ جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان کا عمل سپریم کورٹ کے ججز کے منصب کے منافی ہے۔
یاد رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دے دیا تھا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی کاپارلیمانی رولزمیں ترمیم،عملدرآمد کااعلان
یاد رہے کہ 9 جولائی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا
