سینیٹ کمیٹی نے تمباکوشعبے کا1120ارب کے ٹیکس کاڈیٹامانگ لیا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کی ذیلی کمیٹی نے ایف بی آر کی جانب سے بار بار یقین دہانی کے باوجود ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں تمباکو کے شعبے سے متعلق 1120 ارب روپے کے کھپت سرٹیفکیٹس اور ٹیکس ریکارڈ پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مطلوبہ تفصیلات دوبارہ طلب کرلیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں صحافتی آزادی، سگریٹ کی اسمگلنگ، ٹیکس چوری اور تمباکو کے شعبے میں ٹیکس و ڈیوٹی سے متعلق بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا گیا۔
ایف آئی اے نے اجلاس کو پشاور میں سگریٹ چوری کے مقدمات کی تحقیقات کے بارے میں بریفنگ دی، جبکہ پیرا ماؤنٹ ٹوبیکو کمپنی سے متعلق ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو فہیم رشید کے خلاف تحقیقات اور ٹیکس چارج شیٹ کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔
اجلاس میں ایف بی آر کے گودام سے 25 کروڑ روپے مالیت کے 2 ہزار 828 چوری شدہ سگریٹ کارٹن کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے ایف بی آر کو ضبط شدہ سامان کی رجسٹریشن اور نگرانی کے لیے واضح قواعد و ضوابط مرتب کرنے کی ہدایت کی۔
سابق فاٹا اور پاٹا کے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں درآمد شدہ خام مال کے استعمال کے سرٹیفکیٹس کے اجرا کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2018 سے 2026 کے دوران ان علاقوں میں 1120 ارب روپے مالیت کا ٹیکس سے مستثنیٰ خام مال پہنچا، تاہم اس کی نگرانی اب بھی زیادہ تر دستی طریقے سے کی جا رہی ہے اور خودکار تصدیقی نظام موجود نہیں، جس سے خام مال کے ٹیکس والے علاقوں میں غیر قانونی منتقلی کا خدشہ ہے۔
کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں 1120 ارب روپے کے خام مال کے کھپت سرٹیفکیٹس اور تمباکو کے شعبے، بالخصوص دو بڑی کمپنیوں، سے متعلق ٹیکس ریکارڈ فوری طور پر پیش کرے۔
