سردی میں گیس لوڈ شیڈنگ کے نئے ریکارڈ بننے کا خدشہ


اس برس عالمی سطح پر ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے اور اسکی سپلائی میں کمی کی وجہ سے پاکستان میں گیس کی لوڈشیڈنگ کے پچھلے سارے ریکارڈ ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جس سے گیس صارفین شدید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔ امریکی کمپنی ’بلومبرگ‘ نے یہ دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ قدرتی گیس کا عالمی بحران اس برس پاکستان کی روشنیاں بجھانے کا سبب بن سکتا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق گذشتہ چھ سالوں میں پاکستان لکوڈ نیچرل گیس یا ایل این جی درآمد کرنے والے 10 بڑے ملکوں میں شامل ہے اور پہلے سے ہی مہنگی ترین ایل این جی خریدنے پر مجبور ہے۔ پاکستان نے صرف چھ سال پہلے ایل این جی کی درآمد شروع کی تھی لیکن اس کا انتہائی سرد ایندھن پر بڑھتا ہوا انحصار اب ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہونا شروع ہو چکا ہے۔
یورپ میں قلت کی وجہ سے عالمی سطح پر گیس کی قیمت میں اضافے نے ایشیائی ایل این جی کو سال کی بلند ترین ریکارڈ قیمت کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اس صورت حال نے پاکستان کو طویل المدتی معاہدوں کے تحت سپلائی بڑھانے کی خاطر سپاٹ شپمنٹس یعنی تمام اخراجات کے ساتھ فراہمی کے لیے اب تک کی سب سے زیادہ ادائیگی کرنے یا شپمنٹس کو مکمل طور پر چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے پچھلے برس گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کے بعد اس مرتبہ بھی نرخوں میں مزید 35 فیصد اضافہ کردیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف حکومت نا انصافی کرتے ہوئے ایک طرف گیس کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کر کے مہنگائی کے پہاڑ توڑ رہی ہے اور دوسری جانب گیس کی لوڈشیڈنگ پر بھی قابو پانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ موسم سرما میں گیس کی لوڈ شیڈنگ غریب طبقے کو بری طرح متاثر کرتی ہے کیونکہ ایک طرف گیس کا بھاری بل ادا کرنا مشکل ہوتا ہے جبکہ دوسری جانب اسکی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کھانا تیار کرنا اور گھر کو گرم رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ یورپ میں توانائی کا بحران باقی دنیا کو بھی متاثر کرے گا۔ پاکستان میں اہم درآمدی ٹرمنلز میں سے ایک کی مالک کمپنی پاکستان گیس پورٹ کے چیئرمین اقبال زیڈ احمد نے کہا ہے کہ گیس کی قلت کا لازمی طور پر یہ مطلب ہے کہ سردیوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو گی۔اس سے ہماری برآمدات، صنعتیں اور سب سے بڑھ کر عوامی حوصلہ متاثر ہوں گے۔ انہون نے کہا کہ بجلی عیاشی نہیں ہے۔ برطانیہ سے لے کر چین تک توانائی کا بحران ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بھی ہلچل کا سبب بنے گا جو پہلے ہی ایندھن کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ وہ معیشتیں جو مہنگے ایندھن کی طاقت نہیں رکھتیں وہ اس وقت بند ہو سکتیں ہیں جب شمالی نصف کرے میں موسم سرما میں حرارت کی طلب بڑھ جاتی ہے اور ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔گذشتہ دہائی کے دوران پاکستان سمیت ابھرتی ہوئی قوموں نے ایل این جی کی درآمد کی حکمت عملی اس بنیاد پر بنائی کہ مستقبل کے لیے ایندھن وافر اور سستا ہوگا جیسا کہ پچھلے کئی سال میں تھا، لیکن اس سال یہ سلسلہ بند ہو گیا ہے کیونکہ ایشیائی ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کو درکار ایل این جی میں سے آدھی سے زیادہ طویل المدتی معاہدوں کے تحت حاصل ہوتی ہے جو غیر مستحکم سپاٹ مارکیٹ کے خلاف کچھ تحفظ فراہم کرتی ہے۔ پاکستان میں سپاٹ ایل این جی کی زیادہ قیمت نے سیاسی تنازعے کو جنم دیا ہے۔ حزب اختلاف کے سیاست دانوں نے سرکاری درآمد کنندہ کی جانب سے ہونے والی خریداری کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ گیس کے زیادہ اخراجات حکومت پر دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ وہ جہاں ممکن ہو صارفین کو بجلی استعمال کرنے کی ترغیب دے تا کہ صنعت اور حرارت کی ضروریات کے لیے گیس بچائی جا سکے۔ اسکے علاوہ مہنگی گیس نے اس کے گاڑیوں میں استعمال کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

Back to top button