IMF کی 11 نئی شرائط، گیس اور بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

پاکستان ایک بار پھر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط اور معاشی دباؤ کے نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ نئی جائزہ رپورٹ میں آئی ایم ایف نے پاکستان پر مزید 11 نئی شرائط عائد کرتے ہوئے گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافے، مالی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور احتسابی اداروں کی خودمختاری سے متعلق اہم مطالبات سامنے رکھ دیے ہیں۔اگرچہ عالمی ادارے نے پاکستانی معیشت میں بہتری، مہنگائی میں کمی اور زرمبادلہ ذخائر میں استحکام کا اعتراف کیا ہے، لیکن ساتھ ہی ایران جنگ، عالمی غیر یقینی صورتحال اور اندرونی مالی دباؤ کو پاکستان کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ نئی شرائط نہ صرف آنے والے بجٹ کو متاثر کریں گی بلکہ عام شہری کی زندگی پر بھی براہِ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔
خیال رہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے متعلق اپنی تازہ جائزہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے حکومت پر 11 نئی شرائط عائد کر دی ہیں، جس کے بعد آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مجموعی شرائط کی تعداد بڑھ کر 55 ہو گئی ہے۔ ان نئی شرائط میں توانائی کے نرخوں میں ردوبدل، مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور احتسابی نظام کو مزید خودمختار بنانے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان کو جولائی 2026 اور فروری 2027 میں گیس ٹیرف میں تبدیلی کرنا ہوگی جبکہ جنوری 2027 میں بجلی کے نرخ ایڈجسٹ کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد توانائی کے شعبے میں مالی خسارے کو کم کرنا اور گردشی قرضے پر قابو پانا بتایا جا رہا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف نے نیب کو مزید خودمختار اور شفاف بنانے کی شرط بھی شامل کی ہے تاکہ احتسابی عمل کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان میں معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی شفافیت کو بھی ضروری سمجھتا ہے۔
رپورٹ میں مزیدکہا گیا ہے کہ پاکستان نے کئی اہم مالی اہداف حاصل کیے ہیں، خاص طور پر مہنگائی پر قابو پانے، زرمبادلہ ذخائر بہتر بنانے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو محدود رکھنے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ پہلی ششماہی کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی، جسے معاشی بحالی کی مثبت علامت قرار دیا گیا۔تاہم آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستانی معیشت اب بھی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ رپورٹ میں ایران اور خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کو پاکستان کیلئے بڑا معاشی خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھی تو تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس سے پاکستان میں مہنگائی، درآمدی بل اور ادائیگیوں کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کچھ ٹیکس اہداف اور اصلاحاتی اقدامات اب تک مکمل نہیں ہو سکے، جس کے باعث حکومت کو آئندہ بجٹ میں مزید سخت فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کی جائیں اور دوسری جانب عوام کو مزید مہنگائی سے بچایا جائے۔
ناقدین کے مطابق ہر نئے قرض پروگرام کے ساتھ عوام پر ٹیکسوں، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں کا اضافی بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر معیشت کو مستحکم رکھنا ممکن نہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق آنے والے مالی سال کا بجٹ اب نہ صرف حکومت بلکہ عام شہری کیلئے بھی انتہائی اہم بن چکا ہے، کیونکہ یہی بجٹ یہ طے کرے گا کہ پاکستان معاشی استحکام کی طرف بڑھتا ہے یا مہنگائی اور مالی بحران کا دباؤ مزید شدت اختیار کرتا ہے۔
