کراچی کی “کوکین کوئن” پنکی کے سیاسی و سرکاری روابط بے نقاب

کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات میں مزیدانکشافات نے تہلکہ مچا دیا ہے، جہاں “کوکین کوئن” کے نام سے مشہور انمول عرف پنکی کے سرکاری افسران، سیاسی شخصیات، ماڈلز اور اداکاروں سے مبینہ روابط بارے ٹھوس شواہد سامنے آ گئے ہیں۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق دورانِ تفتیش انمول عرف پنکی نے اعتراف کیا کہ اس کے مستقل خریداروں میں شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی شامل تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے تقریباً 100 سے 150 مستقل گاہک تھے، جبکہ متعدد ڈیلرز اس سے تیار شدہ کوکین خرید کر کراچی کے مختلف علاقوں میں آگے فروخت کرتے تھے۔تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پنکی کا منشیات نیٹ ورک نہایت منظم انداز میں چلایا جارہا تھا، جس کے تحت کراچی کے پوش علاقوں، نجی تقریبات اور بعض تعلیمی اداروں تک بھی کوکین کی ترسیل کی جاتی تھی۔ اس مقصد کے لیے 6 رکنی گینگ کام کرتا تھا، جس میں ایک خاتون اور پانچ مرد شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق گینگ کا ہر رکن مخصوص ذمہ داری نبھاتا تھا، جن میں منشیات کی سپلائی، خریداروں سے رابطہ، رقم کی وصولی اور محفوظ مقامات تک کوکین پہنچانا شامل تھا۔ انمول پنکی خود بھی منشیات فروخت کرتی تھی اور ایک گرام کوکین 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کی جاتی تھی۔تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نئے خریداروں کے لیے انتہائی محتاط طریقہ اختیار کیا جاتا تھا۔ نئے کسٹمرز کو براہِ راست منشیات فراہم کرنے کے بجائے مخصوص مقامات پر کوکین رکھوائی جاتی اور بعد میں خریدار کو خفیہ لوکیشن بھیجی جاتی تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی سے بچا جاسکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پنکی نیٹ ورک ماہانہ بنیادوں پر 5 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی کوکین فروخت کررہا تھا، جبکہ منشیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو موبائل فرنچائزز اور موبائل بیلنس ٹرانزیکشنز کی آڑ میں منتقل کیا جاتا تھا تاکہ مالی لین دین کو خفیہ رکھا جاسکے۔

ذرائع کے بقول انمول پنکی دھڑلے سے منشیات فروشی کررہی تھی ۔ ملزمہ کیش نہیں بلکہ بینک اکاؤنٹ میں اپنے کلائنٹس سے پیسے لیتی تھی اور دودھ کے ڈبے اور ڈبل روٹی کے ساتھ کوکین سپلائی کرتی تھی ۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پورا نیٹ ورک چلایا جارہا تھا ۔ پنکی اپنے کسٹمرز کو میسج کرکے منشیات کی سپلائی کے بارے میں بتاتی تھی اور کہتی تھی کہ کراچی میں یا اسلام آباد میں ، جہاں بھی آپ کو یہ مال چاہیے ، پہنچا دیا جائے گا ۔ پیسے ٹرانسفر کیجیے اور مال لیجیے ۔

واضح رہے کہ منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ ایک افسر نے میرے بھائی کو متعدد بار پکڑا اور رشوت لے کر چھوڑ دیا۔ابتدائی تفتیش کے مطابق پنکی نے کراچی میں ماہانہ 2 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات فروخت کرنے کا انکشاف کیا ہے۔تفتیش میں پنکی کے زیرِ استعمال 2 موبائل سمز افضل اور صابرہ بی بی کے ناموں پر رجسٹرڈ نکلیں۔پنکی نے بتایا کہ متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی، ایک بار پولیس اہلکار نے میرے رائیڈرز کو حراست میں لے کر 1 کروڑ کی مجموعی رشوت لی۔ پنکی کا کہنا ہے کہ لاہور سے منشیات بھیجنے کے لیے انٹر سٹی بسوں کا استعمال کیا جاتا ہے، میرا شناختی کارڈ بلاک ہوا تو سمیر کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھلوایا۔

تفتیشی حکام کے مطابق پنکی کے تینوں بھائیوں کے خلاف اسلحہ آرڈیننس اور نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہیں۔ حکام نے بتایا کہ انمول عرف پنکی کا بھائی ملزم شوکت بخش منشیات فروشی کے لیے خاص کارندہ ہے۔ ریکارڈ کے مطابق پنکی کے 6 بھائی اور 4 بہنیں ہیں جبکہ اہلخانہ سے متعلق مزید تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق اہلخانہ کا بھی منشیات فروشی میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ادھر وفاقی حساس اداروں اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے گلستانِ جوہر سے پنکی نیٹ ورک کے ایک اہم کردار کو حراست میں لے لیا ہے، جو مبینہ طور پر اکاؤنٹس اور مالی معاملات سنبھالتا تھا۔تحقیقاتی اداروں نے پنکی سے منشیات خرید کر آگے فروخت کرنے والے ڈیلرز کے گرد بھی گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جبکہ نیٹ ورک کے ممکنہ سہولت کاروں، بااثر سرپرستوں اور رابطوں کی چھان بین بھی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں مزید اہم گرفتاریاں متوقع ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ کراچی میں منشیات کے پھیلتے کاروبار کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا اور اس نیٹ ورک سے وابستہ تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

Back to top button