آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے امریکہ نے چین سے مدد مانگ لی

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز کے گرد جنگی خطرات، ایران پر عالمی دباؤ اور امریکا و چین کے درمیان طاقت کی نئی سفارت کاری نے عالمی سیاست کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر بیان اور ہر ملاقات عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور خطے کے امن پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے۔ ایسے حساس ماحول میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی بیجنگ میں ہونے والی اہم ملاقات نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے نہ صرف آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں مدد کی یقین دہانی کرائی بلکہ ایران کو اسلحہ فراہم نہ کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ دوسری جانب ایران، بھارت، عرب امارات اور برکس ممالک کے درمیان بڑھتے اختلافات نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عالمی طاقتوں کے یہ بیانات اور سفارتی اشارے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک نئے رخ اختیار کر سکتی ہے۔
خیال رہے کہ بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب آبنائے ہرمز کے اطراف صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہرمز کے قریب بحری جہازوں پر نئے حملوں اور ایرانی کارروائیوں نے بین الاقوامی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایران کی جانب سے مبینہ طور پر اسلحے سے بھرے ایک جہاز کو قبضے میں لینے جبکہ عمان کے ساحل کے قریب ایک بھارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خطے میں جنگی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔بھارت نے اپنے جہاز پر حملے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ متعدد چینی آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی طاقتوں کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور اسے ہر صورت کھلا رہنا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جا سکتے۔ تاہم چینی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں زیادہ محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، یوکرین جنگ اور تائیوان کے مسئلے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔صدر ٹرمپ نے بعد ازاں فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر نے تہران کو اسلحہ نہ دینے کا وعدہ کیا ہے اور ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق چین بھی عالمی تیل تجارت میں رکاوٹوں سے پریشان ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی سپلائی لائن سمجھی جاتی ہے۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چین نے امریکی کمپنی بوئنگ سے 200 جدید مسافر طیارے خریدنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات میں بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف شی جن پنگ نے واضح کیا کہ تائیوان کا مسئلہ چین کے لیے انتہائی حساس ہے اور اگر امریکا نے اس معاملے پر غلط قدم اٹھایا تو دونوں طاقتوں کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔چینی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واشنگٹن اور بیجنگ کو حریف کے بجائے شراکت دار بننا چاہیے۔ انہوں نے امریکی کاروباری وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین دنیا کے لیے مزید دروازے کھولے گا اور امریکی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
ادھر بھارت میں ہونے والا برکس اجلاس بھی اختلافات کی نذر ہوتا دکھائی دیا جہاں ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا کہ یو اے ای ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں میں بالواسطہ شریک رہا جبکہ امارات نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خطے میں استحکام کی حمایت کا اعادہ کیا۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ چین ایران پر دباؤ ڈالنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ ایک محتاط حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے تاکہ وہ امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھ سکے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان یہ سفارتی رابطے بظاہر کشیدگی کم کرنے کی کوشش ہیں، مگر تائیوان، ایران، یوکرین اور عالمی تجارت جیسے حساس معاملات مستقبل میں دونوں طاقتوں کے درمیان نئی کشمکش کو بھی جنم دے سکتے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں اس بات پر جمی ہوئی ہیں کہ آیا یہ سفارت کاری خطے کو جنگ سے بچا سکے گی یا آنے والے دن مزید خطرناک ثابت ہوں گے۔
