امریکی ایوانِ نمائندگان میں ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد پھر ناکام

امریکی ایوانِ نمائندگان میں ایران جنگ ختم کرنے سے متعلق ڈیموکریٹس کی پیش کردہ قرارداد ایک بار پھر ناکام ہوگئی، جس کے بعد امریکا میں جاری سیاسی تقسیم مزید نمایاں ہوگئی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق قرارداد کے حق اور مخالفت میں 212، 212 ووٹ پڑے، جس کے باعث قرارداد منظور نہ ہوسکی۔ پارلیمانی قواعد کے تحت برابر ووٹ آنے کی صورت میں قرارداد ناکام تصور کی جاتی ہے۔ حیران کن طور پر تین ری پبلکن اراکین نے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ ایک ڈیموکریٹ رکن نے مخالفت میں ووٹ ڈال کر اپنی جماعت کی پوزیشن سے اختلاف کیا۔

واضح رہے کہ یہ قرارداد امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کو روکنے کی کوشش کے طور پر پیش کی گئی تھی۔ ڈیموکریٹس کا مؤقف تھا کہ کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر امریکا کو کسی نئی جنگ یا وسیع فوجی مہم میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔اس سے قبل امریکی سینیٹ بھی ایران جنگ ختم کرنے سے متعلق اسی نوعیت کی قرارداد مسترد کرچکی ہے، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں یہ تیسرا موقع ہے جب ایسی قرارداد ناکامی سے دوچار ہوئی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ قراردادیں منظور نہیں ہو رہیں، تاہم بار بار ان کا پیش ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکا کے اندر ایران کے خلاف جنگی پالیسی پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ عوامی سطح پر بھی اس جنگ کے خلاف آوازیں بلند ہورہی ہیں، خاص طور پر نوجوان ووٹرز اور ترقی پسند حلقے مسلسل فوجی مداخلت کی مخالفت کررہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور امریکی فوجی اخراجات میں اضافے نے بھی ایران جنگ کو امریکی عوام کے لیے ایک حساس سیاسی مسئلہ بنا دیا ہے۔ دوسری جانب ری پبلکن قیادت کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف سخت پالیسی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔کانگریس میں ہونے والی حالیہ ووٹنگ کو امریکا میں آئندہ صدارتی انتخابات سے قبل خارجہ پالیسی پر بڑھتی سیاسی کشمکش کی ایک اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے

Back to top button