بیٹے حسان کیلئے انصاف کی بھیک

تحریر: حفیظ اللہ نیازی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
امریکی صدر ٹرمپ چین میں براجمان ، کالم لکھتے وقت چینی صدر شی سے دو ملاقاتیں ہو چکیں جبکہ تیسری ملاقات چل رہی ہے ۔ صدر ٹرمپ کے دورہ چین ، دو طاقتور سربراہوں کے درمیان ہونیوالی ملاقاتوں کے بارے ساری دنیا متجسس ہے ۔28فروری امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بعد دنیا کی توجہ ایران پر مرکوز ، چنانچہ ایران ایجنڈا پر پہلا آئٹم رہنا ہے ۔ بلاشبہ تائیوان، تجارت اور بین الاقوامی جغرافیائی سیاست پر سیرحاصل گفتگو رہنی ہے ۔ مگر اس پر تجزیہ اگلے ہفتے ،یار زندہ صحبت باقی ۔

حفیظ اللہ خان اپنی نبیڑ توں ! 11مئی کو میرے بیٹے بیرسٹر حسان خان نیازی کی جیل کے 1ہزاردن پورے ہو چکے ہیں ۔ حسان خان کو 13اور 14اگست 2023ء کی درمیانی شب ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا۔ اسکے بعد آج تک حسان خان پر جو بیتی وہ سچ اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ، آئین اور قانون سے صریحاً تجاوز ہے ۔

سانحہ 9مئی وطنی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے ۔ کاش ! سانحہ 9مئی میں ملوث کرداروں کو وطنی آئین و قانون کے ذریعے کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ۔ صد افسوس !سانحہ پر وطنی طول و عرض میں رنج ، غم اور غصہ ، جو کیفیت اسکا فائدہ نہ اٹھایا گیا ۔ جلاؤ ، گھیراؤ ، توڑ پھوڑ ، فوجی تنصیبات پر حملے ، دن دہاڑے دوپہر 2سے لیکر سہ پہر 4بجے تک ہوئے۔ ہر مقام پر ملوث کرداروں کی فوٹیج موجود ، چہرے پہچانے جا سکتے تھے ۔ ایسا موقع پر چند ہفتوں کے اندر مجرموں کو کیفر کردارتک پہنچایا جاسکتا تھا۔ ریاستِ پاکستان کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ساری توجہ لوٹ سیل اور مال غنیمت سمیٹنے میں لگ گئی ۔

اگلے 20دن صبح و شام تول کے حساب سے PTI کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلیوں کی معافیاں، پارٹی چھوڑنے کے اعلانات کروائے گئے۔ راتوں رات ’عدم‘ استحکام پارٹی وجود میں آئی ، جو آج اپنا وجود کھو چکی ہے۔ چشم تصور میں تحریک انصاف کو برف کی طرح پگھلتے دیکھا۔ اس حقیقت سے لاعلم کہ سیاسی جماعتیں MNA اور MPA کی مرہون منت نہیں ، بلکہ ممبران اسمبلی کی ساری سیاست ، اپنے لیڈر کی مرہون منت ہوتی ہے ۔

قومی بدقسمتی کہ جن کے ہاتھوں میں اس وقت معاملات ، وہی گرفت کی استطاعت رکھتے تھے ، غیراہم اور غیرضروری معاملات میں اُلجھ کر رہ گئے ۔

سانحہ 9مئی پر جلاؤ ، گھیراؤ ، تشدد میں ملوث کرداروں کا جرم ناقابل معافی ، مگر جن لوگوں نے سانحہ کے کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچانا تھا وہ تحریک انصاف کی بیخ کنی میں ایسے لگ گئے کہ تحریک انصاف کو ناقابل تسخیر بنا ڈالا ۔ ایسے لوگوں کی حماقتیں ہی کہ آج عمران خان کی مقبول سیاست کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ جبکہ 9مئی کے اصل کرداروں کیخلاف مقدمات پر حکومت اپنا بیانیہ بھی کمزور کر چکی ہے ۔

وطنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا واقعہ رونما ہوا کہ پانچوں صوبوں اور کشمیر میں ایک لیڈر کی سپورٹ بدرجہ اتم موجود ہے ۔ پہلی دفعہ ایک پارٹی کی سپورٹ پوری فیڈریشن میں موجود ہے ۔

میرے بیٹے کو جس جرم میں 10سال کی سزا سنائی گئی ہے ، وہ جرم صرف لاہور میں 5000 سے زیادہ لوگوں نے کیا کہ یہ سارے جناح ہاؤس کے باہر احتجاج میں تھے ۔ واقعہ کے دن میرا بیٹا جناح ہاؤس سورج ڈھلنے پر پہنچا ، جب تک جلاؤ گھیراؤ ، توڑ پھوڑ ہو چکی تھی ۔ بیٹے کی گرفتاری کے اگلے دن لاہور ہائیکورٹ میں حبس بے جا کی اپیل دائر کی جس پر ایک خط کے ذریعے پتہ چلا کہ حسان خان EME کی تحویل میں ہے ۔ EME برانچ کے کمانڈنٹ نے سرور روڈ پولیس اسٹیشن لاہور کے SHO کے نام ایک خط لکھا اور حسان خان کی حوالگی EME برانچ کو کی گئی ۔ کمانڈنٹ کا خط ہائیکورٹ ریکارڈ کا حصہ ہے ۔ قطع نظر کہ حسان خان کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا جا چکا تھا، نہ کہ لاہور سے گرفتاری ہوئی ۔ مجھے ایک گونہ تسلی ہوئی کہ حسان خان گمشدہ افراد میں نہیں بلکہ فوجی تحویل میں ہے ۔ گرفتاری کے تقریباً دو ماہ بعد پہلی دفعہ جب ہمیں اطلاع ملی کہ ہم حسان خان کو آکر مل سکتے ہیں ، وہ دن ہمارے لئے زندگی کی سب سے بڑی عید کا دن تھا ۔

میرا المیہ حسان خان کی قید نہیں، بلکہ آئینی ، قانونی اور عدالتی نظام کے انہدام کا ہے ۔ سزا کو پونے تین سال ہو چکے ، اس سارے عمل میں آئین کی کئی کھلی خلاف ورزیاں ، بنیادی انسانی حقوق کی پامالیاں اور عدالتی نظام کی بے اختیاری اُمڈ اُمڈ کر سامنے آئی ۔ ریاست کا طرزِ عمل ماورائے آئین و قوانین سامنے آیا ۔مئی 2025ءمیں فوجی عدالتوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تو اس میں صراحت کیساتھ لکھا تھا کہ جس کسی کو غیرقانونی حراست میں لیا گیا ہے ، وہ ہائیکورٹ سے مداوا حاصل کر سکتے ہیں ۔ حسان خان نے فوراً ہائیکورٹ میں اپنی غیرقانونی حراست کو چیلنج کیا۔ ازراہ تفنن ! ہائیکورٹ کے 5ڈویژن بینچ بنے اور سب نے یکے بعد دیگرے کسی نہ کسی وجہ کی بِنا پر کیس سننے سے معذرت کرلی ۔ چنانچہ لطیفہ ہی کہ سال ہونے کو حسان خان کی درخواست ہائیکورٹ میں ADMIT ہی نہ ہو سکی ۔ کئی حقائق اور بھی جو کالم میں نہیں چھپ سکتے ۔

لطیفہ ہی کہ دسمبر 2024ء میں میرے بیٹے کو دس سال قید ِ مشقت کی سزا سنائی گئی ۔ مگر آج 10 مئی 2026ء تک نہ تو فیصلے کی مصدقہ نقل فراہم کی گئی اور نہ ہی سزا کی قانونی وجوہات بتائی گئیں ۔ شفاف انصاف اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصولوں سے انکار ہی سمجھیں ۔سپریم کورٹ کی جانب سے یہ تسلیم کیے جانے کے باوجود کہ ایسے قیدیوں کو ہائیکورٹس سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ، جبکہ ہماری درخواست دس ماہ سے التوا کا شکار ہے ۔ کبھی تکنیکی اعتراضات ، کبھی بینچوں کی تبدیلی، 5بینچوں کی معذرت کے باعث آج تک سماعت ہی نہ ہو سکی ۔

آج جب میں اپنے بیٹے کو ایک ہزار دن کی غیر قانونی اور غیر انسانی قید خندہ پیشانی ، حوصلے اور وقار کیساتھ برداشت کرنے پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں ، تو مجھے اس بات پر اطمینان بھی ہے کہ ریاستی جبر ، غیر قانونی حراست ، نفسیاتی دباؤ اور ادارہ جاتی انتقام کے باوجود وہ جس چیز کو حق سمجھتا ہے بغیر کسی مفاد کے صدق دل سے اس پرڈٹا ہے ۔

تاریخ کبھی اُن لوگوں کو معاف نہیں کرتی جو بے لگام اختیار کے نشے میں آئین ، قانون اور انصاف کو روندتے ہیں ۔ طاقت حکمرانوں کو یہ گمان دلا دیتی ہے کہ انکی بالادستی ہمیشہ قائم رہے گی ، مگر زوال خاموشی سے قریب آتا ہے ، اور جب وہ آتا ہے تو پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔ میں ریاست سے اپنے بیٹے کیلئے انصاف کی بھیک مانگتا ہوں ۔

 

Back to top button