افغان طالبان قبضہ گروپ بن گئے، عوامی ملکیتی زمینیں ہتھیانے کا منصوبہ بے نقاب

افغان طالبان قبضہ گروپ بن گئے، افغانستان میں جنگجوؤں کو نوازنے کیلئے عوام کی زمینوں پر قبضے کرنے شروع کر دئیے، افغانستان میں طالبان رجیم نے سیاسی اور معاشی پابندیوں کے بعد اب عوامی جائیدادوں اور رہائشی زمینوں سے متعلق ایک نیا متنازع قانون نافذ کردیا ہے، جس کے تحت نجی زمینوں اور رہائشی بستیوں کو “سرکاری زمین” قرار دے کر ضبط کیا جاسکے گا۔

افغان جریدے “افغانستان انٹرنیشنل” کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے ایسا قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت پہلے سے قائم رہائشی علاقوں، ہاؤسنگ سکیموں اور نجی جائیدادوں کو سرکاری ملکیت قرار دے کر قبضے میں لیا جاسکے گا، جبکہ سابقہ مالکانہ حقوق کو بھی کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم بعد ازاں انہی زمینوں اور جائیدادوں کو شہریوں کو دوبارہ فروخت کرے گی، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں اور ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق طالبان حکومت مختلف علاقوں میں پہلے ہی ہزاروں ایکڑ نجی زمین سرکاری جائیداد کے نام پر ضبط کرکے اپنے نام رجسٹر کرچکی ہے۔ نئے قانون کے بعد اس عمل کو باضابطہ قانونی تحفظ ملنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون کا اصل مقصد عام افغان شہریوں کی زمینیں اور اثاثے چھین کر طالبان کے وفادار جنگجوؤں، کمانڈروں اور حامی گروہوں کو نوازنا ہوسکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان پہلے ہی شدید معاشی بحران، غربت، بیروزگاری اور انسانی مسائل کا شکار ہے، جبکہ لاکھوں افغان شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ایسے حالات میں زمینوں اور جائیدادوں سے متعلق سخت قانون عوام کیلئے مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔انسانی حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس قانون کے ذریعے سیاسی مخالفین، بے گھر خاندانوں اور کمزور طبقات کو مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت نجی املاک پر کنٹرول بڑھا کر اپنے سیاسی اور عسکری اثر و رسوخ کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔یاد رہے کہ طالبان حکومت پر اس سے قبل بھی خواتین کی تعلیم، اظہارِ رائے کی آزادی، سیاسی سرگرمیوں اور میڈیا پر سخت پابندیوں کے باعث عالمی سطح پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔

Back to top button