سول ایوی ایشن میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

آڈیٹر جنرل پاکستان نے سول ایوی ایشن کی ایک سال کی آڈٹ رپورٹ‌ جاری کر دی ہے جس میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے ، رپورٹ میں 53 آڈٹ پیراز شامل کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مالی بے قاعدگیوں، غیر قانونی فلائٹس کے اجازت ناموں اور ملکیتی اراضی پر قبضے سے سول ایوی ایشن کو 300 ارب روپے کا بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے ، سی اے اے کو متعدد یاد دہانیوں کے باوجود ڈپارٹمینٹل آڈٹ کمیٹی کا اجلاس طلب نہیں کیا جا سکا ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ 65 ارب 11 کروڑ 40 لاکھ روپے کے مالی معاملات کے آڈٹ پیراز بھی شامل ہیں ، آڈٹ اعتراضات میں 75 ارب 43 کروڑ غیر قانونی فلائٹس کی اجازت اور ان کے بقایاجات کی عدم وصولی کا ذکر کیا گیا ہے۔

آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ادارے کی ملکیتی اراضی پر قبضوں سے 144 ارب 88 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے ، اس کے علاوہ ایئرلائنز اور دیگر اداروں سے واجبات کی وصولی میں تاخیر یا عدم وصولی سے 14ارب 58 کروڑ کا نقصان پہنچا ہے۔

Back to top button