سو جوتے اور سو پیاز کھا کر کپتان نے گھٹنے کیوں ٹیکے؟

وزیر اعظم عمران خان کی رہی سہی ساکھ بھی اس وقت خاک میں مل گئی جب سو جوتے اور سو پیاز کھاتے ہوئے اپنی حکومت کی طرف سے کالعدم قرار دی جانے والی تحریک لبیک کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے اس سے کیے گے معاہدے کے عین مطابق فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرارداد 20 فروری کے روز قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کر دیا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے پاکستان ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ وہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرکے یورپی یونین کی جانب سے پاکستان پر پابندیاں لگوانے کا رسک نہیں لیں گے اور شرپسند عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ وزیراعظم جب ٹی وی پر اپنا پرویز خطاب فرما رہے تھے تو ان کی ہدایات پر تشکیل دیا جانے والا ایک اعلی سطحی سرکاری وفد کوٹ لکھپت جیل لاہور میں تحریک لبیک کے زیرحراست امیر علامہ خادم حسین رضوی کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھا تاکہ ان کے کارکنان کو 20 فروری کے روز اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے سے روکا جاسکے۔ 19 فروری کی صبح سے لے کر رات گئے تک سعد رضوی اور کپتان کے تشکیل کردہ سرکاری وفد کے مابین مذاکرات کے چار دور ہوئے جن میں سعد رضوی نے اپنا یہ مطالبہ دہرایا کے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی جائے آئے اور شیخ رشید احمد کو ان کے عہدے سے برطرف کیا جائے۔
تاہم رات گئے چوتھے راؤنڈ کے مذاکرات کے بعد حکومت کے تشکیل کردہ سرکاری وفد نے یہ اعلان کیا کہ علامہ سعد حسین رضوی کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور حکومت نے فرانسیسی سفیر کو بے دخل کرنے کی قرارداد 20 اپریل کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں شیخ رشید نے یہ اعلان کیا کہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد آج قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی جبکہ تحریک لبیک ملک بھر سے اپنے دھرنے ختم کرے گی۔ ٹوئٹر پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ’حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد یہ بات طے پا گئی ہے کہ آج قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد پیش کریں گے اور تحریک لبیک مسجد رحمت العٰلمین سمیت سارے ملک سے دھرنے ختم کرے گی۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’بات چیت اور مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا اور جن لوگوں کےخلاف شیڈول فورتھ سمیت مقدمات درج ہیں، ان کا اخراج کیا جائے گا۔‘ وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سے متعلق تفصیلی بیان آج شام یا کل دوپہر کسی وقت پریس کانفرس کے ذریعے دیں گے۔
تاہم دوسری جانب تحریک لبیک کی طرف سے ابھی صرف اتنا اعلان کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں تحریک لبیک کے کارکن اپنے دھرنے ختم کرکے لاہور مین چوک یتیم خانہ کے مرکزی دھرنے پر پہنچ جائیں اور جب تک علامہ سعد حسین رضوی خود اس دھرنے پر پہنچ کر سٹیج سے کوئی اعلان نہیں کرتے تب تک کسی حکومتی اعلان پر یقین نہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل تحریکِ لبیک کی مرکزی شوریٰ کے رکن اور جماعت کی طرف سے حکومت سے مذاکرات کرنے والے ڈاکٹر محمد شفیق امینی نے 19 فروری کی رات اپنے ایک آڈیو پیغام میں ملک بھر میں اپنے پیروکاروں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ لاہور میں ان کے مرکز رحمت العٰلمین پہنچ جائیں جہاں پر ایک پر امن احتجاج جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تحریک لبیک کی مرکزی قیادت کو اب بھی شک ہے کہ حکومت نے صرف 20 مارچ کو تحریک لبیک کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ رکوانے کے لیے یہ اعلان کیا ہے اور جب تک قومی اسمبلی میں فرانسیسی کی بے دخلی کی قرارداد پیش نہیں کی جاتی ان کی جانب سے کوئی اعلان نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کے لیے بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کرتی ہے اور اسے منظور نہیں کروا پاتی تو پھر کیا صورت حال ہوگی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں صرف قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا کہا گیا تھا اور اس کی منظوری کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی۔ تاہم اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی جاتی ہے اور حکومتی اراکین اس کے حق میں ووٹ نہیں دیتے تو بھی مذہبی اسی پر آئے گی۔ اس لئے عمران خان کی حکومت کے لیے ایک طرف تو کنواں ہیں اور دوسری طرف کھائی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے لیے بھی مشکل صورتحال پیدا ہو چکی ہے چونکہ توہین رسالت کے معاملے پر اگر وہ فرانسیسی کی قرارداد کی مخالفت کرتی ہیں تو انکے لیے اپنے ووٹرز کا سامنا کرنا مشکل ہوگا اور اگر وہ اس قرارداد کی حمایت کرتے ہیں تو پھر بینالاقوامی دنیا کا سامنا کرنا مشکل ہوگا۔ لہذا ذرائع اس امکان کا اظہار کر رہے ہیں کہ اپوزیشن کی بڑی جماعتیں 20 اپریل کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس سے دور رہنے کی کوشش کریں گی۔
واضح رہے کہ حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان، پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کی ملک سے بے دخلی کے مطالبے پر احتجاج کر رہی ہے۔ کپتان حکومت نے تحریک لبیک کو دبانے کے لیے اس کے مرکزی امیر کو گرفتار کرنے کے علاوہ جماعت پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا لیکن ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں میں شدت آنے کے بعد اب یو ٹرن لیتے ہوئے عمران خان نے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی شاہراہ پر فیض آباد کے مقام پر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری ابھی بھی تعینات ہے جبکہ اسلام آباد کے حساس مقامات پر بھی پولیس اہلکار تعینات ہیں۔
فیض آباد پل کے نیچے مرکزی شاہراہ کے اطراف میں کنٹینرز بھی تاحال رکھے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ انھیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے راستے سیل کرنے میں استعمال کر رہی ہے۔ تحریکِ لبیک کے کارکنوں پر پولیس کے کریک ڈاؤن کے خلاف اہلسنت علما کی کال پر پیر کے روز ملک بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا تھا جس کا بڑے شہروں میں جزوی اثر دکھائی دیا۔ اس سے قبل پیر کی شام قوم سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دینا مسئلے کا حل نہیں کیونکہ مغرب اس معاملے کو اظہارِ رائے کی آزادی سے جوڑتا ہے۔ عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جب بھی نبی کی شان میں گستاخی ہوتی ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے، جہاں بھی مسلمان بستے ہیں ان سب کو تکلیف ہوتی ہے۔‘ عمران خان نے اس معاملے میں دیگر مسلمان ممالک کے ردعمل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 50 مسلمان ملک میں سے کوئی بھی یہ مطالبہ نہیں کر رہا کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھجوایا جائے۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اس اقدام سے پاکستان متاثر ہوگا۔
اس سے پیلے پیر کی صبح اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھی پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ انھیں افسوس ہے کہ ملک میں چند عناصر پاکستانیوں کی پیغمرِ اسلام کے لیے عقیدت اور محبت کا غلط استعمال کر کے اپنے ہی ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ملکی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کا اور ان کی حکومت کا یکساں مقصد ہے کہ ’نبی کی شان میں گستاخی نہ ہو‘ تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ طریقہ کار کا فرق ہے۔ انھوں نے مصنف سلمان رشدی کی متنازع کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد ہر کچھ سال بعد کوئی نہ کوئی مغرب میں ’نبی کی شان میں گستاخی کرتا ہے، ہمارے ملک میں مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی اس سے کوئی فرق پڑا؟‘ یاد رہے کہ سلمان رشدی کی انیس سو اٹھاسی میں لکھی گئی کتاب ‘دی سیٹنک ورسز’ کے خلاف مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا۔ اس کے بعد بہت سے ممالک میں اس کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی تھی جبکہ اس وقت کے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے خلاف فتویٰ بھی جاری کر دیا تھا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کیا فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنے سے یہ گارنٹی ہے کہ نبی کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کرے گا۔ میں مغرب کو جانتا ہوں، فرانس کے بعد یہ کسی اور ملک میں ہوگا۔ انھوں نے اسے اظہار رائے کی آزادی بنایا ہوا ہے۔‘ فرانس کے سفیر کی پاکستان سے بےدخلی کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اس سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن پاکستان کو فرق پڑے گا۔ بڑی دیر کے بعد لارج انڈسٹری بڑھی ہے، ہماری ایکسپورٹ بڑھ رہی ہیں، ہمارا روپیہ مضبوط ہو رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’جب ہم فرانس کے سفیر کو واپس بھیج کر تعلقات توڑیں گے، اس کا مطلب یورین یونین سے تعلقات توڑیں گے۔ آدھی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ یورپ میں جاتی ہیں۔ اس سے ٹیکسٹائل آدھی رہ جائے گی، بے روزگاری ہوگی، مہنگائی بڑھے گی، روپیہ نیچے جائے گا۔۔۔ ہمارا نقصان ہو گا۔‘
تاہم اب تحریک لبیک کے ملک گیر احتجاج میں شدت آنے کے بعد عمران خان نے اپنی کہی ہوئی تمام تر باتوں سے بڑا یوٹرن لیتے ہوئے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قرارداد کی منظوری کی صورت میں بھی عمران حکومت فراغت کے خطرے سے دوچار ہوجائے گی اور اس کی ناکامی کی صورت میں بھی حکومت کا بچنا مشکل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button