سیالکوٹ میں غیر ملکی ماہرین واپسی کا سوچنے لگے

سیالکوٹ شہر کو عالمی معیار کی برآمدات کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے غیر ملکی ماہرین حالیہ دنوں شہری پریانتھا کمارا کے قتل کے بعد اس صدمے میں ہیں اور ان میں سے کئی لوگ اپنے اپنے وطن واپسی کا سوچ رہے ہیں۔
3 دسمبر کو سیالکوٹ میں سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے اندوہناک قتل کے واقعے نے جہاں پاکستان کے تشخص کو ٹھیس پہنچایا وہیں پاکستان کی ایکسپورٹ سٹی کہلانے والے سیالکوٹ شہر کے کاروباری تاثر کو بھی بری طرح مجروح کیا۔ پریانتھا کمارا ان غیر ملکیوں میں شامل تھے جو سیالکوٹ کی صنعت، جو نوے فیصد سے زائد برآمدی شعبے پر مشتمل ہے، کو اپنے شعبوں میں مہارت اور صلاحیت سے فائدہ پہنچا رہے تھے۔ سری لنکن شہری کے اندوہناک قتل سے سیالکوٹ کا ایک منفی تاثر ابھرا ہے اور شہر کی فیکٹریوں میں اہم عہدوں پر فائض کئی غیر ملکی ماہرین اب واپسی کے منصوبے بنا رہے ہیں۔
دوسری جانب سیالکوٹ کا کاروباری طبقہ اس افسوس ناک واقعے کے منفی اثرات سے جلد باہر نکلنے کے بارے میں پر امید ہے اور شہر کو غیر ملکی ورکرز اور ملازمین کے لیے اب بھی محفوظ قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ پریانتھا کمارا کا واقعہ نہایت دردناک ہے تاہم سیالکوٹ کی صنعت میں غیر ملکی ماہرین اور ملازمین کا کردار ماضی کی طرح مستقبل میں بھی برقرار رہے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان کے صنعتی شعبے اور خاص کر برآمدی شعبے میں سیالکوٹ کا ایک بہت اہم کردار ہے۔ سیالکوٹ جہاں کھیلوں کے سامان اور جراحی یعنی سرجیکل مصنوعات کی تیاری اور ان کی برآمد کے لیے معروف ہے وہیں یہاں دوسرے شعبے کی صنعتیں بھی بہت زیادہ تعداد میں کام کر رہی ہیں۔ چمڑے کی مصنوعات، ٹیکسٹائل کی مصنوعات، مارشل آرٹ، باکسنگ، سیفٹی گارمنٹس، کٹلری اور کچھ دوسرے شعبوں میں تیار ہونے والی مصنوعات سیالکوٹ سے دنیا بھر کی منڈیوں میں جاتی ہیں۔ اسی طرح موسیقی کے لیے بھی استعمال ہونے والے آلہ جات سیالکوٹ میں تیار ہوتے ہیں۔
سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر قاسم ملک نے بتایا کہ سیالکوٹ کے صنعتی شعبے میں تیار ہونے والا سامان تقریباً سو فیصد برآمد ہوتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سیالکوٹ میں زیادہ تر درمیانے درجے کی صنعت کی فیکٹریاں ہیں جن کی تعداد دس سے پندرہ ہزار ہے۔ قاسم ملک کے مطابق سیالکوٹ کے صنعتی شعبے میں تیار ہونے والی برآمدی شعبے کی مصنوعات ڈھائی ارب ڈالر کے قریب ہیں جو پاکستان کے برآمدی شعبے میں تقریباً دس فیصد تک بنتا ہے۔ قاسم ملک کے مطابق سیالکوٹ کے صنعتی شعبے میں غیر ملکیوں کی تعداد سینکڑوں اور ہزاروں میں نہیں ہے بلکہ جو غیر ملکی یہاں کام کرتے ہیں ان کی تعداد محدود ہے اور وہ بھی انتظامی عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ غیر ملکی یا تو انٹرنیشنل برانڈز کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں جو سیالکوٹ میں تیار ہونے والی مصنوعات کی کوالٹی کے معیار کی جانچ پڑتال کے کام پر مامور ہوتے ہیں یا وہ غیر ملکی شامل ہیں جو کسی درآمدی مشینری کی انسٹالیشن کے لیے یہاں آتے ہیں اور کچھ عرصہ اس کی کارکردگی چیک کرنے کے لیے یہاں رک جاتے ہیں۔ اسی طرح کچھ غیر ملکی افراد سیالکوٹ میں نہیں رہتے بلکہ وہ اسلام آباد یا لاہور میں رہتے ہیں جو وقتاً فوقتاً سیالکوٹ کی صنعتوں میں انٹرنیشنل برانڈز کی طرف سے مصنوعات کی تیاری کو دیکھنے اور اس کا معائنہ کرنے آتے ہیں کہ کیا یہ مصنوعات ان کی ضروریات کے مطابق تیار ہوتی ہیں اور اس کے بعد یہ واپس چلے جاتے ہیں۔
سیالکوٹ کی انڈسٹری میں سری لنکا، بنگلہ دیش، کوریا اور کچھ دوسرے ممالک کے لوگ انتظامی عہدوں یا پروڈکشن کے عمل کی نگرانی کا کام کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ غیر ملکی آڈیٹرز بھی یہاں کی فیکٹریوں کے دوروں پر آتے رہتے ہیں۔ قاسم ملک نے بتایا کہ ان غیر ملکیوں کا سیالکوٹ کے برآمدی شعبے میں بہت اہم کردار ہے اگرچہ ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں تاہم ان کی تیکنیک سے اس شہر کے صعنتی شعبے کو بہت زیادہ مدد ملی ہے۔
سیالکوٹ کی صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق غیر ملکیوں کی خدمات لینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ کچھ شعبوں میں ان کی مہارت اور تیکنیک پاکستانی ورکرز کے مقابلے میں زیادہ اچھی ہے۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر ڈاکٹر سرفراز بشیر کے مطابق یہ غیر ملکی انتظامی امور بہت اچھے طریقے سے نمٹاتے ہیں اور مزدوروں کے ساتھ ان کا رویہ بھی بہت بہتر ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کا تعلیمی لیول اور اپنے شعبے میں ان کی مہارت بھی انھیں ایک برتری دلاتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جب ایک زمانے میں آئی ایس او کے معیار پر پورا اترنا لازمی تھا تو ان غیر ملکی ماہرین اور پروفیشنلز نے سیالکوٹ کی صنعت کو بہت مدد فراہم کی۔ انھوں نے کہا اگرچہ غیر ملکیوں کی تعداد زیادہ نہیں تاہم جو ہیں انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحتیوں سے شہر کے برآمدی شعبے کو بہت مدد فراہم کی۔ غیر ملکی افراد کی سب سے بڑی خاصیت پروڈکشن فلور پر ان کی انتظامی صلاحیتیں ہیں جس کی وجہ سے پیداوار زیادہ بہتر انداز میں ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا خاص کر سری لنکا سے تعلق رکھنے والے افراد کی انتظامی صلاحیتیں بہت بہتر ہیں جس کی وجہ سے ان کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور خاص کر ٹیکسٹائل کے شعبے میں یہ زیادہ کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کوالٹی کنٹرول میں یہ افراد بہت بہتر ہوتے ہیں جس کی وجہ ان کا تیکنیکی طور پر زیادہ باصلاحیت ہونا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جمائما اپنی نئی فلم کو کب ریلیز کرنے جا رہی ہیں؟
سیالکوٹ چیمبر کے نائب صدر قاسم ملک کے بقول سری لنکا کے شہری پریانتھا کمارا کے ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے کے بعد دوسرے غیر ملکیوں کے تحفظ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فیکٹریوں میں اس بارے میں کونسلنگ کا عمل جاری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور اس سلسلے میں فیکٹریوں کے ہیومن ریسورس کے شعبے کام کر رہے ہیں۔
