شاہد خاقان نے مشرف کی قید سے رہائی سے انکار کیوں کیا

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نون کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے سن دوہزار میں سعودی آرمی چیف کی سفارش کے باوجود اس وقت کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے قید سے رہا ہو نے سے انکار کر دیا تھا اور سعودی سپہ سالار کے اصرار کے باوجود وہ ان کے ساتھ طیارے میں سوار ہو کر ملک چھوڑ کر نہیں گئے . یہ انکشاف شاہد خاقان عباسی نے سینئر صحافی جاوید چودھری کے ساتھ اپنی ایک گفتگو میں کیا . جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ میں نے شاہد خاقان عباسی سے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے 2000 میں سعودی آرمی چیف نے آپ کو جنرل پرویز مشرف سے رہا کرایا تھا؟‘‘ شاہد خاقان عباسی کا جواب تھا ’’میرے سسر جنرل محمد ریاض ڈی جی آئی ایس آئی رہے ہیں‘ یہ 1979 میں آن ڈیوٹی انتقال کر گئے تھے‘ جنرل ریاض جوانی میں امریکا میں آرٹلری کورس کر رہے تھے وہاں ان کے ساتھ سعودی آفیسرز بھی تھے‘ یہ انھیں کورسز میں ہیلپ کرتے تھے‘ ان میں سے ایک افسر 2000 میں سعودی عرب کا آرمی چیف بن گیا‘ یہ جنرل پرویز مشرف کی دعوت پر پاکستان کے دورے پر آیا اور میرے سسرال وزٹ پر گیا۔

میری ساس سے ان کی ملاقات ہوئی تو انھوں نے اس سے میرا ذکر کیا‘ وہ سیدھا جنرل پرویز مشرف کے پاس گیا اور اس سے کہا‘ میں شاہد خاقان عباسی کو اپنے جہاز میں اپنے ساتھ لے کر جائوں گا‘ آپ اسے فوری طور پر رہا کریں‘ جی ایچ کیو میں سچویشن پیدا ہو گئی‘ ہم لوگ اس وقت اٹک قلعے میں بند تھے‘ 12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف کا جہاز ڈائی ورٹ کرنے کا حکم میں نے دیا تھا اور میں نے بعدازاں اپنا ’’جرم‘‘ تسلیم بھی کر لیا تھا۔

میں مرکزی مجرم تھا لیکن جنرل مشرف سعودی آرمی چیف کو ناراض کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے لہٰذا آئی ایس آئی کے آفیسر جیل میںمیرے پاس آئے‘ یہ مجھے نکالنا چاہتے تھے مگر میں نے انکار کر دیا‘ یہ لوگ اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے سعودی آرمی چیف کے نام خط لکھ کر ان کے حوالے کیا‘ میں نے خط میں اس سے درخواست کی میں اپنی مرضی سے جیل میں بند ہوں اور اگر مجھے آپ کی مدد کی ضرورت پڑی تو میں آپ سے دوبارہ رابطہ کروں گا اور یوں یہ معاملہ ٹل گیا‘‘ جاوید چوہدری کے مطابق میں نے شاہد خاقان عباسی سے پوچھا ’’آپ کی سفارش پھر کس نے کی؟‘‘ یہ بولے ’’میں‘ شہباز شریف اور غوث علی شاہ لانڈھی جیل میں بند تھے‘9 دسمبر2000 کی شام آئی ایس آئی کے لوگ میاں شہباز شریف کو لینے آئے‘شہباز صاحب نے جاتے وقت غوث علی شاہ کا سیل کھلوایا‘ یہ رو رہے تھے اور انھوں نے اپنا سر غوث علی شاہ کے قدموں میں رکھ دیا‘ یہ ان سے بہت شرمندہ تھے‘ بہرحال یہ چلے گئے اور پیچھے میں اور غوث علی شاہ رہ گئے‘ ہم کھانا اکٹھے کھاتے تھے‘ یہ بھی روز خاموش رہتے تھے اور میں بھی‘ سچی بات ہے میں ان سے آنکھ نہیں ملا پاتا تھا۔ شاہد خاقان عباسی نے بتایا میں سوچتا تھا ہم پنجابیوں نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟ انھیں جیل میں چھوڑ کر چلے گئے‘یہ ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے؟ شاہ صاحب کے اس دوران آئی ایس آئی کے ساتھ مذاکرات شروع ہو گئے‘ انھوں نے مجھ سے مشورہ کیا‘ مجھے کہا جا رہا ہے آپ دس سال سیاست نہ کرنے کا حلف نامہ دے دیں‘ ہم آپ کو چھوڑ دیتے ہیں‘ میں نے انھیں کہا ‘آپ پچاس سال لکھ کر دے دیں مگر اس عقوبت خانے سے نکلیں‘ یہ ایک دن سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں گئے اور پھر واپس نہیں آئے۔

میں سمجھا ان کی ڈیل ہو گئی ہے لیکن چند دن بعد پتا چلا انھیں ایم پی اے ہاسٹل کے سرونٹ کوارٹر میں گٹر کے پانی میں قید کر دیا گیا ہے‘ یہ نیب کا خوف ناک سیل تھا‘ میں نے اپنی ہمشیرہ سعدیہ عباسی کو فون کیا‘ یہ چوہدری شجاعت کے پاس گئیں اور چوہدری صاحب نے فوراً فون کر کے انھیں سیل سے بھی نکلوایا اور پھر ڈیل کرا کر انھیں ملک سے باہر بھجوادیا‘ چوہدری صاحب ایک شان دار انسان ہیں‘ میں جتنا عرصہ جیل میں رہا یہ ہر ہفتے میرے گھر جا کر میرے گھر والوں کو تسلی دیتے تھے‘ میں نے پوچھا ’’پھر آپ کی سفارش کس نے کی تھی؟‘‘

یہ قہقہہ لگا کر بولے ’’میرے سفارشی میجر جنرل راشد قریشی تھے‘ ان کی بیگم میری بہن کی کلاس فیلو رہی تھی‘ اس نے ان کی بیگم سے رابطہ کیا‘ بیگم نے جنرل راشد شریف سے بات کی اور راشد قریشی نے جنرل پرویز مشرف کو راضی کر لیا‘ جنرل مشرف کے ساتھ میرا ایک اور تعلق بھی تھااور وہ تعلق بھی اس مشکل وقت میں کام آیا۔‘‘ …………………………….. جاوید چوہدری کے مطابق میں نے شاہد خاقان عباسی سے سوال کیا کہ ’’کیا میاں نواز شریف کو لندن کے فلیٹس آپ نے خرید کر دیے تھے؟‘‘ یہ بولے ’’ہرگز نہیں لیکن انھیں مشورہ میں نے دیا تھا‘ ہم لوگ اس وقت اپوزیشن میں تھے‘ قومی اسمبلی میں ہمارے 35 ایم این اے تھے‘ میاں صاحب اپوزیشن لیڈر تھے اور بے نظیر بھٹو نے شریف فیملی کو تنگ کرنا شروع کر دیا‘ مجھے ایک دن میاں صاحب نے بلا کر پوچھا‘ میرے چار بچے ہیں‘ میں چاہتا ہوں میں ان کے نام پر باہر چار پراپرٹیز لے لوں‘ کون سا ملک بہتر رہے گا‘ میں نے انھیں بتایا۔

میں نے دنیا کے کسی ملک میں پراپرٹی نہیں خریدی تاہم میرے چند دوستوں نے ضرور خریدی ہے اور یہ لندن کی بہت تعریف کرتے ہیں‘ آپ اسے ٹرائی کر لیں‘ میاں صاحب نے خاموشی سے میری بات سن لی‘ میرا صرف اتنا کنٹری بیوشن تھا ………. جاوید چوہدری نے شاہد خاقان عباسی سے سوال کیا کہ ڈائیوو کمپنی کے ساتھ آپ کا کیا تعلق تھا؟‘‘ یہ بولے ’’ڈائیوو کے مالک KIM WOO* CHOONG* کم وو چونگ کے خاندان کا ایک فرد امریکا میں میرا کلاس فیلو تھا لیکن میرا اس فیملی کے ساتھ رابطہ موٹروے مکمل ہونے کے بعد 1997میں ہوا تھا۔

1997 میں کم ووچونگ پاکستان آیا‘ وزیراعظم کے ساتھ اس کا ڈنر تھا‘ اس نے اس ڈنر میں میاں صاحب سے کہا‘ میں شاہد خاقان عباسی سے ملنا چاہتا ہوں‘ یہ میرے …کے کلاس فیلو رہے ہیں‘ میاں نواز شریف کو اس وقت میرے اس تعلق کا پتا چلا اور یہ حیران بھی ہوئے‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا شریف فیملی نے ڈائیوو سے کک بیکس لی تھیں؟‘‘ شاہد خاقان عباسی کا جواب تھا ’’میں 35 سال سے میاں نواز شریف کو جانتا ہوں‘ میں حلف دے سکتا ہوں نواز شریف نے کسی سرکاری سودے میں کک بیک نہیں لی‘‘

میں نے پوچھا ’’میں ڈائیوو کمپنی کے بارے میں پوچھ رہا ہوں‘‘ ان کا جواب تھا ’’میں نے ڈنر کے دوران کم وو چونگ کو نواز شریف کی بہت خوشامد اور عزت کرتے دیکھا اور میراتجربہ ہے اگر کسی نے کسی کو پیسے دیے ہوں تو وہ کک بیکس لینے والوں کی اتنی عزت نہیں کرتا چناں چہ یہ الزام غلط بلکہ لغو ہے‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا آپ نے اپنے کلاس فیلو سے پوچھا تھا؟‘‘ یہ بولے ’’ہاں میں نے پوچھا تھا اور اس کا جواب بھی نا تھا اور اگر اس نے کوئی گڑ بڑ کی ہوتی تو اس کا جواب اتنا واضح نہ ہوتا‘

Back to top button