شہباز شریف کی حکومت کو کونسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں؟

شہباز شریف پاکستان کے 23ویں وزیراعظم منتخب ہو چکے ہیں، ان کی حکومت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے جن میں سب سے اہم معاشی چیلنج ہے، پاکستان کے مسائل وہیں ہیں جہاں انتخابات سے قبل تھے، حکومت کو ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے۔ ملک کے زرِمبادلہ کے ذخائر اب بھی زیادہ بہتر حالت میں نہیں، جن کا زیادہ تر دارومدار بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم اور قرضوں پر ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے حلف لینے کے بعد ہی اپنی ٹیم کو آئی ایم ایف سے رابطہ کر کے نئے اقتصادی پیکج کے لیے بات چیت کرنے کے لیے ’گرین سگنل‘ دے دیا ہے۔ اقتصادی ماہرین جہاں اس کو مثبت سمت میں ایک قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں وہیں وہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں عام آدمی کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوتے ہوئے بھی دیکھ رہے ہیں۔اسلام آباد میں مقیم ماہرِ اقتصادیات ڈاکر ساجد امین سمجھتے ہیں کہ معاشی اعتبار سے شہباز حکومت کو بنیادی طور پر تین قسم کے چیلنجز کا سامنا ہو گا۔حکومت کو درپیش پہلا چیلنج مشکل اقتصادی فیصلوں پر عملدرآمد کا ہوگا، نئی حکومت کے لیے دوسرا بڑا چیلنج مہنگائی ہوگا۔ ان کے خیال میں فی الوقت مہنگائی میں کمی کا رجحان ہے تاہم آنے والے دنوں میں یہ بڑھنے کی طرف جائے گا۔ حکومت کے لیے تیسرا چیلنج یہ ہوگا کہ مہنگائی اور آئی ایم ایف کے پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد کی وجہ سے ملک میں اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہو جائے گی۔صحافی ماجد نظامی کہتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں ’اس مرتبہ ن لیگ کے لیے آسان نہیں ہو گا۔ ان کو زیادہ کام کرنا پڑے گا، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت استحکام لانا چاہے تو اس کے پاس اپوزیشن کو آفر کرنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے۔صحافی اور تجزیہ نگار عاصمہ شیرازی سمجھتی ہیں کہ پی ٹی آئی اگر اپنے احتجاج کو پارلیمان کے اندر تک محدود رکھتی ہے تو اس کا مطلب ہو گا کہ وہ مفاہمت کے لیے تیار ہیں لیکن اگر وہ احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آتی ہے جیسا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اپنے بیانات میں ارادہ ظاہر کر چکے ہیں تو یہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعظم منتخب کرنے میں پاکستان مسلم لیگ ن کی مدد کی ہے اور شہباز شریف کو وزیراعظم بنوایا ہے۔ تاہم وہ اس بات کا اظہار کر چکی ہے کہ وہ شہباز شریف کی کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی۔ ایسا ہوتا ہے یا نہیں یہ دیکھنا باقی ہے۔عاصمہ شیرازی کہتی ہیں بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ ان کے خیال میں ’اس وقت ان دونوں سیاسی جماعتوں کی بقا اسی میں ہے کہ وہ کچھ ڈلیور کر کے دکھائیں۔ اس لیے ایک دوسرے کا ساتھ ایک طرح سے دونوں کی ضرورت ہے۔‘اس لیے ان کے خیال میں شہباز شریف کو حکومت بچانے کی زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ماضی کی حکومتوں کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے تعلقات ملک کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خراب ہوئے۔ پاکستان میں کوئی بھی منتخب وزیراعظم آج تک اقتدار کے پانچ سال مکمل نہیں کر پایا۔ماجد نظامی کہتے ہیں کہ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ شہباز شریف کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ شہباز شریف کے لیے آرمی چیف کو اگر وہ چاہیں تو ان کے عہدے پر توسیع (مدت ملازمت میں) دینا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس وقت سیاسی سہارے کی ضرورت ہے۔موجودہ حالات میں اور خاص طور پر حالیہ انتخابات کے بعد جو ایک طرح کی اسٹیبلشمنٹ مخالف لہر چلی ہے وہ چاہیں گے کہ اس وہ اس سے باہر آئیں۔ حال ہی میں پاکستان میں خاص طور پر سوشل میڈیا پر پابندیاں دیکھنی میں آئی ہیں۔ ملک میں غیر اعلانیہ طور پر گذشتہ کئی روز سے سماجی رابطوں کی مقبول ترین ویب سائٹ ایکس یعنی سابقہ ٹوئٹر بند ہے۔کئی صحافیوں اور یوٹیوبرز کے خلاف مقدمات بھی قائم کیے گئے ہیں۔ صحافی اور یوٹیوبرز اسد علی طور کو اسلام آباد میں اور عمران ریاض کو لاہور میں گرفتار کیا گیا ہے۔عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ صحافیوں کے خلاف پیکا جیسے متنازع قانون کا بھی استعمال کیا گیا ہے جس کے تحت ان پر مقدمات بنائے گئے اور ان کو ہراساں کرنے کے لیے انھیں گرفتار کیا گیا اگر شہباز حکومت بھی اسی روش پر چلتی ہے تو میڈیا کی آزادی پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہوں گے۔تاہم عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ فیک نیوز اور پروپگینڈا پاکستان میں صحافت کے لیے ایک خطرہ ہیں، پاکستان میں صحافتی برادری کو از خود یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ حقیقی صحافت کی حفاظت کرنی ہے اور فیک نیوز اور پروپگینڈا کے خلاف کارروائی کر کے اسے ختم کرنا ہے۔
