مریم نواز 12 اناڑی وزراء سے کارکردگی کیسے دکھائیں گی؟

پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کے حلف اٹھانے کے 10 روز بعد پہلے مرحلے میں کچھ نئے اور کچھ پرانے چہروں پر مبنی 18 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے، جس کے ساتھ ہی پنجاب میں حکومت سازی کا مرحلہ مکمل ہوگیا۔مریم نواز نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب 26 فروری کو عہدے کا حلف اٹھایا، لیکن فوری طور پر پنجاب کابینہ نہیں بنائی گئی تھی، اب 10 روز کے بعد 18 رکنی پنجاب کابینہ نے گورنر ہاؤس میں حلف اٹھا لیا ہے۔
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی 18 رکنی کابینہ میں 6 صوبائی وزرا ایسے ہیں جو پہلے بھی پنجاب میں بطور صوبائی وزیر کام کرچکے ہیں۔ ان میں خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، خلیل طاہر سندھو، بلال یاسین، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن، رمیش سنگھ شامل ہیں جو شہباز شریف کے ساتھ 2 بار پنجاب میں کام کر چکے ہیں۔ جبکہ 12 وزرا ایسے ہیں جو پہلی بار کابینہ کا حصہ بنے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب کابینہ کے محکموں کا اعلان بھی کر دیا ہے۔مریم نواز کی جانب سے کیے گئے اعلان کے مطابق مریم اورنگزیب کو سینیئر وزیر بنایا گیا ہے، جبکہ ان کو پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، جنگلات اور ماحولیات کے محکمے دیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ کاظم پیرزادہ کو اریگیشن، عظمیٰ بخاری کو اطلاعات و نشریات، رانا سکندر حیات کو پرائمری ایجوکیشن، خواجہ عمران نذیر کو پرائمری ہیلتھ اور خواجہ سلمان رفیق کو اسپیشلائزڈ ہیلتھ کے محکمے دیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ عاشق کرمانی زراعت، خلیل طاہر سندھو انسانی حقوق، رمیش سنگھ اقلیتی امور، فیصل کھوکھر اسپورٹس، ذیشان رفیق بلدیات، سہیل بھرت مواصلات، چوہدری شافع حسین بزنس اینڈ انڈسٹری، شیر علی گورچانی کو مائنز اینڈ منرلز ک قلمدان تفویض کیے گئے ہیں۔
مریم نواز کے اعلان کے مطابق مجتبیٰ شجاع کو خزانہ اور سہیل شوکت کو سوشل ویلفیئر کا محکمہ دیا گیا ہے۔ وزرا کے محکموں کا نو ٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے مطابق ابتدائی طور پر 18 رکنی کابینہ تشکیل دی ہے، اس میں ان لوگوں کو وزارتیں دی گئی ہیں جو تجربہ کار اور باہر سے پڑھے لکھے ہیں۔ مریم نواز نے بتایا کہ 2 سے 3 ماہ کے اندر کابینہ کا حجم بڑھایا جائے گا جس میں پیپلزپارٹی کو بھی شامل کیا جائے گا۔ ’ہو سکتا ہے میری کابینہ 35 سے 36 وزرا پر مشتمل ہو‘۔
ابتدائی طور پر 18 رکنی کابینہ نے حلف اٹھایا ہے۔ اس 18 رکنی کابینہ میں کوئی بھی وزیراعلیٰ مریم نواز کا نا تو مشیر ہے اور نا ہی کوئی معاون خصوصی لگایا گیا ہے۔ تاہم مسلم لیگ ن کے ذرائع نے بتایا کہ ہوسکتا ہے کہ پرویز رشید اور رانا ثنااللہ کو وزیر اعلیٰ پنجاب کا مشیر مقرر کیا جائے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف چاہتے ہیں کہ رانا ثنااللہ مرکز میں ان کے ساتھ ہوں جبکہ مریم نواز انہیں پنجاب میں اپنے ساتھ بطور مشیر داخلہ رکھنا چاہتی ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی تک حمتی فیصلہ نہیں ہوا۔
پنجاب کابینہ کی تشکیل بارے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ صوبائی کابینہ میں کئی سینیئر اراکین کے علاوہ بعض نئے چہرے بھی شامل ہیں۔’ہر حکومت اپنے حامیوں پر مشتمل کابینہ تشکیل دیتی ہے۔ اس بار مریم نواز کا بطور وزیر اعلیٰ پہلا تجربہ ہے لہٰذا سینیئر ارکان کو ان کی ٹیم میں زیادہ موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کی نومنتخب حکومت پر صرف سیاسی دباؤ نہیں بلکہ انتظامی چیلنج کا بھی سامنا ہے۔ ’پنجاب میں ن لیگ کی نئی حکومت کو سیاسی محاذ کے ساتھ اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے کارکردگی کا بھی بہترین مظاہرہ کرنا ہوگا۔‘انہوں نے کہا: ’حالیہ انتخابات میں جس طرح ن لیگ کو پنجاب میں مخالفین کی جانب سے ٹف ٹائم ملا اس درجہ حرارت کو کارکردگی کی بنیاد پر ہی کم کیا جاسکتا ہے۔
سلمان غنی کھ مطابق’اس بات میں شک نہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی معاونت سے پنجاب میں حکومت بہتر کارکردگی دکھانے کی پوری کوشش کرے گی۔’ماضی کو دیکھتے ہوئے عوامی مسائل حل کرنے میں پنجاب حکومت کے کامیاب ہونے کی بھی قوی امید ہے۔‘
دوسری جانب کار اور سابق نگران وزیر اعلیٰ حسن عسکری نے کہا کہ ’پنجاب میں ن لیگ کی قیادت نے مریم نواز کو وزیر اعلیٰ بنایا اور کابینہ میں بھی اپنے اعتماد کے لوگ شامل کیے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وہ عوام کے لیے کیا کریں گے۔ جتنے اعلانات ابھی تک کیے ہیں وہ پورے کرنا ہوں گے۔‘ان کے خیال میں ن لیگ اپنی سیاسی ساکھ روایتی انداز میں بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم’اب وقت بدل چکا لوگ سیاسی نعروں کی بجائے کارکردگی کے منتظر ہیں۔ سب سے پہلے معاشی صورت حال بہتر کرنا اور گورننس میں بہتری لانا مریم نواز کیلئے بڑا چیلنج ہیں۔ حسن عسکری کے مطابق مریم نواز کی کابینہ میں اگرچہ نئے لوگ بھی شامل کیے گئے ہیں لیکن طرز حکمرانی وہی اپنائی جا رہی ہے کہ قریبی لوگ کابینہ کا حصہ ہیں اور خاص افسران کو محکموں کی ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں۔‘ جس سے گڈ گورننس کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا۔
