صدر علوی کا سوشل میڈیا پر رگڑا کیوں نکلنے لگا؟

اپنی تنخواہ میں دوہرا اضافہ مانگنے پر عمرانڈو صدر عارف علوی سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ عوام ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی کے بوجھ تلے دبی جا رہی ہے اور ہر روز اس پر کبھی پٹرول بم برسائے جاتے ہیں اور کبھی اس کو مہنگی بجلی کے جھٹکے برداشت کرنا پڑتے ہیں تاہم ان حالات میں ہماری اشرافیہ کو اپنے اللے تللوں سے ہی فرصت نہیں۔ صدر علوی کا بطور سربراہ مملکت بڑھتی مہنگائی پر عوام سے اظہار ہمدردی تو کجا انھیں صرف اپنی تنخواہ بڑھانے کی پڑی ہوئی ہے وہ بھی صرف ایک بار نہیں بلکہ دو دو باد تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا مزید کہنا ہے کہ تنخواہ میں ڈبل اضافے کا مطالبہ کرنے والے صدر علوی کیا عوام کو بتائیں گے کہ آخر ان کا کام کیا ہے وہ کرتے کیا ہیں جو وہ تنخواہ میں ڈبل اضافہ مانگ رہے ہیں۔ صدر علوی کو اپنی اس غلطی پر بھی معافی مانگنی چاہیے۔
خیال رہے کہ صدر عارف علوی نے ایک خط میں وزارت خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اُن کی تنخواہ بڑھائی جائے، اس کی توجیح پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ قانون کے مطابق صدر پاکستان کی تنخواہ ملک کے چیف جسٹس کی تنخواہ سے ایک روپیہ زیادہ ہونی چاہیے۔
خط لکھے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے ایوانِ صدر کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ’یہ صدر کی خواہش نہیں ہے، بلکہ قانون یہ کہتا ہے کہ ان کی تنخواہ چیف جسٹس کی تنخواہ سے ایک روپیہ زیادہ ہو۔ جس کی بنیادی وجہ فیڈریشن میں ان کا عہدہ سب سے بڑا ہونا ہے۔‘
خیال رہے کہ صدر پاکستان کی تنخواہ ’پریذیڈنٹ سیلری، الاؤنسز اینڈ پریویلجز ایکٹ 1975 کے تحت دی جاتی ہیں جس میں 2018 میں ایک اہم ترمیم کی گئی تھی۔اس ترمیم کے مطابق اب صدر کی تنخواہ میں اضافہ کابینہ کے ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے ایکٹ کے شیڈول فور میں کیا جاتا ہے اور یہ کہ صدر کی تنخواہ، چیف جسٹس آف پاکستان کی تنخواہ سے علامتی طور پر ایک روپیہ زیادہ ہو گی۔ایوان صدر کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ’گذشتہ پانچ سال کے دوران دو مرتبہ چیف جسٹس کی تنخواہ میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اُن کی تنخواہ صدر سے بڑھ گئی ہے، جو خود قانون کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔‘
تاہم یہ مطالبہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ان کی صدارتی مدت پوری ہونے میں چندہی دن باقی ہیں۔ ان کا مطالبہ پورا ہونے کی صورت میں صدر عارف علوی کو جولائی 2021 سے بقایاجات بھی ملنے کا امکان ہے۔
ایوان صدر کے افسر کے مطابق ’یہ وفاقی کابینہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ جب چیف جسٹس کی تنخواہ بڑھا رہے تھے تو آئین کے مطابق صدر مملکت کی تنخواہ میں اضافہ کرتے تاکہ ان کی تنخواہ عہدے کے مطابق ہوتی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اب اسی قانونی کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ خط لکھا گیا ہے۔‘
اہلکار کے مطابق اس وقت صدر پاکستان کی ماہانہ تنخواہ آٹھ لاکھ 46 ہزار 550 روپے ہے جس میں وہ دو مراحل کا اضافہ چاہتے ہیں۔ یعنی جولائی 2021 سے ان کی تنخواہ دس لاکھ 24 ہزار روپے جب کہ جولائی 2023 سے ان کی تنخواہ بارہ لاکھ 29 ہزار روپے ہونی چاہیے۔
ایوان صدر کے اہلکار کا یہ موقف آئینی و قانونی اعتبار سے تو درست ہے البتہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر اس مطالبے پر خاصی تنقید کی جا رہی ہے۔
صدر کی جانب سے تنخواہ میں اضافے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایلیا زہرا نے اس مطالبے کو ’بے رحمانہ‘ قرار دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’صدر عارف علوی ایک ایسے وقت میں تنخواہ میں اضافے کی بات کر رہے ہیں جب ملک میں ایک بہت بڑا طبقہ محض بل ادا کرنے اور دو وقت کی روٹی پوری کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔‘
دوسری طرف سوشل میڈیا پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ صارفین نہ صرف صدر کے تنخواہ بڑھانے کے مطالبے پر تنقید کر رہے ہیں بلکہ ملک میں بڑے عہدوں پر کام کرنے والے افسران کی بڑی تنخواہوں اور مراعات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سوشیالوجی پروفیسر اور سماجی کارکن ندا کرمانی نے صدر عارف علوی سے سوال پوچھا ہے کہ ’کیا اس کے لیے بھی اللہ سے معافی مانگیں گے؟‘انھوں نے کہا کہ ’ایوان صدر سے آنے والے اس مطالبے سے یقینی طور پر یہی تاثر ملا ہے کہ انہیں اس ملک کی عوام کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔‘
صحافی مونا عالم نے بھی صدر عارف علوی کی جانب سے لکھے گئے اس مطالبے پر تنقید کی ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’عام شہری بجلی کے بل ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے خودکشی کر رہے ہیں جبکہ صدر کو دو مراحل میں اپنی تنخواہ میں اضافہ چاہیے۔‘
لیکن کئی صارفین ایسے بھی ہیں جو ان کے مطالبے کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دراصل ’جج صاحبان کی تنخواہوں پر تنقید ہونی چاہیے‘۔زلفی نامی ایک ایکس اکاؤنٹ نے لکھا کہ ’صدر کا عہدہ سب سے بڑا ہے اسی لیے ان کی تنخواہ بھی سب سے زیادہ ہونی چاہیے۔ یہاں صرف صدر عارف علوی کی مذمت کرنا ناانصافی ہے۔ اگر آپ نے مذمت ہی کرنی ہے تو سپریم کورٹ کے ججز کی کریں جنھوں نے اپنی تنخواہوں میں اضافہ کروایا۔‘
