عمران کے معافی کیلئے قطر اور سعودیہ کے ترلے اور منتیں؟

سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایک کے بعد دوسرے کیس میں گرفتاری اور مستقبل قریب میں لمبی قید کو دیکھتے ہوئے سیاسی حلقوں میں عمران خان کی معافی تلافی اور این آر او کی افواہوں میں تیزی آ گئی ہے۔ ایک طرف جہاں وفاقی دارالحکومت کے ایوانوں میں سابقہ خاتون اول بشری بی بی المعروف پنکی پیرنی کی امیر قطر سے ملاقات کے چرچے ہیں وہیں دوسری طرف بعض سیاسی حلقے سعودی کراون پرنس محمد بن سلمان کی پاکستان آمد کو بھی عمران خان کیلئے این آر او کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بعض اقدامات کی وجہ سے سعودی قیادت سابق وزیر اعظم سے کافی نالاں ہے اسی لئے ان کی طرف سے عمران خان کو این آر او دینے کیلئے کوئی کردار ادا کرنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ دوسری جانب 9 مئی کھ واقعات کے بعد ملٹری اسٹیبلشمنٹ آسانی سے عمران خان کو معاف نہیں کرے گی۔ اس لیے بشری کی امیر قطر سے ملاقات اور محمد بن سلمان کی پاکستان آمد کو عمران خان کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کا حصہ قرار دینا کوئی سازشی کہانی تو ہو سکتی ہے لیکن اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ دوسری جانب سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری کا کہنا ہے کہ عمران خان کے باہر آنے کے چانسزبہت کم ہیں کیونکہ ان کے اوپر کیسیز کی بھرمارہے اور تمام کے تمام کیسیز خطرناک نویت کے ہیں۔ 9 مئی کا واقعہ، القادر ٹرسٹ، فارن فنڈنگ کیس، ٹیریان خان یہ تمام کیسز خطرناک ہیں اور یہ آسانی سے عمران خان کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ ایک کے ساتھ دوسرا کیس پہلے سے زیادہ خطرناک نویت کا ہے جس میں ان کا باہر آنا بہت مشکل لگ رہا ہے۔
عمران خان کے جوڈیشنل ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کے حوالے سے سلیم بخاری کا کہنا ہے کہ یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے یہ پہلے بھی سیاسی مخالفین کے خلاف ہوتا رہا ہے یہ سب کچھ ان کے اپنے دور میں بھی ہوتا رہا ہے اور رہی بات ان کو عدالت کے اندر نہ پیش کرنے کی تو یہ معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کس کو عدالت میں پیش کرنا یا عدالت جیل کے اندر ہی لگانی ہے۔ سلیم بخاری کے مطابق مجھے یہ بات سوچتے ہوئے حیرت ہوتی ہے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ یہ شخص ورلڈکپ لے کے ٹرک کے اوپر چڑھ جاتا تھا تو پوری قوم اس کے پیچھے ہوتی تھی لیکن اب وہ شخص ایک کوٹھڑی میں پڑاہے لیکن اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں اس کو مکافات عمل کہتے ہیں۔
سلیم بخاری کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان بارے عدالت سے جب بھی کوئی فیصلہ آتا ہے تو پی ٹی آئی کے کارکن اور رہنما خوشی سے لڈیاں ڈالنا شروع کردیتے ہیں کہ عمران خان کو کوئی جیل میں نہیں رکھ سکتا،وہ شیر ہے لیکن عمرانڈوز کو مشورہ ہے کہ خوش ہونے سے پہلے یا تو عدالت کا تحریری فیصلہ پڑھ لیا کریں یا تو ن لیگ کے رہنماؤں سے مشورہ کرلیا کریں کیونکہ ان کا حال بھی یہی ہوا کرتا تھا کہ فیصلہ پڑھنے سے پہلے لڈیاں ڈالنا شروع کردیتے تھے بعد میں روتے تھے۔ سلیم بخاری کے مطابق یہ چیز عمران خان کو بہت نقصان دے گی پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے،شاید آپ کو یاد ہوگا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینا آسان نہیں تھا لیکن ان کو دو چیزوں نے نقصان دیا تھا ایک ان کا اپنا اخبار تھا اور دوسرا اسی طرح کے لوگ جو کہتے تھے کہ شیر کو کوئی کچھ نہیں کر سکتا اور اب یہی حال عمران خان کا ہے۔
سلیم بخاری کا مزید کہنا ہے کہ خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ لاڈلے کی 25 دن کی قید میں ہی بس ہوگئی ہے اب جو بھی وکیل ان کے پاس ملاقات کیلئے جاتا ہے یہ ان سے کہتا ہے کہ ’جو بھی کرو جیسے بھی کرو مجھے اس جیل سے آزاد کرواؤ‘۔ اپنے مخالفین کو 2،2 سال جیل میں رکھنے والا اب 25 دن میں ہی پورا ہوچکا ہے۔سلیم بخاری نے مزید کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ کو جو اپنی ضروریات کی لسٹ بھجوائی ہے، کہیں سپریم کورٹ آرڈر ہی جاری نہ کردے۔ میرے خیال میں اب سپریم کورٹ کو کہہ دینا چاہئے کہ عمران خان کو 5 اسٹار ہوٹل میں منتقل کردیں، دیکھیں خواہشات پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
سلیم بخاری کے مطابق باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ بشریٰ بی بی نے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے قطر کے امیر کے ساتھ ملاقات کی ہے، یہ وہ شخص ہے جو کہتا تھا کہ میں باہر نہیں جاؤں گا،مرنا پسند کروں گا اور کہتا تھا کہ میں جیل سے نہیں ڈرتا لیکن اب ان ملاقاتوں کی سمجھ نہیں آتی۔ سلیم بخاری کے مطابق اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے بھی جھوٹے طیارہ کیس میں نواز شریف کیلئے بھی سعودی عرب، قطر اور لبنان کے امیر ایک ساتھ ہوگئے تھے پہلے میاں صاحب کو پھانسی ہونی تھی بعدمیں عمر قید، پھر سعودی امیر آئے اور نواز شریف کو لے کر سعودی عرب چلے گئے۔ سلیم بخاری کا مزید کہنا ہے کہ اب سننے میں آیا ہے کہ سعودی فرما روا محمد بن سلمان پاکستان آرہے ہیں، پتہ نہیں وجہ کیا لیکن مجھے جہاں تک لگتا ہے وہ اس پر بات ضرور کریں گے کیونکہ ایک ایسا شخص جس نے دنیا میں اتنی عزت کمائی ہو پاکستان کا نام روشن کیا ہو ولڈکپ جیتا ہو اس کے ساتھ ایسا ناروا سلوک دنیا برداشت نہیں کرتی ،میرے خیال سے وہ اس پر بات ضرور کریں گے۔
