نواز شریف کا شہباز مصالحتی فارمولہ ماننے سے صاف انکار

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے آئندہ انتخابی مہم بارے اپنے بھائی اور سابق وزیراعظم شہباز شریف کا جارحانہ حکمت عملی اپنانے کی بجائے مفاہمت پر مبنی بیانیہ لے کر چلنے کا مطالبہ یکسر مسترد کردیا ہے۔ نواز شریف نے اپنی انتخابی مہم میں سابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کالے کرتوت کھول کر سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ کچھ روز قبل دبئی میں نواز شریف کی زیر صدارت (ن) لیگ کا پارٹی اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں (ن) لیگ نے قرار دیا گیا تھا کہ ن لیگ کے خلاف سازش کرنے والے سابق سپہ سالار جنرل باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنل فیض، ایک سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، عمران خان اور دیگر ملکی تباہی کے بنیادی ذمہ دار ہیں۔

نواز شریف نے طے کیا تھا کہ انتخابی بیانے میں جارحانہ پالیسی اپنائی جائے گی اور ملکی تباہی کے ان ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جائے گا تاہم ذرائع کے مطابق اب اس فیصلے کی مخالفت سامنے آئی ہے۔ ملک کی چند سابق اہم شخصیات نے مشترکہ دوستوں کے ذریعے نواز شریف سے رابطہ کیا ہے اور درخواست کی ہے کہ وہ انتخابی مہم میں اہم شخصیات کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں۔ مشترکہ دوستوں ںے نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ماضی کو بھول کر مستقبل کی سیاست دیکھیں۔ن لیگ کے صدر اور نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے بھی مشترکہ دوستوں کی رائے کا ساتھ دیا ہے تاہم نواز شریف نے اپنے بھائی اور مشترکہ دوستوں کی بات ماننے سے انکار کردیا ہے۔شہباز شریف نے کوشش بھی کی تاہم وہ اپنے بھائی کو نہیں مناسکے اور نواز شریف اپنے موقف پر ڈٹ گئے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف کا موقف ہے کہ صرف میری ذات کی بات ہوتی تو درگزر کر جاتا مگر ترقی کرتے ہوئے پاکستان کو نقصان پہنچایا گیا، سازشی عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ وہ اس حوالے سے قطعات کوئی دباؤ برداشت نہیں کرینگے اور ہر صورت حقائق عوام کے سامنے لائیں گے۔واضح رہے کہ لیگی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے آئندہ عام انتخابات میں مصالحانہ کی بجائے جارحانہ انداز اپنانے اور پارٹی قیادت کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے والی اہم شخصیات کی خفیہ آڈیوز اور ویڈیوز سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن  نے 2018 میں اسٹیبلشمنٹ مخالف ووٹ کوعزت دو کا بیانیہ عوام کو دیا اور اسی بیانیے پرالیکشن لڑا، جس کوعوام کے اندر خوب پذیرائی ملی اور اس وقت ووٹ کوعزت دو کا نعرہ اتنا مشہور ہوگیاکہ ہر کوئی ووٹ کو عزت دو لکھنے اور گنگنانے لگ گیا۔اس دوران نواز شریف جب لندن علاج کی غرض سے چلے گئے تو مریم نواز اس بیانیہ کو لیکر آگے بڑھیں اور اسی بیانیہ کے تحت گزشتہ حکومت کے دوران متعدد ضمنی الیکشنز میں مسلم لیگ ن کو کامیاب کرایا تاہم الیکشن نزدیک آنے کے ساتھ یہ سوال سیاسی حلقوں میں زیر گردش ہے کہ آمدہ عام انتخابات میں نون لیگ کیا بیانیہ اپنائے گی؟ ذرائع کے مطابق لندن میں ہونے والی اعلیٰ سطحی مشاورت میں ن لیگ نے اہم شخصیات کی خفیہ آڈیوز سامنے لانے اور مخالفین کیخلاف جارحانہ مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق ن لیگ کی انتخابی مہم میں ملکی تباہی کی ذمہ داری پاناما جے آئی ٹی کے اراکین، سابقہ سپہ سالار، سابق آئی ایس آئی چیف، ججز، سابق نیب چئیرمن، پی ٹی آئی کے چئیرمن اور دیگر پر عائد کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے آئندہ عام انتخابات میں مصالحانہ کی بجائے جارحانہ انداز اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن انتخابی مہم میں اپنے ساتھ ہونے والی انتقامی کارروائیوں کو ڈاکومینٹری کی صورت میں سامنے لائے گی، انتخابی مہم کے دوران اداروں کے بجائے چند اہم شخصیات کو ہدفِ تنقید بنایا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف انتخابی مہم میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، سابق ججز آصف سعید کھوسہ اور شیخ عظمت سعید سمیت دیگر کے پس پردہ کردار کے حوالے سے اہم انکشافات کریں گے، پارٹی کی جانب سے انتخابی مہم میں کچھ اہم شخصیات کی خفیہ آڈیوز بھی عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔ نواز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کی معاشی، سماجی اور سیاسی ابتری کے ذمہ داروں کے نام اجاگر کئے جائیں گے، ملکی ابتر صورتحال کی ذمہ داری پاناما جے آئی ٹی کے اراکین، سابقہ سپہ سالار، سابق آئی ایس آئی چیف، ججز، سابق نیب چئیرمن، پی ٹی آئی کے چئیرمن سمیت دیگر پر عائد کی جائے گی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز اپنے ساتھ ہونے والی سازش کے پس پردہ محرکات کو سامنے لائیں گے، شہباز شریف اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز عوامی اجتماعات میں مصالحانہ رویہ بھی اپنائیں گے، انتخابی مہم کے دوران شہباز شریف اور حمزہ شہباز اپنے ادوار کے ترقیاتی منصوبوں پر بات کریں گے۔

Back to top button