طالبان کی KPK میں واپسی تسلیم کیوں نہیں کی جا رہی؟

خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کی واپسی اور ان کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کے باوجود عسکری حکام ان کی واپسی کی تصدیق کرنے سے گریزاں ہیں جس کا بنیادی مقصد کابل میں پاکستانی حکام اور ٹی ٹی پی کے مابین افغان طالبان کی سرپرستی میں جاری مذاکراتی عمل کو بچانا ہے۔ خیبرپختونخوا کی مالاکنڈ ڈویژن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسندوں کی واپسی کے خلاف پچھلے کئی دنوں سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور لوگ انہیں بے دخل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل خیبرپختونخوا کے علاقے سوات میں بھی ٹی ٹی پی سے منسلک عسکریت پسندوں کی واپسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے جس کے بعد سوات مٹہ میں چیک پوسٹ قائم کر کے سکیورٹی فورسز کا گشت شروع کر دیا گیا، عسکری حکام نے سوات اور اس سے منسلک علاقوں میں ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کی موجودگی کو ’مبالغہ آمیز‘ اور ’گمراہ کن‘ قرار دیا ہے۔
لیکن ان علاقوں میں دہشت گردی کے کچھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جن کی بنیاد پر یہ موقف درست نظر نہیں آتا۔ ان واقعات میں ایک واقعہ ایسا بھی تھا کہ جس میں طالبان دہشت گردوں نے مٹہ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او اور دو فوجی افسران کو اغوا کرلیا تھا، جن کی رہائی کے لیے مقامی جرگے کو مذاکرات کرنا پڑے تھے۔ طالبان نے رہائی سے پہلے ایس ایچ او کی ٹانگ میں گولی بھی مار دی تھی۔ اس واقعے کے بعد سوات اور مٹہ کے شہریوں نے سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے شروع کیے تو یہ خبر آئی کہ فورسز نے سوات پہنچ کر اپنی چیک پوسٹس قائم کردی ہیں اور گشت شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب تحریک طالبان کی جانب سے باقاعدہ دھمکی دی گئی کہ اگر پاکستانی فوج نے سوات، مٹہ اور دیر کے علاقوں میں طالبان کے خلاف کوئی کارروائی شروع کی تو اسکا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اس بیان سے سمجھ آتی ہے کہ طالبان پہلے ہی ان علاقوں میں واپس لوٹ چکے ہیں۔
یاد رہے کہ پچھلے کچھ ماہ سے پاکستانی عسکری حکام اور تحریک طالبان کی قیادت کے مابین کابل میں امن مذاکرات جاری ہیں اور دونوں اطراف نے ایک دوسرے کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شاید اسی لیے پاکستانی فوجی حکام طالبان کی خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں واپسی کی تصدیق کرنے سے انکاری ہیں۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی بتانے کو تیار نہیں کہ سوات اور مٹہ میں پاکستانی فوج کے دستے پہنچ چکے ہیں۔ سوات اور مٹہ کے مکین یہ الزام لگاتے ہیں کہ پاکستانی طالبان کو کابل میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں اپنے علاقوں میں واپس آنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
لیکن پاکستانی عسکری حکام اس کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب آئی ایس پی آر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ سوات اور دیر کے پہاڑوں پر کچھ مسلح افراد کی موجودگی پائی گئی۔ تاہم پاکستانی فوج کی ’زمین پر تصدیق کے بعد ان اطلاعات کو مبالغہ آمیز اور گمراہ کن پایا گیا۔‘ فوج کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ’طالبان عسکریت پسندوں کی موجودگی کہیں بھی برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر ضرورت پڑی تو ان کے ساتھ پوری طاقت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ بیان میں فوج کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ یہ عسکریت پسند شاید افغانستان سے واپس پاکستان اپنے علاقوں میں رہنے آئے تھے۔
فوجی ترجمان کا یہ بیان ایک جانب طالبان کی پاکستانی علاقوں میں واپسی کی تصدیق کرتا ہے تو دوسری جانب تردید کرتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں طالبان کی واپسی کے حوالے سے سیاسی جماعتوں خصوصاً صوبے کی حکمراں جماعت تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے بھی متضاد بیانات جاری ہو رہے ہیں۔ کچھ وزرا طالبان کی واپسی کی تصدیق کر رہے ہیں تو کچھ کا اصرار ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ لیکن خیبر پختونخوا کی پولیس نے ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کی سوات کے دور دراز علاقوں میں موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ حال ہی میں سوات پولیس کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’خیبر پختونخوا پولیس وادی میں عسکریت پسندوں کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز سے واقف ہے۔ ہم اس سے بھی آگاہ ہیں کہ لوگوں میں یہ خدشات ہیں کہ کہیں سوات 2008 یا 2009 والے وقت کی طرف نہ لوٹ جائے جب وہاں عسکریت پسند حکمرانی کیا کرتے تھے۔‘تاہم پولیس کی جانب سے عوام کو یہ بھی تسلی دی گئی کہ علاقہ سویلین انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے اور پولیس کسی بھی قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

Back to top button