میرے خلاف سوشل میڈیا پر گھٹیا ٹرینڈ PTI چلا رہی ہے

سینئر اینکر پرسن اور خاتون صحافی غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے ٹرول بریگیڈ نے شہباز گل کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر مجھے گندی گالیاں دینے کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ انہیں تحریک انصاف کی جانب سے آج سے نہیں بلکہ 2014ء سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، غریدہ فاروقی نے کہا کہ جب سے شہباز گل گرفتار ہوئے ہیں، ان کے بارے میں میرا ایک موقف رہا ہے، سب لوگ جانتے ہیں کہ میں صحافت ڈٹ کر کرتی ہوں لیکن اگر اس سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو میں سچ بولنے سے باز نہیں آ سکتی۔
سوشل میڈیا پر اپنے خلاف چلائے گئے ٹرینڈ پر ”نیا دور ٹی وی” کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے غریدہ فاروقی نے کہا کہ ہر کسی کو تنقید کا حق ہے۔ لیکن تنقید دلیل کی بنیاد پر ہونی چاہئے، گالی کی صورت میں نہیں اگر کسی کو میری بات سے تکلیف ہوتی ہے تو قانونی راستے موجود ہیں جنہیں میرے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، شہباز گل کے معاملے پر میرا ایک واضح موقف ہے کہ یا تو آپ آئین پاکستان کو مانیں ہی نہ اور یا ڈکٹیٹرز کی طرح اسے پھاڑ کر پھینک دیں لیکن اگر آپ نے قانون پسند شہری بننا ہے تو آپ کے آئین میں عدلیہ اور پاک فوج کے حوالے سے ریڈ لائن کو واضح کر دیا گیا ہے۔
غریدہ کا کہنا تھا کہ شہباز گل کے معاملے پر میں کلیئر ہوں کہ انہوں نے آئین کیساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے فوجی جوانوں کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت پر اُکسایا بلکہ یہاں تک کہا کہ آپ نے اپنے سینئرز کے احکامات کو کسی صورت تسلیم نہیں کرنا ہے، میرے نزدیک یہ ایک بہت بڑا جرم ہے، ان کا کہنا تھا کہ شہباز گل کیس کا حتمی فیصلہ تو عدالتیں کرینگی گی لیکن میرے نزدیک انہوں نے جو کچھ کہا، وہ بالکل غلط تھا، انہوں نے کہا کہ جب سے شہباز گل کو گرفتار کیا گیا ہے، سوشل میڈیا پر مجھے گالیاں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
یہ سب کچھ تحریک انصاف سے وابستہ لوگ کر رہے ہیں، غریدہ فاروقی کا کہنا تھا کہ 2014ء کے پی ٹی آئی دھرنے کے دوران میں ایک ٹیلی وژن چینل سے وابستہ تھی، اس وقت میرے بارے میں یہی تاثر تھا کہ میں پی ٹی آئی کی حامی ہوں کیونکہ دھرنے کی کوریج کے دوران میں نے عمران خسن کے کئی انٹرویوز کئے تھے لیکن اس کے باوجود مجھے پی ٹی آئی والے ٹرولنگ کا نشانہ بناتے تھے، میرے خلاف آج تک جو بھی سوشل میڈیا پر مہم چلی وہ تحریک انصاف کی جانب سے ہی چلائی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں ان گھٹیا سوشل میڈیا ٹرینڈز کیخلاف کئی مرتبہ ایف آئی اے میں درخواستیں دے چکی ہوں لیکن مجھے آج تک انصاف نہیں ملا۔ پی ٹی آئی کی سابق وفاقی زرتاج گل نے میرے بارے ایک گھٹیا قسم کی مہم چلائی تو میں ان کیخلاف بھی ایف آئی اے کے پاس گئی تھی لیکن 2018ء میں وہ جیسے ہی وزیر بنیں انہوں نے دبائو ڈال کر یہ کیس ہی خارج کروا دیا تھا۔
غریدہ نے کہا کہ ہم اینکرز کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ یہ بڑے طاقتور لوگ ہوتے ہیں جو سیاستدانوں کی ایسی تیسی پھیر دیتے ہیں لیکن آپ ذرا تصور کریں کہ مجھ جیسی خاتون کو انصاف نہیں ملا تو عام خواتین کیساتھ ہمارے معاشرے میں کس قسم کا سلوک کیا جاتا ہوگا۔
