پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی، ن لیگ کے 12 رہنمائوں کے وارنٹ‌جاری

پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس کے دوران لاہور کی عدالت نے مسلم لیگ ن کے 12 رہنمائوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے، لاہور پولیس کی جانب سے وارنٹ کیلئے درخواست دائر کی گئی تھی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ مدثر حیات نے تھانہ قلعہ گجر سنگھ پولیس کی درخواست پر حکم جاری کیا ہے جن رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ان میں رانا مشہود، عطااللہ تارڑ، سردار اویس لغاری، مرزا جاوید، سیف الملوک کھوکھر، خضر حیات کھگہ، راجہ صغیر، عبدالرؤف ، پیر اشرف ، بلال تارڑ اور رانا منان شامل ہیں۔
پولیس نے مقامی عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہے لیکن وہ تفتیش میں شامل نہیں ہو رہے اس لیے ان کی گرفتاری ناگزیر ہے، خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی میں رواں سال اپریل میں وزیراعلیٰ کے انتخابی عمل کے دوران ہنگامہ آرائی ہوئی تھی جس میں اس وقت کے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔
اس وقت پولیس نے اسمبلی ہال کے اندر ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج کیا تھا تاہم اس وقت اس مقدمے میں تحریک انصاف اور ق لیگ کے اراکین اسمبلی کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔
بعد ازاں پی ٹی آئی اور ق لیگ نے بھی تھانے میں درخواستیں جمع کروا دی تھیں کہ ان کے اراکین پر تشدد کیا گیا ہے۔ حکومت بدلنے کے بعد اب پولیس نے تحریک انصاف اور ق لیگ کی درخواستوں پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔
اس سے پہلے ن لیگ کی حکومت میں اسی مقدمے میں تحریک انصاف کے رہنما عدالت میں پیش ہوتے رہے اور انہوں نے عبوری ضمانتیں بھی کروا رکھی تھیں تاہم اب پولیس نے انہیں بے قصور قرار دے دیا گیا ہے۔
پنجاب میں مسلم لیگ ن کی ترجمان عظمہ بخاری نے ن لیگی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ پہلاموقع ہے کہ مدعی کو ملزم بنا دیا گیا ہے۔ ساری دنیا نے لائیو دیکھا کیسے اسمبلی ہال کے اندر ڈپٹی سپیکر پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ انہیں بچانے کے لیے خود پولیس کو ہال کے اندر آنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ’اب اسی مقدمے میں پنجاب کی فاشسٹ حکومت نے پولیس کو استعمال کرتے ہوئے مدعی کو ملزم اور ملزم کو مدعی بنا دیا ہے۔ اس سے بڑی مثال سیاسی انتقام کی نہیں ہو سکتی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پولیس نے عطااللہ تارڑ اور رانا مشہود کی گرفتاری کے لیے ان کے گھروں میں چھاپے بھی مارے تھے تاہم وہ موجود نہیں تھے۔

Back to top button