اب کرپٹ اور بدنام جج جبری ریٹائرڈ نہیں برطرف ہو گا

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم اور اصولی فیصلے میں سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر کسی جج کی شہرت خراب ہو جائے اور اس کی دیانت داری عوام کی نظروں میں مشکوک بن جائے تو اسے محض لازمی ریٹائرمنٹ دے کر رخصت نہیں کیا جا سکتا بلکہ ایسے جج کی مناسب سزا برطرفی ہے۔

سپریم کورٹ نے سابق ایڈیشنل اینڈ سیشن جج میلسی، افضل زاہد کی برطرفی کے خلاف دائر اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالتی منصب صرف قانونی مہارت کا نہیں بلکہ اعلیٰ ترین اخلاقی معیار، دیانت داری اور عوامی اعتماد کا تقاضا کرتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایک جج کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ اس کے خلاف بدعنوانی ثابت نہ ہو بلکہ اس کا کردار، ساکھ اور معاشرے میں نیک نامی بھی بے داغ ہونی چاہیے۔

جسٹس شاہد وحید کی جانب سے تحریر کردہ 9 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ عوام عدالتوں میں صرف قانونی موشگافیوں کے حل کے لیے نہیں آتے بلکہ وہ انصاف کے حصول کے لیے ایک ایسے ضمیر پر اعتماد کرتے ہیں جو جج کے روپ میں ان کے سامنے موجود ہوتا ہے۔ اگر اسی ضمیر اور کردار پر سوالات اٹھنے لگیں تو عوام کا پورے عدالتی نظام پر اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں زور دیا کہ عدلیہ کی اصل طاقت نہ فوج ہے، نہ ہتھیار اور نہ ہی ریاستی جبر، بلکہ اس کی بنیاد عوام کا اعتماد اور اخلاقی جواز ہے۔ جب کسی جج کی شہرت بری طرح متاثر ہو جائے تو اسے مراعات کے ساتھ لازمی ریٹائرمنٹ دینا یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ عدلیہ میں دیانت داری اور شہرت کے معاملات پر سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے، جو انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

فیصلے میں ایک نہایت سخت اور غیر معمولی مثال بھی دی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب کسی بدنام یا بدعنوان جج کو برطرف کیا جاتا ہے تو عدالتی ادارہ اپنے جسم سے ایک "کینسر زدہ رسولی” کو نکال کر پھینک دیتا ہے، جس کے بعد ادارے کی صحت مند بحالی کا عمل شروع ہوتا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرآن و سنت اور اسلامی فقہ کے اصولوں سے بھی رہنمائی حاصل کی۔ سورۃ النساء کی آیت 58 کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے یاد دلایا کہ اللہ تعالیٰ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچانے اور لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے کا حکم دیتا ہے۔

عدالت نے ایک معروف حدیث کا حوالہ بھی دیا جس میں عادل اور حق پر مبنی فیصلہ کرنے والے جج کو جنتی جبکہ جہالت یا ناانصافی سے فیصلہ کرنے والے جج کو جہنمی قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جج کے لیے صرف علم کافی نہیں بلکہ تقویٰ، راست بازی اور بے داغ کردار بھی لازمی ہیں۔اسلامی فقہ کے ممتاز علماء امام ماوردی اور ابن قدامہ کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی قاضی یا جج کی ساکھ اس حد تک متاثر ہو جائے کہ عوام اس کی دیانت داری پر شک کرنے لگیں تو اسے فوراً منصب سے ہٹا دینا چاہیے کیونکہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

خیال رہے کہ یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب سابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل زاہد کے خلاف رشوت ستانی اور بدعنوانی سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئیں۔ اگرچہ محکمانہ تحقیقات میں براہ راست رشوت لینے کا الزام ثابت نہیں ہو سکا، تاہم مسلسل نگرانی اور سہ ماہی رپورٹس میں ان کی شہرت اور دیانت داری پر سنگین سوالات اٹھائے گئے۔ بعد ازاں مجاز اتھارٹی نے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا۔ بعد میں سروس ٹربیونل نے برطرفی کی سزا کو تبدیل کرتے ہوئے لازمی ریٹائرمنٹ میں بدل دیا تھا، تاہم لاہور ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو چیلنج کیا۔ دوسری جانب سابق جج نے اپنی بحالی اور منفی ریمارکس ختم کرنے کے لیے اپیل دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ نے دونوں اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے برطرفی کا اصل فیصلہ بحال رکھا۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل میں عدالتی احتساب، ججوں کے اخلاقی معیار اور عوامی اعتماد کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم نظیر ثابت ہوگا۔ اس فیصلے نے واضح پیغام دیا ہے کہ انصاف کے منصب پر فائز شخص کے لیے صرف قانونی پاکیزگی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی اعتبار سے بھی ناگزیر ہے۔

Back to top button