امریکی اعتماد متزلزل: نیتن یاہو کے برے دن شروع ہو گئے

مشرق وسطیٰ کی سیاست ایک بار پھر اہم موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب ایران، لبنان اور فلسطین کے معاملات پر اسرائیل شدید دباؤ کا شکار ہے، امریکی میڈیا میں آنے والی رپورٹس نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی انتظامیہ نے اسرائیل کے اندر نیتن یاہو کے ممکنہ سیاسی متبادلوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں، جسے کئی مبصرین اسرائیلی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔
امریکی ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے بعض اہم عہدیدار حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں اور ان شخصیات سے رابطے میں ہیں جو مستقبل میں نیتن یاہو کی جگہ لینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان ناموں میں سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور سابق آرمی چیف گاڈی آئزن کوٹ سرفہرست بتائے جا رہے ہیں۔ دونوں شخصیات اسرائیلی سیاست میں نسبتاً معتدل اور قابلِ قبول چہرے سمجھے جاتے ہیں اور عوامی سطح پر بھی ان کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے یہ رابطے محض سفارتی آداب کا حصہ نہیں بلکہ امریکی انتظامیہ کے اندر نیتن یاہو کی پالیسیوں کے حوالے سے بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ خاص طور پر ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور لبنان جنگ بندی کے معاملات میں اسرائیلی حکومت اور امریکی قیادت کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات نے بھی ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر یاد دلایا کہ اسرائیل کی عسکری طاقت کا بڑا حصہ امریکی مالی اور دفاعی معاونت کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران اسرائیل کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے دو تہائی ہتھیار امریکی صنعتوں میں تیار ہوئے اور ان کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان نے ادا کی۔
یہ بیانات دراصل ان اسرائیلی وزراء کے ردعمل کا جواب تھے جنہوں نے ایران کے ساتھ امریکی مفاہمتی اقدامات پر تنقید کی تھی۔ جے ڈی وینس نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ جو لوگ امریکی صدر کو مسئلہ سمجھتے ہیں وہ زمینی حقائق کا ادراک کریں، کیونکہ اسرائیل کی سکیورٹی میں امریکہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات بھی گزشتہ چند ماہ میں غیر معمولی تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ بندی اور لبنان میں فائر بندی کے دوران ٹرمپ متعدد بار نیتن یاہو کی پالیسیوں پر برہمی کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے نجی محفلوں میں نیتن یاہو کو "مشکل شخصیت” قرار دیا جبکہ بعض اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کو سخت پیغامات بھی بھیجے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر واشنگٹن واقعی اسرائیلی اپوزیشن قیادت کے ساتھ روابط بڑھا رہا ہے تو یہ صرف شخصیات کی تبدیلی کا معاملہ نہیں بلکہ اسرائیل کی مستقبل کی پالیسیوں سے متعلق امریکی سوچ میں تبدیلی کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ امریکہ خطے میں ایک ایسے اسرائیلی قائد کو دیکھنا چاہتا ہے جو ایران، فلسطین اور لبنان کے معاملات میں زیادہ قابلِ پیش گوئی اور واشنگٹن کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔
تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نیتن یاہو کا سیاسی دور ختم ہونے والا ہے۔ وہ اسرائیل کے سب سے تجربہ کار سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں اور کئی بار سیاسی بحرانوں سے نکل کر اقتدار میں واپس آ چکے ہیں۔ ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ سکیورٹی کے پیچیدہ حالات میں اسرائیلی عوام اب بھی انہیں ایک مضبوط رہنما سمجھتے ہیں۔
اس کے باوجود امریکی ناراضی، اندرونی سیاسی دباؤ، جنگی پالیسیوں پر تنقید اور اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ آنے والے مہینے نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر واشنگٹن کی حمایت میں کمی آتی ہے تو اسرائیلی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز بھی خارج از امکان نہیں۔
