108 روزہ ایران امریکہ جنگ: کسی کا کتنا نقصان ہوا؟

108 روز تک جاری رہنے والی ایران جنگ جدید تاریخ کے مہنگے ترین اور تباہ کن تنازعات میں شمار ہونے لگی ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف ہزاروں انسانی جانیں نگل لیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں، خلیجی ریاستوں اور بین الاقوامی تجارت کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ جنگ بندی کے باوجود اس کے معاشی، سیاسی اور تزویراتی اثرات برسوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔
مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اس 108 روزہ جنگ میں مجموعی طور پر سات ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ایران میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا جہاں 3375 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں 170 سے زیادہ بچے بھی شامل تھے۔ لبنان میں تقریباً 3700 افراد مارے گئے جبکہ اسرائیل میں 26 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ امریکی فوج کے 13 اہلکار بھی اس جنگ کا شکار بنے جبکہ خلیجی ممالک میں بھی متعدد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ عمان کے قریب ایک واقعے میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت بھی ریکارڈ کی گئی۔
جنگ کا سب سے بڑا اثر عالمی معیشت پر پڑا۔ اقتصادی تجزیوں کے مطابق دنیا کو سالانہ تقریباً 2.2 ٹریلین ڈالر یعنی 6117 کھرب روپے کے مساوی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی اقتصادی ترقی کی شرح کم ہو کر 2.5 فیصد تک محدود ہو گئی، جبکہ اگر مستقبل میں جنگ دوبارہ بھڑک اٹھی تو یہ نقصان 3.5 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔
امریکہ بھی اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کرنے والے ممالک میں شامل رہا۔ مجموعی طور پر امریکہ کو تقریباً 132 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ براہ راست فوجی اخراجات 29 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ خطے میں موجود 20 امریکی فوجی اڈے متاثر ہوئے۔ اس دوران 42 جنگی طیارے تباہ یا شدید نقصان کا شکار ہوئے۔ امریکی افواج نے ایک ہزار سے زیادہ ٹوماہاک میزائل اور پندرہ سو سے زائد فضائی دفاعی میزائل استعمال کیے، جن میں پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر کا بڑا حصہ بھی شامل تھا۔ ماہرین کے مطابق ان ذخائر کی بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
توانائی کی عالمی منڈی بھی اس جنگ سے بری طرح متاثر ہوئی۔ خام تیل کی قیمت ایک مرحلے پر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی صارفین کو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کی صورت میں اضافی 60 ارب ڈالر برداشت کرنا پڑے۔ کھاد کی قیمتوں میں 47 فیصد اضافہ ہوا جس کے اثرات عالمی زرعی پیداوار اور خوراک کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوئے۔
جنگ کے دوران آبنائے ہرمز، جو دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا راستہ ہے، شدید خطرات کی زد میں رہی۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا۔ بعد ازاں معاہدے کے تحت کم از کم ساٹھ دن تک اس اہم گزرگاہ کو کھلا رکھنے پر اتفاق کیا گیا، جس سے عالمی منڈیوں میں کسی حد تک استحکام پیدا ہوا۔
مشرق وسطیٰ کے ممالک کو بھی اس جنگ نے شدید معاشی نقصان پہنچایا۔ خلیجی ریاستوں کو مجموعی طور پر تقریباً 58 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور عمان کے انفراسٹرکچر، تجارت اور توانائی کے شعبے متاثر ہوئے۔ قطر کو 15 سے 60 ارب ڈالر، سعودی عرب اور اسرائیل کو 60 ارب ڈالر تک جبکہ متحدہ عرب امارات کو 35 ارب ڈالر تک نقصان پہنچنے کے تخمینے سامنے آئے۔
ایران اس جنگ کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار دیا جا رہا ہے۔ مختلف جائزوں کے مطابق ایران کے انفراسٹرکچر کو 80 ارب سے 350 ارب ڈالر تک نقصان پہنچا جبکہ تعمیر نو کی مجموعی لاگت 300 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اگرچہ جنگ بندی کے بعد ایران کو تعمیر نو کے لیے بڑے مالی پیکج کی امید ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ مکمل بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
اقتصادی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھی تو ایران کی معیشت 25 فیصد تک سکڑ سکتی ہے، جبکہ خلیجی ممالک بھی شدید مالی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے متبادل پائپ لائنوں کے ذریعے تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی برآمدات بحال کرکے عالمی منڈی کو مکمل بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
108 روزہ ایران جنگ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جدید دور کی جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات عالمی معیشت، توانائی، تجارت اور انسانی زندگی کے ہر شعبے تک پھیل جاتے ہیں۔ جنگ بندی اگرچہ ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے بغیر عالمی معیشت اور علاقائی استحکام کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
