پاکستان نے ایران امریکہ ٹوٹتے امن معاہدے کو کیسے بچایا؟

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ عبوری معاہدے کے پس منظر میں سامنے آنے والی تفصیلات نے عالمی سفارت کاری میں پاکستان کے کردار کو مزید واضح کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بظاہر ایک مختصر معاہدے کے پیچھے ہفتوں پر محیط پیچیدہ مذاکرات، خفیہ رابطے، سفارتی دباؤ اور کئی مواقع پر مکمل ناکامی کے خطرات موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق اگر آخری لمحات میں پاکستان اور قطر متحرک کردار ادا نہ کرتے تو یہ معاہدہ شاید کبھی وجود میں نہ آتا۔

مذاکرات سے وابستہ ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس پورے عمل میں ایک مرکزی ثالث کا کردار ادا کیا۔ اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس اور سچویشن روم مسلسل سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنے رہے جہاں پاکستانی حکام دن رات فریقین کے درمیان پیغامات، تجاویز اور ترامیم کا تبادلہ کراتے رہے۔ اس کے باوجود ایران امریکہ معاہدے تک پہنچنے کا سفر آسان نہیں تھا۔ ذرائع کے مطابق اپریل میں مذاکرات کے پہلے مرحلے کے بعد سب سے بڑا تنازع آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ممکنہ امریکی ناکہ بندی پر پیدا ہوا۔ بعد ازاں مئی میں اس وقت صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور پاکستان کو مبینہ طور پر "ابراہیمی معاہدے” میں شامل ہونے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی تجویز دی، جس نے مذاکراتی عمل میں نئی رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ بعض اوقات اختلافات بڑے سیاسی معاملات پر نہیں بلکہ الفاظ کے انتخاب پر ہوتے تھے۔ ذرائع کے مطابق ایک موقع پر معاہدے کے مسودے میں "وغیرہ” (etc.) اور "بشمول” (including) جیسے الفاظ کے استعمال پر تقریباً 45 منٹ تک بحث جاری رہی۔ یہ تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ ہر لفظ اور ہر جملے کو انتہائی احتیاط سے طے کیا جا رہا تھا۔ ذرائع کے بقول اس پورے عمل میں قطر نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق جون کے آغاز میں ایک قطری وفد پاکستانی ٹیم کے ساتھ تہران پہنچا اور ایرانی قیادت کے ساتھ براہ راست رابطے استوار کیے۔ قطر نے مالی ضمانتوں اور اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے ایرانی تحفظات کم کرنے میں مدد دی۔ بتایا جاتا ہے کہ قطری نمائندوں نے تہران کے متعدد خفیہ دورے کیے اور واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقاتوں کے دوران بھی معاہدے کے متن پر کام جاری رکھا۔

معاہدے کی آخری رات سب سے زیادہ ڈرامائی ثابت ہوئی۔ اتوار کی شب تقریباً 11 بجے، جب پاکستانی حکام وزیراعظم ہاؤس اور سچویشن روم میں موجود تھے، لبنان میں اسرائیلی کارروائی کے بعد مذاکرات ایک بار پھر ناکامی کے دہانے پر پہنچ گئے۔ ذرائع کے مطابق حالات لمحہ بہ لمحہ بدل رہے تھے اور دونوں فریق ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اسی نازک مرحلے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے متحرک کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق وہ پوری رات دونوں فریقوں کے درمیان رابطے اور پیغامات کی ترسیل کرتے رہے۔ مختلف تجاویز، جوابی نکات اور تحفظات ایک سے دوسرے دارالحکومت تک پہنچائے گئے، جس کے نتیجے میں تعطل کو توڑا جا سکا اور چند گھنٹوں بعد معاہدہ طے پا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی موقف میں بار بار تبدیلی اور ایران کی جانب سے تجاویز پر تاخیری ردعمل مذاکرات کے لیے مستقل چیلنج بنا رہا۔ بعض مواقع پر ایرانی جواب کئی دن بعد موصول ہوتے تھے جبکہ واشنگٹن سے آنے والے اشارے بھی مسلسل تبدیل ہو رہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ثالثوں کو بار بار نئے فارمولے تیار کرنا پڑے۔

تاہم مذاکرات میں پیش رفت اس وقت مزید تیز ہوئی جب آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ایک نمائندے نے اسلام آباد کا دورہ کیا۔ اس ملاقات کے بعد پاکستانی ٹیم اور ایرانی قیادت کے درمیان براہ راست رابطے قائم ہوئے جس سے غلط فہمیوں اور تاخیر میں کمی آئی۔

مبصرین کے بقول اگرچہ اس وقت عبوری معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، لیکن سفارتی ذرائع خبردار کر رہے ہیں کہ اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے پاس مستقل معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دن ہیں اور اس دوران ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سکیورٹی، پابندیوں کے خاتمے اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال جیسے حساس موضوعات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ مبصرین کے مطابق اس پورے عمل نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے اہم کھلاڑی کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ اگر مستقل معاہدہ بھی کامیابی سے طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے بھی ایک تاریخی کامیابی تصور کی جا سکتی ہے۔

Back to top button