جنیوا میں ہونے والی ایران، امریکہ دستخطی تقریب کیوں منسوخ ہوئی؟

ایران اور امریکہ کے درمیان طویل اور پیچیدہ مذاکرات کے بعد طے پانے والی "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کو عالمی سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس کامیابی کے ساتھ ایک اہم سوال بھی جنم لے چکا ہے: جب جنیوا میں طے شدہ معاہدے کی حتمی تقریب کو اچانک منسوخ کیوں کر دیا گیا؟

یہ سوال اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب پاکستان، ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی وفود سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے تھے، تمام انتظامات مکمل تھے اور عالمی میڈیا کی نظریں جنیوا پر مرکوز تھیں۔ تاہم عین وقت پر تقریب منسوخ کر دی گئی اور معاہدہ الیکٹرانک دستخطوں کے ذریعے مکمل کر لیا گیا۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق جنیوا اجلاس کی منسوخی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان پہلے ہی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر چکے تھے۔ ان کے مطابق جب اعلیٰ ترین سطح پر معاہدہ مکمل ہو گیا تو جنیوا میں مزید رسمی تقریب کی ضرورت باقی نہیں رہی۔تاہم سفارتی حلقوں اور مذاکرات پر نظر رکھنے والے ماہرین اس معاملے کو محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے کئی سیاسی، سکیورٹی اور سفارتی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔

عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق سب سے اہم خدشہ "اسپائلرز” یعنی ایسے عناصر تھے جو اس معاہدے کو ناکام بنانا چاہتے تھے۔ چونکہ معاہدے کی تفصیلات میڈیا اور سفارتی حلقوں میں گردش کرنا شروع ہو چکی تھیں، اس لیے ثالثی کرنے والے ممالک اور فریقین کو خدشہ تھا کہ کوئی واقعہ یا اشتعال انگیزی پوری سفارتی کوشش کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی تناظر میں لبنان پر اسرائیلی حملوں نے بھی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ جب اسرائیل لبنان میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے تو ایسے ماحول میں امریکی حکام کے ساتھ کھلے عام سفارتی تقریب میں شریک ہونا داخلی سطح پر سیاسی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایرانی قیادت اپنے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین اور قومی سوگ کی تیاریوں میں مصروف تھی۔

سفارتی مبصرین کے مطابق ایران کے لیے یہ ایک انتہائی حساس لمحہ تھا۔ ایک جانب وہ امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل کو جاری رکھنا چاہتا تھا اور دوسری طرف داخلی سطح پر یہ تاثر بھی نہیں دینا چاہتا تھا کہ وہ حالیہ کشیدگی کے فوراً بعد واشنگٹن کے ساتھ جشن منانے یا سیاسی مفاہمت کا منظر پیش کر رہا ہے۔

بعض تجزیہ کار اس پورے عمل کو سفارتی حکمت عملی کا حصہ بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق مذاکراتی ٹیموں نے ابتدا ہی سے دو متبادل منصوبے تیار کر رکھے تھے۔ ایک منصوبہ جنیوا میں باقاعدہ تقریب کا تھا جبکہ دوسرا منصوبہ الیکٹرانک دستخطوں کے ذریعے معاہدہ مکمل کرنے کا تھا۔ جب زمینی حالات اور سکیورٹی خدشات نے جنیوا تقریب کو مشکل بنا دیا تو فوری طور پر پلان بی نافذ کر دیا گیا۔

سابق سفارت کار جوہر سلیم کے مطابق اصل کامیابی معاہدے پر دستخط کروانا تھی، نہ کہ تقریب کا انعقاد۔ ان کے خیال میں جدید سفارت کاری میں آن لائن یا الیکٹرانک دستخط ایک معمول کی بات بن چکے ہیں اور جب دونوں صدور کی سطح پر منظوری اور دستخط حاصل ہو جائیں تو بعد کی رسمی تقریبات کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔

جنیوا میں موجود سینئر صحافی عامر الیاس رانا کے مطابق صورت حال آخری لمحات تک غیر یقینی رہی۔ ریزورٹ میں پاکستانی، ایرانی اور امریکی ٹیمیں موجود تھیں، سکیورٹی انتظامات مکمل تھے اور تکنیکی مذاکرات کے لیے ماحول تیار کیا جا چکا تھا۔ تاہم لبنان میں بدلتی ہوئی صورتحال اور واشنگٹن و تہران کے درمیان نئی سفارتی ترجیحات نے تقریب کے انعقاد کے امکانات کم کر دیے۔

تاہم ذرائع کے مطابق جنیوا کا مقام مکمل طور پر ترک نہیں کیا گیا بلکہ امکان موجود ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ وہیں یا کسی اور یورپی مقام پر شروع ہو جائیں۔ کیونکہ موجودہ معاہدہ صرف ایک عبوری فریم ورک ہے اور دونوں فریقوں کو آئندہ 60 دنوں کے اندر مستقل اور جامع معاہدے کی طرف بڑھنا ہے۔ اس تمام صورتحال سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ جنیوا اجلاس کی منسوخی دراصل معاہدے کی ناکامی نہیں بلکہ بدلتے ہوئے سفارتی حالات کے مطابق اختیار کی گئی ایک متبادل حکمت عملی تھی۔ اصل کامیابی یہ تھی کہ مذاکراتی عمل برقرار رہا، معاہدہ طے پایا اور پاکستان سمیت ثالثی کرنے والے ممالک اپنی سفارتی کوششوں میں کامیاب رہے۔اب تمام نظریں آئندہ 60 دنوں پر مرکوز ہیں، کیونکہ اصل امتحان مستقل معاہدے، ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام سے جڑا ہوا ہے۔

Back to top button