مریم کیلئے لوئی ویٹون کا گفٹ بیگ سوشل میڈیا پر زیر بحث

مسلم لیگی رہنما مریم نواز کی انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور نائب چیئرمین شنجی یاناگی سے ملاقات کی ایک تصویر میں دکھائی دینے والا کوئی ویٹون ’شاپر بیگ‘ سوشل میڈیا پر چہ مگوئیوں کا موضوع بنا ہوا ہے جو مریم نواز کو بطور تحفہ پیش کیا گیا، ہوا کچھ یوں کہ مسلم لیگ ن کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر مریم نواز کی انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ کے عہدیداروں سے جاتی امرا میں ملاقات کی تصویر پارٹی اکاونٹ سے شیئر کی گئی جس میں ایک ٹویوٹا کے اہلکار نے ’لوئی ویٹون‘ کا بیگ اُٹھایا ہوا ہے۔ واضح رہے لوئی ویٹون دنیا۔کا سب سے مہنگا فرانسیسی فیشن برانڈ ہے جس کا ہیڈکورٹر پیرس میں واقع ہے۔
مسلم لیگ ن کے حامی یا کارکن اس تصویر پر مکمل خاموش ہیں جبکہ دوسری جانب ٹوئٹر صارفین کی جانب سے ملاقات کے دوران اس مہنگی برانڈ کے بیگ کو لے کر مسلم لیگ ن، مریم نواز اور ٹویوٹا موٹرز پر تنقید اور قیاس ساتھ ساتھ جاری ہے، ایک صارف حاتم سلمان نصرت نے اندازہ لگا کر کہا کہ کیا اگر اس میں فروزن حلیم کے دو ڈبے ہوں؟ ٹوئٹر صارف عمار شفیق نے ٹویوٹا موٹرز کو ٹیگ کر کے تحریر کیا ’اپنے سی ای او کا نوٹس لیں۔ وہ پاکستان میں ایک ایسی با اثر سیاسی خاتون کو رشوت دے رہے ہیں جو حکومت پر اچھا خاصا اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’یہ رشوت ہے اور آپ کو اس کا لازمی طور پر نوٹس لینا چاہیے۔‘
عزیز نامی ٹوئٹر صارف نے مریم نواز کی پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے ردعمل سے متعلق ٹویٹ کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے تحریر کیا ’میاں صاحب اس فیشن برانڈ کے بیگ کو دیکھ کر اتنے ناراض ہوئے کہ سی ای او صاحب بیگ میرے پاس ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ متوقع ٹویٹ۔‘ سازش نہیں مداخلت نامی ٹویٹر اکاونٹ سے تحریر کیا گیا: ’اب کام ہو جائے گا۔
ٹوئٹر صارف یسریٰ بتول نے مسلم لیگ ن کے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ آپ کے پاس تو زہر کھانے کے پیسے نہیں تھے، لوئی ویٹون‘ کے بیگ لے کر کیا فائدہ پہنچائیں گی آپ؟‘ رانا اکرام نے اپنی ٹویٹ میں ٹویوٹا پر تنقید کرتے ہوئے تحریر کیا کہ ٹویوٹا موٹرز کو وزیراعظم شہباز شریف کی بھتیجی سے ملاقات کرنے پر شرم آنی چاہئے۔ انہوں نے اس حرکت سے اپنی ساکھ کھو دی ہے۔
ٹوئٹر صارف منصور نے چند نکات میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’یہ تو جوتوں کا ڈبہ لگتا ہے۔ میں ٹویوٹا کمپنی کی جانب سے حکومتی عہدیداروں کو دیے جانے والے تحائف سے متعلق پالیسی جاننا چاہتا ہوں تاحال مسلم لیگ ن اور ٹویوٹا موٹرز کمپنی کی جانب سے اس صورت حال پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔
یاد رہے کہ مریم نواز نے انڈس موٹرز کمپنی لمیٹڈ کے سی ای او علی اصغر جمالی اور نائب صدر شنجی یانگی سے جاتی عمرہ میں ملاقات کی تھی جو اب سوشل میڈیا ہر موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے۔اس ملاقات کی تصویر مسلم لیگ (ن) کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شام سوا چھ بجے ٹویٹ کی گئی۔ تصویر جاتی عمرہ میں شریف خاندان کے گھر کے ڈرائنگ روم میں بنائی گئی ہے۔
اس تصویر میں مریم نواز، علی اصغر جمالی اور شنجی یانگی ایک ساتھ کھڑے گفتگو کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور انڈس موٹرز کے سی ای او کے ہاتھ میں لوئی ویتون کا پیپر بیگ بھی نظر آ رہا ہے۔سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد اس وقت اس ملاقات سے زیادہ لوئی ویٹون کے بیگ میں دلچسپی لے رہی ہے۔
عائشہ اعجاز خان نے ایک ٹویٹ میں لکھا ’اب آپ کو وضاحت کرنا پڑے گی کہ اس تصویر میں لوئی ویٹون کا بیگ کیا کر رہا ہے؟ قاسم شاہ نے لکھا انڈس موٹرز، اس بہترین میٹنگ پر آپکو سراہنا چاہئے، یہ تصویر وائرل ہو جائے گی اور آپ کی سیلز میں اضافہ ہوگا، اس ملاقات پر پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے لکھا کیا ٹویوٹا انڈس موٹرز کی کوئی اخلاقیات نہیں؟ ایک سزا یافتہ سے گفٹ کے ساتھ ملاقات؟‘ داور بٹ نے مسلم لیگ (ن) کی سوشل میڈیا ٹیم پر طنز کرتے ہوئے لکھا پی ٹی آئی والے پریشان نہ ہوں، نون کی سوشل میڈیا ٹیم آپ کو الیکشن جتوائی گی۔ ان پر مکمل بھروسہ رکھیں۔ ایک صارف نے لکھا اچھا مجھے شک ہے یہ لیگی سوشل میڈیا ٹیم شاید پی ٹی آئی کے لیے کام کر رہی ہے۔
