ایران نے امریکہ کا سپر پاور ہونے کا دعوی کیسے ادھیڑا؟

 

 

 

ایران پر حملہ آور ہونے والا امریکہ نہ صرف ویتنام اور افغانستان کی طرح ایک اور جنگ چھیڑ کر ناکامی کا شکار ہوتا دکھائی دیتا ہے بلکہ اس تنازعے نے دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کے امریکی دعوے کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ دوسری جانب ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر حکمت عملی، صبر اور استقامت موجود ہو تو ایک سیانی چونٹی بھی طاقتور اور دیو ہیکل ہاتھی جیسے دشمن کو پچھاڑ سکتی ہے۔

 

امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد دونوں ممالک اگرچہ فتح کے دعوے کر رہے ہیں، تاہم معاہدے کی شقوں اور جنگ کے نتائج کا جائزہ لینے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ تہران اپنی بقا، خودمختاری اور مذاکراتی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے اس بحران سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط حیثیت کے ساتھ ابھرا ہے جبکہ واشنگٹن کو اپنے کئی اہم مطالبات پس پشت ڈال کر سمجھوتے کی راہ اختیار کرنا پڑی۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت نے مشرق وسطیٰ میں 100 روز سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے خطرناک تنازعے کو وقتی طور پر روک دیا ہے، تاہم اس معاہدے کے بعد دنیا بھر میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا امریکہ نے ویتنام اور افغانستان کے بعد ایک اور جنگ میں اپنے سیاسی اہداف حاصل کیے بغیر پسپائی اختیار کی ہے یا نہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق جنگ کے آغاز میں واشنگٹن نے ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیتوں اور خطے میں اس کے اثرورسوخ کو محدود کرنے کے بلند بانگ دعوے کیے تھے، مگر جنگ کے اختتام پر سامنے آنے والی مفاہمتی یادداشت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کو اپنے کئی بنیادی مطالبات مؤخر یا ترک کرنا پڑے جبکہ ایران نہ صرف اپنی ریاستی ساخت، سیاسی نظام اور قیادت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ اسے پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں تک رسائی اور معاشی بحالی کے امکانات بھی حاصل ہو گئے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تنازعے نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا کہ عسکری طاقت ہمیشہ سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ ایران نے دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی طاقت کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مزاحمت کی حکمت عملی اپنائی اور بالآخر ایسا معاہدہ حاصل کیا جسے تہران اپنے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال اس مثال سے مشابہ ہے کہ اگر چونٹی سیانی ہو تو وہ طاقتور اور جسیم ہاتھی جیسے دشمن کو بھی پریشان اور بے بس کر سکتی ہے۔

معاہدے کے بعد دونوں ممالک اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں، تاہم معاہدے کی شقوں کا جائزہ لینے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کو حاصل ہونے والے فوائد امریکہ کی جانب سے عائد ذمہ داریوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔

 

معاہدے کے تحت امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی لائے گا، منجمد ایرانی اثاثوں تک رسائی فراہم کرے گا اور ایران کی تعمیر نو و معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر مالیت کے منصوبوں کی راہ ہموار کرے گا۔ اس کے برعکس ایران نے بنیادی طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی، جوہری ہتھیار نہ بنانے کے مؤقف کی تجدید اور جوہری پروگرام کے مستقبل پر مذاکرات جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

 

تہران کے لیے سب سے اہم کامیابی یہ سمجھی جا رہی ہے کہ امریکہ ایران سے ہتھیار ڈالنے یا نظام حکومت کی تبدیلی کا اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی میزائل پروگرام کو تباہ کرنے اور خطے میں ایران کے اتحادی گروہوں کے اثرورسوخ کو ختم کرنے کے دعوے کیے گئے تھے، لیکن حتمی مفاہمتی یادداشت میں ان نکات کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں۔

 

ایرانی قیادت اب اس معاہدے کو اپنی عوام کے سامنے اس دلیل کے ساتھ پیش کر رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نہ صرف قائم رہی بلکہ شدید فوجی اور معاشی دباؤ کے باوجود امریکہ کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور کر دیا گیا۔ ایرانی حکومت کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ کے آغاز میں پیش کیے جانے والے امریکی اہداف کو دیکھا جائے تو موجودہ معاہدہ درحقیقت ایران کی مزاحمت کی کامیابی ہے۔

 

دوسری جانب واشنگٹن میں بھی اس معاہدے پر شدید بحث جاری ہے۔ صدر ٹرمپ اسے امریکہ کی "بڑی کامیابی” قرار دے رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عہد کے ذریعے امریکہ کا بنیادی مقصد پورا کر دیا ہے۔ تاہم ریپبلکن پارٹی کے متعدد رہنما اور قدامت پسند مبصرین اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔

امریکی سینیٹر ٹیڈ کروز سمیت کئی قدامت پسند شخصیات کا کہنا ہے کہ ایران کو معاشی فوائد دینا اور اس کے خلاف پابندیوں میں نرمی کرنا واشنگٹن کی کمزوری کا اظہار ہے۔ معروف مبصر ٹکر کارلسن تو اس معاہدے کو امریکہ کے لیے "ذلت آمیز شکست” تک قرار دے چکے ہیں۔

 

سیاسی ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور امریکی عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی نے بھی وائٹ ہاؤس پر دباؤ بڑھایا۔ سرویز میں یہ بات سامنے آئی کہ امریکی عوام ایک طویل اور مہنگی جنگ کے حق میں نہیں تھے، جس کے باعث ٹرمپ انتظامیہ کے لیے جلد از جلد کسی سمجھوتے تک پہنچنا ناگزیر بنتا جا رہا تھا۔

اگرچہ موجودہ معاہدے نے فوری طور پر جنگ روک دی ہے، لیکن اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر، جوہری پروگرام کے مستقبل، تباہ شدہ جوہری تنصیبات کی بحالی اور پابندیوں کے مکمل خاتمے جیسے حساس معاملات آئندہ 60 روز کے مذاکرات میں زیر بحث آئیں گے۔

جنیوا میں ہونے والی ایران، امریکہ دستخطی تقریب کیوں منسوخ ہوئی؟

ماہرین کے مطابق ایران پہلے مرحلے میں توقعات سے کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن کے ساتھ ابھرا ہے، جبکہ امریکہ کو اپنے کئی ابتدائی اہداف سے دستبردار ہونا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے اس تنازعے کے اختتام پر ایک نئی بحث جنم لے چکی ہے کہ آیا دنیا کی واحد سپر پاور سمجھے جانے والے امریکہ کی قوت اور اثرورسوخ کا تصور پہلے جیسا برقرار رہ سکا ہے یا نہیں۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے اپنی بقا، خودمختاری اور مذاکراتی حیثیت برقرار رکھ کر ایک غیر متوقع کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ واشنگٹن کو ایسے سمجھوتے پر آمادہ ہونا پڑا ہے جسے اس کے اپنے ناقدین بھی مکمل فتح قرار دینے سے گریز کر رہے ہیں۔

Back to top button