بجٹ میں سمت واضح کردی، معاشی شرح نمو بڑھے گی : وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں اپنی سمت واضح کردی، یہ معاشی شرح نمو بڑھانے والا بجٹ ہے،ترقی ہوگی،ریلیف ملے گا، ڈیجیٹائزیشن اور اے آئی سے صوابدیدی اختیارات ختم کر دیے،فنانس بل میں مزید تجاویز شامل کرنے کا ارادہ ہے۔
قومی اسمبلی کے بجٹ سے متعلق اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوان کو بتایاکہ بجٹ میں اراکین اسمبلی کی تجاویز شامل کی گئیں،اراکان اسمبلی نے بجٹ دستاویزات سے متعلق تحریک استحقاق پیش کی،افسوس کی بات ہے بجٹ کے معاملے پر تحریک استحقاق پیش کی جاتی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہاکہ تحریک استحقاق میں کہاگیا کہ بجٹ دستاویزات میں تضاد ہے،بجٹ دستاویزات کے حوالے سے الزامات غلط تشریح کی وجہ سے لگائےگئے، جی ڈی پی سمیت دیگر اعداد و شمار نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کیےگئے تھے،اس میں صوبے بھی شامل ہوتے ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاکہ حکومت نے 2 سال کی مدت میں 14 ارب ڈالر کے اضافی محصولات حاصل کرلیے ہیں،وزیر اعظم کی ذاتی توجہ اور لگن سے یہ ممکن ہوا،گزشتہ 2 سال میں ایف بی آر کی تنظیم نو پر توجہ مرکوز رکھی، مالی وسائل کی فراہمی کو اولین ترجیح دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے زراعت اور کسانوں کےلیے ریلیف دیا،ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا،کسانوں کو اربوں روپے کے بلاسود قرض ادا کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نے بجٹ میں اپنی سمت واضح کر دی، فنانس بل 2026 میں متعدد تجاویز کو شامل کرنے کا ارادہ ہے،اتحادی حکومت میں شامل تمام جماعتوں کے قائدین کا کردار اہم رہا،ہمیں ایوان کے اندر اور باہر بہت واضح فیڈ بیک ملی،یہ مثبت اور پرو گروتھ بجٹ ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایاکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کےلیے ریٹیلرز کو نظام کا حصہ بنایا ہے،ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کی ہیں،تنخواہ داروں، چھوٹے کاروباری طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا ہے،حکومت کا بنیادی ہدف ایکسپورٹ لیڈ گروتھ ہے۔
کیا پاک ایران گیس پائپ لائن پراجیکٹ کی راہ ہموار ہو گئی؟
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعظم نےگزشتہ بجٹ میں ہی سمت واضح کردی جس کے باعث معاشی استحکام آیا،ہماری صنعتیں رواں دواں ہیں اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہے،ہمارا برآمدی شعبہ بہتری دکھا رہا ہے،آئی ٹی ایکسپورٹ میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کی ہیں،ٹیکس گزار اور ٹیکس افسر کے درمیان تعلق ختم ہوگا اور فیس لیس سسٹم اس کی جگہ لےگا، ایف بی آر کی کارکردگی کے بارے میں تنقید کی گئی اور مثبت تنقید خوش آئند ہے۔
