کیا پاک ایران گیس پائپ لائن پراجیکٹ کی راہ ہموار ہو گئی؟

ایران اور امریکہ کے درمیان کامیاب سفارتی ثالثی اور امن معاہدے کے بعد پاکستان میں اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ برسوں سے تعطل کا شکار ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کے لیے درکار امریکی پابندیوں کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اگر یہ پیش رفت عملی شکل اختیار کرتی ہے تو پاکستان نہ صرف اپنے توانائی بحران پر قابو پانے کے قابل ہو سکتا ہے بلکہ اربوں ڈالر کے ممکنہ جرمانے سے بھی بچ سکتا ہے۔
اسلام آباد میں باخبر سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی بحالی اور حالیہ معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کے لیے ایک نیا سفارتی موقع پیدا ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان امید کر رہا ہے کہ خطے میں امن کے قیام اور دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت میں اس کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے واشنگٹن ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے اپنی سخت پالیسی پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں محض سفارتی کامیابیوں سے زیادہ اہمیت ان کے معاشی ثمرات کو حاصل ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کی کوشش ہوگی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی نئی فضا کو استعمال کرتے ہوئے اپنے سب سے اہم توانائی منصوبوں میں سے ایک کی تکمیل کے لیے راہ ہموار کرے۔
ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو ماضی میں ’’امن پائپ لائن‘‘ بھی کہا جاتا رہا ہے۔ یہ منصوبہ 2011 میں اس وقت کے صدر آصف زرداری کے دور میں شروع کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ سے پاکستان کو قدرتی گیس فراہم کرنا تھا تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے اپنی اپنی حدود میں پائپ لائن بچھانے کا کام شروع کیا، تاہم ایران نے اپنے حصے کی پائپ لائن مکمل کر لی جبکہ پاکستان مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے حصے کی تعمیر مکمل نہ کر سکا۔
ماہرین کے مطابق اس تعطل کی سب سے بڑی وجہ ایران پر عائد امریکی اور مغربی پابندیاں تھیں۔ پاکستان کو خدشہ تھا کہ اگر اس نے منصوبے پر مکمل عملدرآمد کیا تو اسے مالیاتی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چونکہ پاکستان کی معیشت عالمی مالیاتی اداروں، بین الاقوامی بینکنگ نظام اور مغربی ممالک کے ساتھ گہرے معاشی روابط رکھتی ہے، اس لیے مختلف حکومتیں اس منصوبے پر حتمی پیش رفت سے گریز کرتی رہیں۔
دوسری جانب پاکستان کو منصوبہ مکمل نہ کرنے کے باعث ایک بڑے قانونی اور مالیاتی خطرے کا بھی سامنا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ایران متعدد مواقع پر معاہدے کی شرائط کے تحت پاکستان کے خلاف ہرجانے کا مطالبہ کر چکا ہے اور اندازہ ہے کہ یہ جرمانہ 18 ارب ڈالرز تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں پالیسی ساز حلقے حالیہ علاقائی سفارتی تبدیلیوں کو ایک اہم موقع قرار دے رہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے حوالے سے اپنی پابندیوں میں نرمی کرتا ہے اور پاکستان کو منصوبہ مکمل کرنے کی اجازت مل جاتی ہے تو اس کے ملکی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو نسبتاً سستی قدرتی گیس کی فراہمی ممکن ہو گی، جس سے بجلی کی پیداوار اور صنعتی سرگرمیوں کے اخراجات میں کمی آسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کی درآمدی توانائی پر انحصار بھی کم ہو سکتا ہے۔
اس گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل میں مالیاتی مشکلات بھی ایک بڑی رکاوٹ رہی ہیں۔ پاکستان کو اپنے حصے کی پائپ لائن بچھانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار تھی، جبکہ ملک پہلے ہی مہنگی درآمدی ایل این جی اور دیگر توانائی ذرائع پر انحصار بڑھا چکا تھا۔ محدود مالی وسائل اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ نے بھی اس منصوبے کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ سیکیورٹی خدشات کو بھی منصوبے میں تاخیر کی ایک اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ مجوزہ پائپ لائن کا بڑا حصہ بلوچستان سے گزرنا تھا، جہاں ماضی میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے واقعات نے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے خطرات پیدا کیے۔ ماہرین کے مطابق اگر موجودہ علاقائی امن کا ماحول برقرار رہتا ہے تو ان خدشات میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
ادھر اقتصادی اور توانائی ماہرین کا خیال ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے اثرات صرف گیس پائپ لائن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستوں پر تناؤ میں کمی آنے سے عالمی تیل سپلائی زیادہ مستحکم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کے لیے تیل کی قیمتوں میں کمی ایک بڑی معاشی سہولت ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کم درآمدی بل، مہنگائی میں کمی، روپے پر دباؤ میں نرمی اور زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام جیسے فوائد سامنے آ سکتے ہیں۔ یہ صورتحال حکومت کو بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ سے نمٹنے اور معاشی استحکام کی کوششوں میں بھی مدد فراہم کر سکتی ہے۔
پاکستان نے ایران امریکہ ٹوٹتے امن معاہدے کو کیسے بچایا؟
سفارتی حلقوں کے مطابق اگر خطے میں امن کی موجودہ فضا برقرار رہتی ہے تو پاکستان عالمی مالیاتی اداروں، دوست ممالک اور سرمایہ کاروں کے ساتھ زیادہ مضبوط پوزیشن میں مذاکرات کر سکے گا۔ اس سے نہ صرف براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات بڑھیں گے بلکہ پاکستان کی جغرافیائی اور سفارتی اہمیت میں اضافے کے باعث نئے اقتصادی مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ معاہدہ پائیدار ثابت ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے سب سے بڑا عملی فائدہ ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ یہی وہ ’’کیش ویلیو‘‘ ہے جسے اسلام آباد اپنی سفارتی کامیابی کا حقیقی معاشی ثمر سمجھ رہا ہے، کیونکہ اس سے ایک طرف توانائی بحران میں کمی آسکتی ہے اور دوسری طرف اربوں ڈالر کے ممکنہ جرمانے کا خطرہ بھی ٹل سکتا ہے۔
