علیم خان کا سیاست چھوڑ کر میڈیا ٹائیکون بننے کا فیصلہ

تحریک انصاف سے وابستہ پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعلیم خان کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے سیاست سے علیحدگی اختیار کر کے میڈیا انڈسٹری میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کا حالیہ استعفیٰ بھی اسی منصوبے کا حصہ تھا۔ خیال رہے کہ علیم خان نے پچھلے دنوں اپنا استعفی وزیراعظم عمران خان کو بھجوا دیا تھا جسے ابھی تک منظور نہیں کیا گیا۔ علیم خان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ سیاست چھوڑ کر میڈیا میں آنے کا ذہن بنا چکے ہیں اور اسی لیے انہوں نے معروف ٹی وی چینل سماء خرید لیا ہے۔
پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پیمرا کے بورڈ ارکان نے 22 ستمبر کو اپنے اجلاس میں سما نیوز کو علیم خان کی کمپنی اور ان کی بیٹی کی ملکیت میں دینے کی منظوری دے دی تھی حالانکہ ایک پیمرا رکن نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ اس چینل کے ذمے کروڑوں کے واجبات باقی ہیں اور پیمرا قوانین 2009 کے مطابق کسی بھی چینل کے سو فیصد شیئرز یا ملکیت کی منتقلی تب تک نہیں ہو سکتی جب تک اس کے واجبات ادا نہیں کر دیے جاتے۔ چنانچہ پیمرا کے 11 رکنی بورڈ کی ایک رکن فرح عظیم شاہ نے سما ٹی وی علیم خان کو فروخت کرنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اختلافی نوٹ دیا۔ یاد رہے کہ فرح عظیم شاہ بلوچستان سے پیمرا کی رکن ہیں۔
سما نیوز کی فروخت بارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی بعض اہم شخصیات مبینہ طور پر سرکاری افسران پر دباؤ ڈال کر اس سودے کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی تھیں۔ علیم خان کی سما ٹی وی کو خریدنے کی خبر رواں برس ہی سامنے آئی تھی لیکن اس کی ملکیت سے متعلق پیمرا سے منظوری ہونی باقی تھی۔ اس چینل کی ملکیت علیم خان کی ریئل اسٹیٹ کمپنی پارک ویو لمیٹڈ اور ان کی بیٹی کے نام ہے۔ علیم خان کے خریدے گئے چینل سما ٹی وی کی سالانہ لائسنس فیس اور سالانہ ایڈورٹیزمنٹ ریونیو کی مد میں کروڑوں روپے کے واجبات باقی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ پیمرا پر ان واجبات کی ادائیگی کے بغیر ہی اس چینل کی ملکیت اور شیئرز کی منتقلی کے لیے وفاقی وزرا اور حکومتی شخصیات کے ذریعے چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پیمرا قوانین 2009 کے مطابق کسی بھی چینل کے سو فیصد شیئرز یا ملکیت کی منتقلی تب تک نہیں ہو سکتی جب تک اس کے تمام واجبات ادا نہیں کر دیے جاتے۔ بی بی سی کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری بھی مبینہ طور پر چیئرمین پیمرا پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ سما ٹی وی کے واجبات کی ادائیگی کے بنا ہی اس کی ملکیت علیم خان کی کمپنی اور بیٹی کے نام منتقل کر دیں۔ تاہم فواد نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
پیمرا کے اس متنازعہ فیصلے کے خلاف بلوچستان سے پیمرا کی رکن فرح عظیم شاہ نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا کہ پیمرا کو کم از کم بینک گارنٹی لینی چاہیے تھی کہ یہ پیسے ادا کیے جائیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے چینل مالکان دے حلف لینے کی سفارش بھی کی تھی کہ اس ٹی وی کا 15 سالہ لائسنس جو کچھ ہی مہینوں میں ختم ہونے والا ہے، اس کی دوبارہ تجدید کے لیے رولز کی پاسداری کی جائے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ لائسنس کی تجدید کے لیے چھ ماہ قبل درخواست دی جاتی ہے اور اس کیس میں آخری سال کے بھی کئی ماہ گزر چکے ہیں۔
لہذا پیمرا نے جو کچھ بھی کیا، غیر قانونی کیا اور دباؤ کے تحت کیا۔ فرح عظیم شاہ نے کہا علیم خان کی کمپنی پارک ویو لمیٹڈ جس کے نام یہ چینل اب کیا جا رہا ہے، اس پر پراپرٹی سے متعلق ایک مقدمہ تھا اور اسلام آباد ہائی کورٹ اس کے خلاف فیصلہ دے چکی ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اس کے بعد یہ معاملہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بھی بھیجا گیا اور اب تک نیب میں زیر التوا ہے۔ فرح شاہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں یہ بھی لکھا کہ پارک ویو لمیٹڈ کے بارے میں پہپے وزارتِ قانون اور وزارتِ داخلہ سے کلیئرنس لی جائے تاکہ پتا چلے کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ علیم خان پہلے بھی ویلیو ٹی وی کے بورڈ آف گورنرز میں ہیں جو اب چینل 24 بن چکا ہے اور یہ عہدہ اُن کے اپنے چینل کی ملکیت کے حساب سے بھی متصادم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اُن کے اٹھائے گئے نکات پر حکام کی جانب سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا تو اُنھوں نے اپنا اختلافی نوٹ لکھ کر پیش کر دیا۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں چیئرمین پیمرا محمد سلیم کو وفاقی وزیر اطلاعات اور دیگر حکومتی شخصیات نے متعدد بار ملاقات کے لیے بلایا اور مبیبنہ طور پر سما ٹی وی کے ذمے واجبات کی ادائیگی کے بغیر ہی ملکیتی شیئرز منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ دستاویزات کے مطابق سما ٹی وی کے ذمے 2017 سے 2020 تک کی سالانہ لائسنس فیس کی مد میں تقریباً ساڑھے 18 کروڑ روپے واجب الادا ہیں جبکہ سالانہ گروس ایڈورٹیزمنٹ ریونیو کی مد میں 2007 میں چینل کے آغاز سے اب تک پیمرا قوانین کے تحت پانچ فیصد سالانہ کی مد میں بھی کروڑوں روپے واجب الادا ہیں۔ پیمرا ذرائع کے مطابق اگر سما ٹی وی اپنے سالانہ گروس ایڈورٹیزمنٹ ریونیو کی فنانشل آڈٹ رپورٹس مہیا کرے تو سالانہ پانچ فیصد سے ساڑھے سات فیصد کے حساب سے یہ رقم 70 کروڑ روپے کے لگ بھگ بنتی ہے۔ رکن پیمرا فرح عظیم شاہ نے بھی اپنے اختلافی نوٹ میں اس رقم کا ذکر کیا ہے اور سما چینل کے ذمے اس رقم کی تصدیق بھی کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پیمرا کی جانب سے اس غیر قانونی کاروائی پر کوئی عدالت یا ادارہ نوٹس لیتا ہے یا نہیں۔

Back to top button