صحافی کے اغوا کار ہائبرڈ نظام پر تنقید سے نالاں تھے

کراچی سے ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے سینیئر صحافی وارث رضا نے گھر واپس پہنچنے کے بعد بتایا ہے کہ ان کے اغوا کاروں کو انکے اخباری کالموں میں ہائبرڈ نظام حکومت کی اصطلاح استعمال کرنے پر اعتراض تھا لہذا انہیں وارننگ دینے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ تاہم وارث رضا کو اب تک معلوم نہیں کہ انہیں آئی ایس آئی نے اغوا کیا تھا یا کہ ایف آئی اے نے اٹھایا تھا۔
یاد رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے آئی ایس آئی ریاست اور اسکی لائی ہوئی حکومت پر تنقید کرنے والے سر پھرے صحافیوں کو خود سبق سکھانے کی بجائے ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ کو استعمال کرتی ہے۔ لاہور کراچی یا اسلام آباد میں کسی بھی غدار نما ملک دشمن صحافی کو اغوا یا گرفتار کرنا ہو تو ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ بابر بخت قریشی آگے بڑھ کر اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں لاہور سے دو سینئر صحافیوں عامر میر اور عمران شفقت کے اغواء کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو حکم دیا تھا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر بابر بخت قریشی کے خلاف سخت کاروائی کرکے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔ تاہم ایجنسیوں سےمظبوط تعلق کے باعث بابر بخت قریشی کے خلاف ابھی تک کوئی ایکشن نہیں لیا جا سکا۔ شاید اسی وجہ سے مزید دیدہ دلیری دکھاتے ہوئے بابر بخت نے حال ہی میں سٹی فورٹی ٹو پر انٹرویو دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، وہ قانون کے عین مطابق ہے اور اگر صحافیوں کو گرفتاریوں پر اعتراض ہے تو وہ عدالت کے ذریعے پاکستان الیکٹرونک کرائمز ایکٹ یعنی پیکا کا قانون ختم کروا دیں۔ تاہم اپنے اس انٹرویو کے دو روز بعد ہی بابر بخت کی سائبر کرائم ونگ نے نہایت بے شرمی سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ابصار عالم کے خلاف اسی پیکا قانون کے تحت دائر کردہ غداری کا کیس غلط تسلیم کرتے ہوئے واپس لے لیا اور معافی بھی مانگ لی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت صحافیوں کی ایف آئی اے سائب کرائم ونگ کے ہاتھوں ہراسانی کے کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ مزید کیا ایکشن لیتی ہے۔
صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق اس کیس کی اگلی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں 27 ستمبر 2021 کو ہونے جا رہی ہے۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ اس کارروائی سے پہلے عدالتی احکامات کی روشنی میں ڈی جی ایف آئی اے اپنے ماتحت افسر بابر بخت قریشی کے خلاف کوئی ایکشن لیتے ہیں یا نہیں۔
دوسری جانب ایجنسیوں کی حراست سے واپس آنے والے کراچی کے سینئر صحافی وارث رضا نے بتایا ہے کہ ان کے اغوا کاروں کو ان کی تحریروں میں اسٹیبلشمنٹ مخالف مواد پر اعتراض تھا حالانکہ ان کا کالم ایکسپریس اخبار میں چھپتا ہے جہاں ایک حد تک ہی ریاست اور حکومت پر تنقید کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اُنھیں نقاب پوش اغوا کاروں نے متنبہ کیا کہ وہ لکھتے ہوئے احتیاط کریں، لیکن اُن کے مطابق اُنھوں نے واضح کر دیا تھا کہ وہ اظہار رائے کی آزادی سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ واضح رہے کہ وارث رضا کو 22 ستمبر کو کراچی میں گلشنِ اقبال سے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ وارث رضا کا کہنا ہے کہ انھیں جمہوریت کی حمایت اور ہائبرڈ نظام کی مخالفت کرنے پر اٹھایا گیا۔ اس واقعے کے خلاف صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے 23 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کی کال دی تھے جس کے بعد وارث رضا کو رہا کر دیا گیا۔ 14 گھنٹے طویل گمشدگی کے بعد گھر واپسی پر اُنھوں نے بتایا کہ اُنھیں کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جہاں ان کی آنکھوں پر مسلسل پٹی بندھی ہوئی تھی۔ وسرث۔کے مطابق اغوا کاروں نے اُنہیں بتایا کہ وہ رینجرز والے نہیں بلکہ کسی ایجنسی والے ہیں تاہم یہ نہیں بتایا کہ وہ کس ادارے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وارث کے مطابق اُنھیں کہا گیا کہ آپ ریاست کے خلاف لکھتے ہیں، جس کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ وہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کے تحت حاصل حق کے مطابق لکھتے ہیں، جس پر ان سے پوچھا گیا کہ یہ آرٹیکل کیا ہے اور اُنھوں نے بتایا کہ یہ تقریر اور تحریر کی آزادی دیتا ہے۔ وارث رضا کے مطابق اُنھیں فیس بک کی پوسٹس کا حوالہ دیا گیا، ایکسپریس میں لکھا گیا کالم بھی سامنے رکھا گیا اور پوچھا گیا کہ آپ ہائبرڈ نظام کے خلاف ہیں، کیا یہ واقعی اتنا خراب ہے جتنا آپ نے لکھا ہے؟‘ وارث رضا کے مطابق اُنھوں نے جواب دیا کہ یہ جمہوری اقدار اور حقیقی جموریت سے متصادم ہے۔ اسکے بعد مجھے کہا گیا کہ آپ ایماندار انسان ہیں، خیال کیا کریں، آپ پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کے خلاف کیوں لکھتے ہیں۔ میں نے اُنھیں کہا کہ اپنے حق ازادی کے لیے لڑنا ضروری ہے اسلیے مخالفت کرتا ہوں لیکن میں ریاست کے خلاف نہیں ہوں۔ وارث کے۔مطابق انہیں کہا گیا کہ احتیاط کریں، آئندہ ایسا نہیں کیجیے گا۔ میں نے واضح کیا کہ میں اظہار رائے کی آزادی سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ وارث رضا کے مطابق بعد میں اُنھیں گلشنِ اقبال تھانے کے قریب لا کر چھوڑ دیا گیا جہاں سے وہ واپس گھر آگئے۔
یاد رہے کہ وارث رضا ان دنوں اردو روزنامہ ایکسپریس سے وابستہ ہیں۔ وہ ماضی میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سرکردہ رکن اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے مرکزی سیکریٹری جنرل کے منصب پر فائز بھی رہ چکے ہیں۔

Back to top button